تحریک لببیک, دھرنا,توڑ پھوڑ اور حکومت کا کردار!!

(Babar Alyas, Chichawatni)
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں اس حوالے سے مقدمات زیرسماعت ہیں۔حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے پر قائم رہے اور اس پر من و عن عمل بھی کیا جائے.
لیکن جن جن لوگوں نے عوامی املاک کو نقصان پہنچایا ,زندگی کو مفلوج کیا, بے گناہ پاکستانیوں کو مارا اور انکی چیزوں کو نقصان پہنچایا جو اسلامی تعلیمات کے عین خلاف احتجاجی عمل تھا ان کے خلاف کارروائی لازمی کرنا بھی حکومت کی ذمہداری ھے.
تحریک لبیک بھی فساد کرنے والوں کے خلاف کارروائی پر تمام اہل علم ؤ وطن متفق ہیں. تحریک لبیک پر پابندی کا کوئی ارادہ ھے یا نہیں یہ الگ موضوع ھے. لیکن ملک میں انتشاری عمل کی گنجائش نہیں ھونی چاہیے.میرا خیال ھے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہئے لیکن اگر کسی کا قول ؤ فعل, اسکا بیانیہ پاکستان کے آئین , قومی سلامتی اور اتفاق و اتحاد کے خلاف ہو تو ان کے خلاف کارروائی ضرور کریں اور کرنا حکومت وقت کا فرض بھی ھے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی صورت حال پیدا نہ ہو اور اگر ھو تو اسکے تدارک کے لیے موثر حکمت عملی بھی موجود ھو،کیونکہ حکومت اور ریاست کا کردار ماں کی طرح ہوتا ہے اور حکومت کی اولین ذمہ داری امن ,سکون ,سلامتی , عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا, اور نظام زندگی کو بحال کرنا رکھنا ....اللہ پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرماۓ آمین

