پہلا, دوسرا اور تیسرا پہلو!!!

(Muhammad Naeem Shehzad, )

جس ملک میں فوج کے سربراہ کو اپنا عقیدہ اور عزت محفوظ کرنے اور جھوٹے الزام کے رد کی خاطر محفل میلاد منعقد کرنی پڑے اور چیف جسٹس کو درود ابرہیمی اور تجدید عشق رسول ص کی باتیں کرکے صفائیاں دینی پڑیں وہاں آپ اور میں ضرور سوچیں کہ ہم پر کب یہ نوبت آئے گی؟

اور رہ گئی اقلیتوں کی بات تو وہ تو پہلے ہی کافر ہیں لہذا ان کی بے گناہی اور قصور کا ہونا اہم نہیں بلکہ ہماری اجارہ داری کا جھنڈا سر بلند رہے یہ اہم ہے۔

آسیہ چوڑی واقعی کسی بیرونی ڈکٹیٹیشن پر عمل کے نتیجے رہا ہوئی ہے ورنہ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس تک کے عہدے پر براجمان مسلمان مجبور ہیں الزامات و فتوے سننے اور پھر افاہم و تفہیم سے اپنی صفائی دینے پر لیکن امان ان کو پھر بھی نہیں تو وہاں آسیہ چوڑی پر پورے پنڈ نے کیس دائر کرکے گواہیاں دی اور دو بار سزائے موت کا فیصلہ ہوا تو تیسری دفعہ وہ کونسے سپارے سنا کر رہا ہوگئی؟

ادھر کسی کا عشق اور ایمان محفوظ نہیں جب تک وہ توڑ پھوڑ نہ کرے یا اس تخریبی عمل کا دفاع نہ کرے تو جس پر توہین ثابت ہوچکی تھی اور جو اقرار کرچکی تھی وہ بڑی عدالت میں ایک ہی پیشی پر کیسے رہا ہوگئی صرف باتوں ہی باتوں میں؟

پھر سوال تو اٹھنے بنتے ہی ہیں کہ جنوری 2018 میں پاکستانی انگلش اخبار کی ایک جلی حروف تہجی سے شائع خبر بتاتی ہے کہ یورپی یونین نے آئندہ تجارتی اصطلاحات و رعایات اور سبسڈیز کو آسیہ کی رہائی سے مشروط کیا ہے, پھر امریکی انسانی حقوق کا ادارہ آسیہ کی رہائی کو خوش آئند قرار دیکر تھپکی دے رہا ہے اور ساتھ ہی امید جتا کر ڈکٹیٹ کررہا ہے کہ مزید چالیس گستاخ رسول ملعون جو قید ہیں پاکستانی جیلوں میں انہیں جلد از جلد رہا کرو, پھر گیرٹ ویلڈر جیسا متعصب و ملعون شخص پاکستان کے اس متنازعہ فیصلے پر خوش ہورہا ہے اور دامے درمے سخنے اپنا بغض نکال رہا ہے, اور وہ فرانس کی پارلیمنٹ میں آسیہ کی رہائی پر خوشی کے شادیانے بجنا اور نعرے بلند ہونا بھی یاد رہے, اور پوپ کا شکر گزار ہوکر آسیہ کا منتظر ہونا اور لبرل طبقے کا ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ ڈالنا وغیرہ سب عوامل اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرنے کو کافی ہیں کہ گل وچوں کج اور ای اے؟

اور ایک بات تو میں بتانا ہی بھول گیا کہ کل ایک پادری سیمسول نامی اکابر پاکستانی اردو سپیکنگ عیسائی رہنما کی تازہ ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس نے بیس منٹ تشریف کا زور لگا کر یہ بات ثابت کی کہ آسیہ نے جو گستاخی کی وہ دراصل کڑوا سچ ہے نعوز باللہ اسلام اور سیرت نبی ص کا اور آسیہ قطعی گستاخ نہیں بلکہ اس نے جو کلمات ادا کیئے وہ حق ہیں اور میں اس کی بھرپور تائید کرتا ہوں۔

