دِل کا چین ،خوابیدہ نین

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

آج حامد اچانک کسی کام کا کہنے سانولی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سو رہی تھی ۔
حامد کُچھ کہتے کہتے رُک گیا بلکہ اُسے ایسا محسوس ہوا کہ وقت رُک گیا ۔ اُس کے قدم جہاں تھے وہیں ساکت ہو گئے۔
سانولی بھی بے حِس و حرکت
، ساکت و ساکن سو رہی تھی ۔ اُس کے چہرے پر کتنا سُکون تھا جیسے صدیوں بعد سوئ ہو اور صدیوں سے سو رہی ہو جیسے وہ غار والے سو رہے تھے جن پر قدرت نے نیند طاری کر دی تھی جو سوتے میں اپنے زمانے سے کہیں آگے نکل کر برسوں بعد والے زمانے میں پہنچ کر اُٹھے تو دُنیا بدل چُکی تھی ۔ اتنے برس بیت چُکے تھے کہ جو پیسے اُن کی جیب میں ہونگے وہ بھی بازار میں نہیں چل رہے تھے۔

حامد کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی طرح سکون سے سوتی رہے اور وہ اُسے خوابوں کے مزے لیتا دیکھتا رہے جو وہ سوتے میں ایک طرف کروٹ لئے لے رہی تھی۔ اُسے کروٹ کروٹ چین نصیب ہونے کے بجاۓ ایک ہی کروٹ میں سمٹے پیروں کے ساتھ نصیب ہو رہا تھا۔
وہ سو رہی تھی اور اُس کا نصیب جاگ رہا تھا ۔ اُس کو دیکھتے دیکھتے حامد کا نصیب جاگنے لگا اور وہ سونے کے لئے اپنے کمرے کی طرف جانے لگا۔

نیند کی خوبصورتی اور
بیداری کے حُسن کا بھی الگ الگ ذائقہ ہوتا ہے ۔ ایک مشہور کہانی بھی یاد آنے لگی جس کا نام " سوتی خوبصورتی " sleeping beauty ہوا کرتا تھا جو بچپن کی بے فکری کی بیداری میں سُنتے سُنتے بے فکری کی نیند کی وادیوں میں پہنچ جاتے تھے اور بے فکر اُٹھ کر بے فکری سے کھیلنے لگتے تھے۔

حامد کام بھول کر اپنے کمرے میں جا کر سکون اور بے فکری سے اُسی کا تصور لئے اُسی طرح سو گیا ۔

جب اُٹھا تو وہ یہ سوچ رہا تھا کہ ہم اپنی زندگی میں کتنی بے چینیاں پال رہے ہیں ۔ ہمیں اپنی بے چینیاں اور ڈپریشن بہت عزیز ہیں ۔
اور اُن فکروں کو نہ صرف گلے سے لگا کر رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس میں مُبتلا کرتے رہتے ہیں ۔

اگر ہمیں دن کا چین اور رات کی نیند نصیب ہو تو اس سے بڑی کوئ نعمت نہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91591 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Nov, 2018 Views: 277

Comments

آپ کی رائے