سعودی بحران اور پاکستان کیلئے امدادی پیکج!

(Iftikhar Bhutta, )

آج کل حکمران اور تجزیہ کار ہر لمحہ کبھی امیدیں بڑھاتے اور کبھی مایوسیوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں جبکہ برقی میڈیا چند منٹوں کے بعد سنسنی خیز خبریں یعنی بریکنگ نیوز میں وکٹیں گراتا رہتا ہے تنقید سے مخالفین کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں الفاظ اور بانت بانت کی بولیوں سے چوکے چھکے لگائے جاتے ہیں چند دنوں سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کا ترکی میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں قتل زیر بحث ہے یہ واقعہ دراصل سعودی عرب کی خاندانی حکومت کا عکس ہے جو کہ ہر قیمت پر اقتدار کو بر قرار رکھنا چاہتی ہے سعودی عرب میں اظہار رائے پر پابندیاں ہیں وہاں پر قبائلی نظام ہے ، عوام کے کوئی حقوق نہیں ہیں مگر عالمی میڈیا پر کسی نہ کسی طریقہ سے خبریں آتی رہتی ہیں دنیا بھر میں ہر جگہ صحافی قتل ہو رہے ہیں لیکن سعودی صحافی کے قتل نے اس کو دنیا بھر کی خبر بنا دیا سعودی حکومت پہلے ان الزامات کی تردید کرتی رہی مگر اب قتل کو ماننے پر مجبور ہو گئی اور ساری ذمہ داری چند افسران پر ڈال دی گئی ہے جمال خاشقجی کا تعلق سعودی اشرافیہ سے تھا وہ امریکی مقبول اخبار واشنگٹن پوسٹ کیلئے لکھتا تھا اس کی تحریروں میں سعودی طرز حکمرانی پر تنقید کی جاتی تھی اس قتل کے حوالے سے سب سے شدید رد عمل ترکی کے صدر طیب اردوان کے پارلیمنٹ میں خطاب میں آیا سوال یہ ہے کہ ترکی کے صدر اس حوالے سے کیوں خساسیت کا مظاہرہ کر رہیہ یں اور قتل میں ملوث افراد کو سزا دلانے کا تیہا کیا ہے خود اپنے ملک میں ان کا جمہوری آزادیوں اور اظہار رائے کے حوالے سے ٹریک ٹھیک نہیں ہے طیب اردوان نے پہلی دفعہ 2003میں اقتدار سنبھالا تھا گزشتہ پندرہ سالوں میں میڈیا پر سنسر عائد ہے اور وہ حکومتی ترجمان بند کر دیا گیا ہے اس نے طاقت کے ذریعے اپوزیشن کو خاموش کرانے کی کوشش کی کچھ تجزیہ نگاروں کے بقول ترکی کے صدر اور سعودی صحافی کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی ہے اردوان کے رد عمل کی وجہ سیاسی معاشی اور جغرافیائی عوامل ہیں ترکی قطر کا قریبی خلیف ہے جبکہ سعودی عرب اس کے اتحادی عرب امارات قطر کے مخالفین میں شامل ہیں جنہوں نے اس کی اقتصادی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کی وہ ترکی ہی تھا جس نے سعودی عرب کی بھرپور مخالفت کی اشیائے خوردو نوش اور اپنی افواج قطر بھجوائیں آج بھی ترکی کا فوجی اڈا قطر میں موجود ہیں قطر نے ترکی کی اس حمایت کے بدلے پندرہ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی ترکی نے ایران اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات بنائیں ہیں اس طرح ایران ترکی اور روس ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں وہ القاعدہ اور داعش کو اپنا مشترکہ دشمن قرار دیتے ہیں روس اور ایران کے تعاون اور ترکی کی در پردہ حمایت تھے شام میں کانہ جنگی اور بشارت الاسد مخالفین کا خاتمہ ہوا ہے یہ تمام صورتحال اسرائیل امریکہ اور ان کے اتحادی کے مفادات کے خلاف ہے کچھ تجزیہ کاروں کے بقول مستقبل قریب میں اسرائیل اور امریکہ کی حمایت سے نیا اتحاد قائم کیا جا رہا ہے جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہونگے ، اگر شام میں بشارت الاسد کی حکومت کا تحتہ الٹ دیا جاتا ہے تو وہ بھی اس اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے جبکہ مخالف اتحاد میں ترکی ، قطر ، ایران شامل ہونگے جن کو روس کی حمایت مل سکتی ہے اس ساری مہم جوئی میں در پردہ طور پر ترکی امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ امریکہ اپنے پادری اینڈر یوسن کی رہائی چاہتا ہے ۔

صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے پہلے سعودی عرب کی طرف سے عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا مگر قتل نے تمام معاملات کو ہی تبدیل کر دیا ترقی یافتہ ممالک کے سربراہوں نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا دنیا کی چھ سو ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سے صرف چالیس کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ امریکی حمایت میں فرانس، برطانیہ، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے عہدیداران نے شرکت کرنا ضروری نہ سمجھا ، روس نے کانفرنس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی خیال تھا چار کھرب ڈالر کے معاہدے ہونگے مگر صرف ایران کو اور فرانسیسی تیل کمپنی سے 67بلین ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے اس طرح کانفرنس سے مطلوبہ نتائج نہ حاصل کیے جا سکے اس عالمی کشیدہ منظر نامے میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھرپور طور پر شرکت کی پاکستان کی سیاست معیشت ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے اظہار خیال کیا ، موقع سے غنیمت جانتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی درخواست کی اور کہا پاکستان کی اکثریت پنتیس سال سے کم عمر نواجوانوں پر مشتمل ہے جو ان کیلئے بہتر ورک فورس ثابت ہو سکتی ہے اس کے ساتھ انہوں نے معاشی خستہ خالی کا ذکر کر کے سرمایہ کاروں کو کوئی مثبت پیغام نہیں دیا ہے کیونکہ سرمایہ کاری ان ممالک میں نہیں آ سکتی جہاں پر معاشی سیاسی اور امن و آمہ کے مسائل ہوں ماضی میں بھی پاکستان میں کبھی بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوئی ہے آج ہم اس عہد میں پاکستان کیلئے سرمایہ کاری کیلئے اپیل کر رہے ہیں جبکہ سرمایہ کا بہاؤ تقرببا ختم ہو چکا ہے ماضی میں سویت یونین کے خاتمے کے بعد سرمایہ کی آزادانہ موومنٹ سے فلپائن، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ہندوستان، انڈو نیشیا اور ملائشیا نے فوائد حاصل کیے اور وہ ایشین ٹائیگر بن کر ابھرے جبکہ اس عرصے کے دوران ہم نے افغان جنگ میں حصہ لیا اور سرمایہ کاری کی طرف کوئی توجہ نہ دی اب بھی افغانستان کے حوالے سے صورتحال تبدیل نہیں ہوئی ہے کہ وہ ہندوستان وہاں پر دخل اندازی کر رہا ہے ہمیں ہندوستان سے تحفظات ہیں افغانستان ہم پر دہشت گردی کے حوالہ سے الزامات لگاتا رہتا ہے ایران کے سپہ اغواء کے بعد صورتحال نارمل رہی ہے جبکہ وہ سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت کے حوالے سے خاصے تحفظات رکھتا ہے سعودی عرب صحافی کے قتل کے بعد خاصے دباؤ میں ہے اس کو اس وقت ایسے ممالک اور عالمی لیڈروں کے حمایت کی ضرورت ہے جو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی بات کرنے کی بجائے ولی عہد محمد بن سلیمان کی حمایت میں کھڑے ہوں ایسے میں سعودی عرب کے پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن میں بحران کو ختم کرنے کیلئے اور زر مبادلہ کے ذخائر کے استحکام کیلئے تین ارب ڈالر کا ایک سال کیلئے پاکستان میں رکھنے اور اتنی رقم کی تیل ادائیگیوں موخر کرنے کا اعلان کیا ہے ان خالات میں سعودی قرضوں کی اشد ضرورت تھی لہذا کانفرنس کے بائی کاٹ کرنے کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا تھا ان خالات میں سعودی عرب کی چند عرب ڈالر کی امداد پاکستان کے بھرپور تشکر کا ایک ذریعہ ہے تحریک انصاف کی حکومت اس کو عمران خان کی بھرپور کامیابی قرار دے گی کیونکہ اس قرضے سے پاکستانی معیشت کو سانس لینے کی گنجائش ملی ہے اب اس کو معیشت کو قدموں پر کھڑے کرنے کیلئے دیگر اقدامات کرنے ہونگے ، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے عالمی رائے عامہ کے بر عکس سعودی عرب کا ساتھ دے کر دوستی کا حق ادا کیا ہے عمران خان ملکی معاشی صورتحال کو اس کی کمزوری قرار دے چکے ہیں ۔