مطلب طاغوت کا جشن منانا اور پھر ایک عیسائی رہنما اور پادری کا امریکہ میں بیٹھ کر آسیہ کے گستاخانہ کلمات کی ناصرف تصدیق کرنا بلکہ تائید کرنا اور پوری دنیا کی اینٹی اسلام قوتوں کا ناچ ناچنا آسیہ کی رہائی پر قطعی اتفاق نہیں اور اب تو یہ خبریں بھی مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں کہ آسیہ بمع اپنے خانوادے کے فیصلے والے دن ہی تین گھنٹے کے اندر کاغذات تیار کرواکر مخصوص طیارے میں سوار ہوکر کینیڈا چلی گئی ہے اور اس کی تصدیق امریکی میڈیا دو دن سے کررہا ہے کہ وہ بخیر و عافیت کینیڈا پہنچ چکی ہے۔

ہمیں نہیں پتہ کہ اس میں کتنا سچ اور جھوٹ ہے پر عواقب اسی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ابتک حکومت پاکستان کی طرف سے اس خبر کی تردید نہیں آئی اور نہ ہی کسی مشتعل ملاء نے اس خبر کو اہمیت دیکر براہ راست سوال کیا ہے کہ معاملہ کلیئر ہوسکے؟

حضور میں یقین کرنا چاہتا ہوں مائی لارڈ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کہ آپ نے انصاف کے تقاضے پورے کیئے ہیں اور فیصلہ بر آئین و شرعیت کیا ہے پر سرکار یہ پراسرار حرکات اور عجلت اور اینٹی اسلام قوتوں کا جشن اور مزید گستاخان کی رہائی کا مطالبہ حلق سے نیچے نہیں جانے دے رہے اس متنازعہ فیصلے کو اور آپ کے کردار کو۔

پھر آپ کی وہ درفطنی اس کیس کے ٹرائل والے دن 13 اکتوبر کو جو آپ نے چھوڑی تھی کہ

"عاصمہ جہانگیر میری آپا تھی اور استاد تھیں۔"

سمجھ سے بالاتر ہے کہ قوم آپ سے اس بابت پوچھ نہیں رہی پر آپ خود کی متوقع شرمندگی زائل کرنے کی خاطر خود ہی ایک ایسی خاتون کا نام خود سے سرعام جوڑ رہے ہیں جو خود ماضی کی نامور گستاخ رسول ص تھی اور ساری زندگی اینٹی اسلام اور قادیانی نواز رہی اور اس کا ہر قول و فعل اسلام و پاکستان کے خلاف رہا۔

اب ہم حق بجانب ہیں آپ پر اور آپ کے فیصلے پر شدید مشکوک ہونے کے لیئے کہ آپ ایک ملعونہ و غدار وطن خاتون کے شاگرد اور بھائی کہلوانے میں مسرور و مشکور ہیں, امریکی آپ پر خوش ہیں, پھر آپ کا فیصلہ یوروپی یونین کی شرط کے عین مطابق ہے, پھر آپ کی عجلت اور صفائیاں اس کیس پر حیران کن ہیں, پھر آپ کا قومی اداروں کی تین دفعہ نشاندہی اور آخری رات فون پر تکبرانہ رویہ اور ہٹ دھرمی مجبور کرتا ہے کہ اب آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور آپ کی منصفی پر شدید جراح کی جائے۔

میں باوجود اتنے شکوک شبہات اور متنازعہ پہلوؤں کے اس عمل کے بھی خلاف ہوں کہ عوام عدالت کی غلطی عدالت میں سدھارنے اور چیلنج کرنے کے بجائے شاہراؤں پر نکلے اور نہ صرف نکلے بلکہ توڑ پھوڑ اور املاک کو شدید نقصان جیسا قدم اٹھائے اور مذہبی رہنما قانونی جنگ لڑنے کے بجائے فوج, عدلیہ اور حکوت پر کفر اور قتل کے فتوے دیں اور فوج خوارج جیسا ایکشن لینے کے بجائے لاتعلقی دکھائے, عدلیہ ہاتھ کھڑے کردیں اور حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے۔

بہرحال جھول اور شکوک شبہات ہر سٹیک ہولڈر کے ساتھ تب تک چپکے رہیں گے جونکوں کی طرح جب تک یہ کیس دوبارہ کھل کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہیں ہوتا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Naeem Shehzad

Read More Articles by Muhammad Naeem Shehzad: 138 Articles with 46181 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2018 Views: 383

Comments

آپ کی رائے