سیاسی طغیانی کے بعد مٹی میں دھنسا ہوا ڈرم

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
سیاسی طغیانی کے بعد لندن پلان ایسا تارکول بھرا ڈرم ہے جو سیلابی مٹی میں پھنسا ہوا ہے انفرادی قوت اس کو نکالنے میں ناکام ہے ۔ کیا ہمارا اجتماعی سیاسی شعور اس قابل ہے کہ ۔۔۔

لاہور ہائیکورٹ کا راولپنڈی بنچ پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے ، جی ٹی روڈ کے ذریعے راولپنڈی سے لاہور جانے والوں کو دور سے نظر آتا ہے۔ اسی پہاڑی کے نیچے سواں بس اڈہ ہے اور اس اڈے سے متصل ایک پل کانام بھی سواں پل ہی ہے جس کے نیچے سے دریاے سواں گذرتا ہے اورراولپنڈی سے آنے والا نالہ لئی بھی اسی مقام پر ان پانیوں میں گڈمڈ ہو جاتا ہے۔بالائی علاقوں میں بارش کے بعد سارا پانی اسی پل کے نیچے سے طغیانی بن کر گذرتا ہے ۔ راہ گیر اس پل پر کھڑے ہو کر بپھرے پانیوں کی طاقت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور پل کے نیچے سے گذرتے بپھرے پانیونوں کی طاقت کے شاہد بنتے ہیں۔اسی پل پر کھڑے ہو کر ایک سیلاب کے دوران میں نے دیکھا تھا کہ پانی بڑے بڑے ڈرم دبوچ کر اپنے ساتھ لے جا رہا تھا۔ ایک ہفتے بعد راولپنڈی سے چک بیلی خان جاتے ہوتے میں نے ایک ڈرم اسی دریا کے پاٹ میں زمین میں دھنسا ہوا دیکھا تھا۔میرا خیال ہے کہ انفرادی طور پر لوگوں نے لوہے کے اس ڈرم کو جو تارکول سے بھرا ہوا تھا ، نکالنے کی ناکام کوشش کی ہو گی مگر اجتماعی طاقت سے یہ ڈرم باہراور زیر قبضہ آسکتاتھا ۔ شاہد ہماری اجتماعی خلاقیات ابھی اس قدر نہیں گری ہے۔

سیاسی واقعات بھی طغیانی کی مانند ہوتے ہیں ۔ سیلاب اتر جانے کے بعد کئی ْ ڈرمْ مٹی میں دبے رہ جاتے ہیں ۔ پاکستانی سیاست میں ایک طغیانی 2014 میں اسلام آباد میں آئی تھی۔126 دن کے دھرنے اور ماڈل ٹاون میں معصوم لاشوں کی یادگار کی صورت میں کئی ْ تارکول بھرے ڈرم ْ اہل بصارت کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے اس سیاسی سیلاب کا منبع لندن تھا اور مقدار و والیم کے والو چند افراد کے ہاتھ میں تھے۔ اس مصنوعی طغیانی کے بہاو میں جن کوآنا تھا ان میں پاکستان چین معاشی رہداری کی نیم سوختہ اینٹیں اور نون لیگ کے وزیر اعظم کی کرسی شامل تھی۔

عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈا پور نے ’’دنیا ‘‘ ٹی وی کے اینکر معیز پیر زادہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ لندن پلان کے حوالہ سے جو خبریں آتی رہی ہیں وہ درست ہیں ۔ ہمارے سربراہ طاہر القادری صاحب سے لندن میں عمران، چودھری پرویز اٰلہٰی اور چودھری شجاعت حسین نے ملاقات کی تھی اور یہ طے ہوا تھا کہ نواز حکومت کو گرانا ہے۔

ایم کیو ایم کے ممبر قومی اسمبلی سید علی رضا عابدی نے گنڈا پور صاحب کے بیان کی تائید میں بیان دیاتھا کہ قادری صاحب نےایم کیو ایم لندن کے سیکرٹریٹ کو فون کر کے پیشکش کی تھی کی حکومت گرانے میں ان کا ساتھ دیا جائے توبدلے میں کراچی ایم کیو ایم کےحوالے کر دیا جائے گا