حکومت کو معیشت کے ساتھ سیاسی کھیل نہیں کھیلنا چاہیے صرف اپوزیشن پر الزام لگانے اور کرپشن کا راگ الاپانے سے کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ہے حکومت کو سیاسی نعرے سے بہتری کی بجائے سنجیدہ ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس میں حکومتی آمدنی میں اضافہ افراط زر بلیک منی مارکیٹ پر کنٹرول سمگلنگ کی روک تھام ، برآمدات میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے پاکستان کا مثبت امیج ابھارنے کی ضرورت ہے عمران خان نے سعودی عرب کے دورہ کے بعد ٹیلی ویژن پر خطاب میں کوئی نئی بات نہیں کی ہے وہ وقتی طور پر اقتصادی ریلیف پر کچھ جذباتی دیکھائی دیتے ہیں تا ہم ایسی امداد سعودی عرب ماضی میں بھی کرتا رہا ہے موجودہ حکومت کو نعروں وعدوں اور خواب دیکھانے کی خوش فہمیوں سے باہر نکلنا ہوگا اور سنگینی حالات کا ادراک کرنا ہوگا یہ الزام تراشی ملکی مسائل کا حل نہیں ہے سعودی عرب اور یمن ثالثی کے بارے میں خواہشات کا اظہار اور اس کے پیش منظر دائرہ کار کے بارے میں سر دست کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔

عمران خان کی نیت اچھی ہے وہ خود کرپٹ نہیں ہے پاکستان کی معیشت غیر قانونی پرمٹوں پر بھروسہ کرتی رہی ہے ایکسپورٹ ری فنانس کو جائیداد کی خریدو فروخت کیلئے استعمال کیا گیا سرکاری زمینیں الاٹ ہوتی رہیں صنعتی پلاٹوں کی لوٹ سیل لگی رہی گیس اور بجلی کی چوری جاری رہی جس میں سابقہ موجودہ حکمران طبقات صنعت کار سول اور ملٹری بیورو کریٹ شامل ہیں جنہوں نے رشوت کک بیکس اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے اربوں کی جائیدادیں بنائی ہیں اس ناجائز دولت کی رکوری کیلئے کوئی قانون سازی نہیں کی جا رہی ہے، ہمارے امیر طبقات نے ہمیشہ ریاست سے رعاتیں اور معافی طلب کی ہے وہ کالے دھن کو سفید کرنے مافی چاہتے ہیں مگر ریاستی الزامات کے باوجود کالا دھن واپس نہیں آیا ہے ٹیلی ویژن پر مصروف دانش ور اور ماہر معاشیات کالے دھن کے منفی اثرات کے بارے میں کچھ نہیں کہتے ہیں منڈی کارپوریٹ اور صنعتی سیکٹر میں ایک اضطراب ہے سرمایہ کاری اور برآمدات کیلئے ہوسٹائل رویے اختیار کرنے کی بجائے معتدل اور استحکام پذیر پالیسیوں کی ضرورت ہے جس کیلئے سیاسی مفادات سے قطہ نظر عالمی معاشی سیاسی اور فوجی تناظر میں سوچنا ہوگا کیونکہ مسائل کوئی تنہا قیادت جماعت اور ادارہ نہیں کر سکتا ہے ہمیں فکری ہم آہنگی اور عملیت پسند پالیسیاں بنانی چاہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Iftikhar Bhutta

Read More Articles by Iftikhar Bhutta: 7 Articles with 3035 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 591

Comments

آپ کی رائے