سپریم کورٹ کے مسیحی خاتون آسیہ بی بی سے متعلق فیصلے کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں املاک کو نقصان پہنچانے والے سیکڑوں افراد کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے جب کہ 1800 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق بھی تحریک لبیک پاکستان کے ملک بھر کے دھرنوں کے دوران توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث 1800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔وزرات داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ شرپسندوں کیخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے اور کاروائی عمل میں لائی جاۓ گئ. اب تک اسلام آباد میں 700 افراد کیخلاف مقدمات درج ھو چکے ہیں یہ مقدمات جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کیخلاف ملک بھر میں درج کیے جا رہے ہیں اور کریک ڈاؤن اس طرح کے 13 ملزمان گرفتار بھی ھو چکے ہیں مختلف اضلاع میں .اس طرح وفاقی دارالحکومت میں بھی 700 معلوم اور نامعلوم افراد کو مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے اور اب تک 75 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔اسلام آباد پولیس نے 26 گرفتار ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سید کوثر عباس زیدی صاحب کے روبرو پیش کیا۔عدالت نے تھانہ آئی نائن کے مقدمہ میں گرفتار 10 مظاہرین کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا جب کہ تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں توڑ پھوڑ پر گرفتار 16 مظاہرین کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا۔ڈی سی اسلام آباد کے مطابق ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرنے والے 33 افراد کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائی جاری ہے۔پنجاب ,اسلام آباد کی طرح کراچی سمیت سندھ بھر میں 61 افراد کیخلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں.کراچی پولیس کے مطابق شہر میں 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک ہونے والے دھرنے اور ہنگامہ آرائی پر مختلف تھانوں میں مزید 34 مقدمات درج کیے جاچکے ہیں جن میں دفعہ 144 اور روڈ بندش کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس کےمطابق ضلع جنوبی میں 4، شرقی میں 3، ملیر میں 6 اور کورنگی میں 15، غربی میں ایک اور ضلع وسطی میں 5 مقدمات درج کیے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر سے 61 افراد کو مقدمات میں نامزد کیاگیا ہے جن میں سے اب تک کورنگی 2 اور جلع وسطی سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ شہید بے نظیر آباد سے بھی 2 افراد گرفتار ہوئے ہیں.پولیس کے مطابق پنجاب شیخوپورہ میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے 5 مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے تحت 70 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہےکہ گرفتاریاں فیکٹری ایریا، خانقاہ ڈوگراں اور صدر شیخوپورہ سے کی گئیں اور تمام افراد کو ویڈیوز کی مدد سے نشاندہی کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں ہنگاموں کے دوران ایک بس، کاروں اور موٹر سائیکلوں کو جلایا گیا، مظاہرین نے 34 پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کیا۔اسی طرح فیصل آباد پولیس نے آسیہ بریت کیس کے فیصلے کیخلاف احتجاجی تحریک کے دوران توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، خوف و ہراس پھیلانے، زبردستی راستے اور دوکانیں بند کرانے کے الزام میں 34 مقدمات درج کیے ہیں۔پولیس نے مختلف مقدمات میں مطلوب 94 ملزمان کو گرفتار کرلیا.نوشہرہ پولیس نے رشکئی انٹرچینج کو آگ لگانے والے مظاہرین میں سے 17 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ مظاہرین کیخلاف تھانہ رسالپور میں 2 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔اسی طرح قصور کے علاقے ملتان روڈ جمبر میں مظاہرین نے یکم نومبر کو احتجاج کے دوران ڈی ایس پی سمیت 7 پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا۔فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے 48 نامزد اور 252 نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ھے. دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں حالیہ دھرنوں کے دوران توڑ پھوڑ کرنے والے شناخت کیے گئے شرپسندوں کی فوری گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں ایف آئی اے ، نادرا اور پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرلز سے شرپسندوں کی شناخت پر رپورٹس طلب کرلی گئی ہیں جب کہ شرپسندوں کی شناخت و گرفتاری کے لیے وزارت دفاع سے مدد حاصل کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ملزمان کی شناخت میں مدد کے لیے وزارت داخلہ نے شکایات سیل قائم کردیا ہے، ویڈیو اور تصاویر فراہم کرنے والوں کا نام اور نمبر صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔محکمہ داخلہ پنجاب اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بھی وٹس ایپ نمبر جاری کردیئے ہیں۔’قانون کا مذاق بنانے والوں کو نشان عبرت بنایا جائےگا‘وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانے اور قانون کا مذاق بنانے والوں کو نشان عبرت بنایا جائےگا اور سمجھوتا کسی سے نہیں ہوگا۔وزارت داخلہ نے املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی تصاویرجاری کردیں.محکمہ داخلہ پنجاب نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ریجنل پولیس آفیسرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ جو بھی شکایات موصول ہوں وہ محکمہ داخلہ پنجاب کوبھجوائیں، جن لوگوں کے پاس شرپسند عناصر کی ویڈیوز موجود ہیں وہ کال یا واٹس ایپ کریں۔شہری محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نمبر 03231418945 پر فوٹیجز واٹس ایپ بھی کر سکتے انکا نام پتہ راز میں رکھا جاۓ گا. محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق دھرنے کے شرکاء اور اعلٰی قیادت نے املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کیلئے درخواست پر سماعت ھورہی ھےجب کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاطر محمود صاحب درخواست پر سماعت کریں گے۔درخواست گزار نے نشاندہی کی ہے کہ احتجاج کے دوران سرکاری اور عوامی املاک کو شدید نقصان پہنچا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے لیکن پنجاب حکومت یہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی۔درخواست گزار نے استدعا کی ہےکہ حکومت کو شہریوں کے نقصانات کے ازالے کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ توہین رسالت کے جرم میں ماتحت عدالتوں سے سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر کو خاتون کی رہائی کے احکامات جاری کیے جس کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔احتجاج کے دوران کئی شہریوں میں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی ,نظام زندگی مفلوج ھوا اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے کئی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی تھی۔

نوٹ..
مکمل وضاحت اس لیے درج کی ھے کہ مجھے اور آپکو تصویر کے دونوں رخ سمجھ آ جاہیں.....
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90927 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
13 Nov, 2018 Views: 360

Comments

آپ کی رائے