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نےلندن پلان بارے ایک نجی ٹی وی کو آنٹر ویو یتے یوئے
تصدیق کی کہ 2014ء میں لندن پلان تشکیل دیا گیا اور ہم اس پلان کے اہم کردار تھے۔ ہمارا مقصد ملک میں نظام کی تبدیلی تھا اس لیے ہم لندن پلان میں شامل ہوئے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں علم تھا کہ اس پلان کو عملی جامعہ پہنانے والے نظام تبدیلی نہیں صرف نواز شریف حکومت ہٹانا چاہتے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان میں نظام کی تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں سب کا کڑا احتساب ہو اور موجودہ پارلیمانی نظام کو بھی تبدیل کیا جائے۔ یہ نظام ملک میں کرپشن اور بد امنی کی بڑی وجہ ہے۔ جس کے بعد ہم نے لندن پلان میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ کیا

مخدوم جاوید ہاشمی صاحب نے بھی اس سخن کو اپنا موضوع بنایا اور کہا خود عمران خان نے ان سے لندن میں رابطوں کی تصدیق کی تھی۔ہاشمی صاحب نے تو پلان بی، سی اور ڈی کی موجودگی کا بھی ذکر کیا تھا۔اور جیو نیوز سے وابستہ مرتضیٰ علی زیدی کی یہ شہادت بھی موجود ہے کہ 28, 29۔ اور 30 جون کو برطانوی شہری زلفی بخاری کے دفتر میں یہ ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

ان ملاقاتوں کو میڈیا مین لندن پلان کا نام دیا گیااور روزنامہ امت نے اس بارے میںلکھا تھا کہ لندن پلان کا مقصد اقتصاد ی راہداری کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنا ہے ۔قادری کے منصوبے میں برطانیہ ، امریکہ بھارت اور ایران کے نام سامنے آئے ۔ طاہر القادر ی کو کلبھوشن کی گرفتاری کے بعدپاکستان بھیجنے کا منصوبہ نایاگیا ۔اسی سال مارچ کے آخری عشرے میں طاہر القادری صوفی کانفرنس کی آڑ میں بھارت گئے تھے۔ جہاں 18مارچ کو ان کی ملاقات بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راکے اعلیٰ افسران سے کرائی گئی اخبار کے مطابق ملاقات کا مقام دہلی میں راکا ذیلی ادارہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفینس اسٹڈیز اینڈ اینالیسز تھا اور قادری کو منصوبے کے بارے میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی چیئرمین بریگیڈئر (ر) رومل ڈاھیا نے بریف دی تھی ۔ اور طاہر القادری کو یہ مشن سونپا گیا کہ پاکستان میں کسی بھی صورت فرقہ ورانہ کشید گی کو ہوا دی جائے ۔ تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر اتنی سست ہوجائے کہ چین اس منصوبے سے اکتا جائے ۔ طاہر القادری بظاہر پاناما لیکس کے دبائو کا شکار نواز حکومت ایک دھکا اور دینا چاہتے تھے ، لیکن اس موقع پر بھارتی حکومت کی توجہ کا مرکز طاہر القادری تھے ۔ جو پاکستان کے لیے ایک نیا منصوبہ
importance of moderate islam for south east asia
کے عنوان سے بھارتی انسٹی ٹیوٹ میں پیشکر چکے تھے ۔ طاہر القادری نے پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور مداخلت کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تائید کرنے کی بجائے مذمت کی اور بھارتی ٹی وی چینل اے بی این کو انٹرو یو دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے موقف کو درست نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے بھارت پر لگائے جانے والے کسی بھی الزا م کی تائید نہیں کرتے اور پاکستان کو بھارت کے تحفظات پر غور کرنا چاہئے ۔ مارچ 2016میں طاہر القادری کو پورے بھارت کا دورہ کرایا گیا ۔ اس دوران وہ راجستھان ، آندھراپردیشن اور حیدر آباد دکن بھی گئے بھارتی حکومت کی جانب سے طاہر القادری کی جماعت منہاج القرآن کے نام سے پورے بھارت میں شاخیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ۔

نمائندہ ایکسپریس کے مطابق شہباز شریف نے 19 ستمبر 2014 کوکہا کہ لندن پلان کے پیچھے وہی لوگ ہیں جنھوں نے قرضے معاف کرائے اور پنجاب بینک میں ڈاکے ڈالےہیں

نواز شریف نے کہا کہ لندن پلان بےنقاب ہوگیا ۔ عمران خان اور طاہر القادری کی لندن ملاقات کا حال سب کے سامنے ہے ۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف کوارڈینیٹر پاکستان مسلم لیگ ن محمد صدیق الفارق نے کہا کہ لندن پلان بنانے والوں کا منصوبہ ہے کہ لاشیں گرا کر اور مظلوم بن کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں۔ لندن پروگرام بے نقاب ہونے کے ڈر سے قادری چودھری گٹھ جوڑ نے عدالتی کمیشن کے بائیکاٹ کا علان کیا ہے۔

ہائی کورٹ نے 1990 میں طاہر القادری کو جھوٹا مکار قرار دیا ۔ لوگوں کا اس پر اتفاق ہے کہ لندن پلان اسٹبلشمنٹ نے تیار کیا ہے اور اس کی وجہ نواز شریف کی جانب سے افغانستان اور بھارت بارے ڈیپ سٹیٹ یا تزویراتی گہرائی کی پالیسی سے اتفاق نہ کرنا اور مشرف کے ٹرائل پر اصرار کرنا ہےاور پاکستان میں ملٹری بزنس کے مفادات کے آڑے آنا ہے-

جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں اشاروں کی صورت میں قادری و عمران کے دھرنوں و انقلاب کو انھوں نے بھی اسٹبلشمنٹ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا اور ظہیر الاسلام کے ذھن کا مشترکہ منصوبہ قرار دیا لندن پلان کے شور ہی میں لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن رونما ہوا تھامحمد صدیق الفاروق نے کہاتھا سانحہ ماڈل ٹاون سازش ہے-

سلیم صافی کے بقول “لندن پلان ” کا بلیو پرنٹ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور سی آئی اے نے تیار کیا اور اسے کینیڈین حکام کے حوالے کیا – یہ لندن پلان مغربی ملکوں نے پانچ سال پہلے تیار کرلیا تھا اور اس کی بنیادی وجہ مغربی ملکوں کا یہ یقین تھا کہ دیوبندی سلفی انتہا پسند عالمی جہاد پاکستان سے بیٹھ کر چلارہے ہیں اور ان کو روکنے کے لیے ان کا ٹکراؤ سنی صوفی بریلوی اور شیعہ سے کرانا بہت ضروری ہے – بقول سلیم صافی مغربی طاقتوں نے نے یہ کام ڈاکٹر طاہر القادری کے سپرد کردیا اور ڈاکٹر قادری نے اس پلان پر عمل درآمد کرنے کے لیے ایک طرف تو پاکستان میں شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین اور سنّی بریلوی تنظیم سنّی اتحاد کونسل کا سہارا لیا اور بعدازاں اس میں چوہدری شجاعت حسین ، چوہدری پرویز الہی بھی شامل ہوگئے- سلیم صافی کے بقول اس کی کچھ کڑیاں جو مل نہیں رہی تھیں وہ جاوید ہاشمی نے ملادیں کہ عمران خان بھی اس پلان میں شامل تھے اور لندن میں ان کی قادری اور چودھری شجاعت سے ملاقات ہوئی تھی سلیم صافی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے میں آصف زردای کا ڈبل رول ہے اور ان کے کہنے پر چودھری برداران، قادری کے ساتھ ہوئے اور اب تک ان کے ساتھ ہیں-

سیاسی طغیانی کے بعد لندن پلان ایسا تارکول بھرا ڈرم ہے جو سیلابی مٹی میں پھنسا ہوا ہے انفرادی قوت اس کو نکالنے میں ناکام ہے ۔ کیا ہمارا اجتماعی سیاسی شعور اس قابل ہے کہ اس پھنسے ہوے ڈرم کو نکال کر کنارے لگائے تاکہ سیاسی پانی کا بہاو رواں دوان رہے اور ایک اور جمہوری حکومت کسی اور پلان کے نتیجے میں گرنے پر مجبور نہ ہو -
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 55301 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Nov, 2018 Views: 285

Comments

آپ کی رائے