پاکستان اسپیشل سروس فورس دنیا کی خطرناک ترین فورس

(Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
لیکن ملک میں امن و سلامتی بھی ضروری

کسی بھی ملک کی فوجی طاقت ، اس ملک کی بقاء و ترقی اور سلامتی کیلئے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ اپنی طاقت اور قوت کے نشے میں ہی عالمی سطح پر اپنا لوہا منوانے کی بھرپور کوشش کرتا رہاہے۔ روس اور چین بھی دنیا میں امریکہ سے آگے نہیں تو کم از کم برابر ہونے کا احساس دلاتے رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور روس اور مغربی و یوروپی ممالک مل کر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو فوجی طاقت و قوت اور سازوسامان کروڑہا ڈالرس کے عوض فروخت کررہے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے بغیر عالمِ اسلام کے حکمراں اپنے اقتدار پر فائز نہیں رہ سکتے ۔ شاید اس میں حقیقت بھی ہے۔چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلہ میں اپنی ایک تقریر کے دوران سعودی عرب کے حکمراں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے کسی وقت کہے جانے والے الفاظ دہرائے ، انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی امداد کے بغیر سعودی حکمراں کا ،اقتدار پر دو ہفتہ رہنا بھی مشکل ہے۔ اس کے جواب میں ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی حکمراں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ سعودی عرب مفت میں امریکی فوجی امداد حاصل نہیں کرتا بلکہ کروڑہاڈالرس اس کے لئے ادا کئے جاتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قدیم اور خوشگوارتعلقات پر بھی انہوں نے توجہ دلائی ، اس کے ساتھ ساتھ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ ایک طرف امریکہ سعودی شاہی حکومت کو نیچا دکھانا چاہتا ہے تو دوسری طرف سعودی ولیعہد ان ہی کے ساتھ کام کرنے کو اچھا سمجھتے ہیں اور یہ انکی خواہش بھی ہے۔ خیر ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ماضی میں مسلم حکمرانوں نے جس طرح اسلامی پرچم کو سربلندی عطا کرنے کے لئے نِت نئے طریقے ایجاد کرتے ہوئے بڑی بڑی جنگوں کو جیتا ہے اس کی مثالیں دشمنانِ اسلام بھی اپنے تاریخی کتابوں میں دیتے ہیں ۔آج اگر اسلامی ممالک کی طاقت و قوت کا جائزہ لیا جائے تو بہت کم ہی ممالک ایسے ہونگے جنکی فوجی طاقت و قوت کی ڈھاک کی وجہ سے دنیا کے بڑے بڑے ممالک ان پرحملہ کرنے کیلئے سوچنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ ہمارا ملک ہندوستان جوہری طاقت کا حامل اور فوجی طاقت میں بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔پڑوسی ممالک ہماری فوجی طاقت سے کتنا خوف کھاتے ہیں اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن پاکستان ہمیشہ ہندوستان کو یہ بتانے اور احساس دلانے کیلئے اپنی فوجی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتارہاہے تاکہ ہمارے ملک ہندوستان پر اس کی ڈھاک بیٹھی رہے۔ بے شک عالمِ اسلام میں پاکستان ہی ایک جوہری طاقت رکھنے والا ملک ہے اور سعودی عرب و دیگر اسلامی ممالک اسی وجہ سے پاکستان کو اہمیت بھی دیتے ہیں ۔

گذشتہ دنوں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستانی فوج کی کمانڈوز رجمنٹ ایس ایس جی کو دنیا کی تمام اسپیشل سروس فورسز میں کئی حوالوں سے انفرادیت حاصل ہے۔ تربیت کے انتہائی کھٹن اور جان لیوا مراحل سے گزرنے کے بعد کمانڈوز کی وردی اور بیج لگانے والے فوجیوں کو سنگل مین آرمی اور جدید خودکار مشین کا درجہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ چراٹ میں پاکستانی کمانڈوز کے سپاہی سے افسر تک ہر ایک کو یکساں تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے جس میں کسی بھی کوتاہی کی صورت میں اس کو سنگین ترین سزا بھی دی جاتی ہے اور اسے یہی سبق دیا جاتا ہے کہ کمانڈو بننے کے بعد اس کی زندگی کا یہی مشن ہے کہ یا تو شہادت یا فتح، ایس ایس سی کمانڈوز کے نزدیک ناکامی یا شکست نام کا کوئی لفظ نہیں ہے اور یہی انفرادیت اسکو اقوام عالم کی کمانڈوز فورسز میں نمایاں کرتی ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا گیا کہ ایس ایس جی کمانڈوز کو تربیت کے دوران جہاں ہر طرح کے مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے سردیوں میں سرد پانیوں میں چوبیس چوبیس گھنٹے تک رہنا پڑتا ہے وہاں ابلتے ہوئے پانیوں میں بھی اس کو موسم کی شدت کا سامنا کرنے کا عادی بنادیا جاتا ہے۔ کسی آپریشن کے دوران جب اسے بھوک و پیاس کا سامنا کرنا پڑے تو وہ زہریلے جانوروں کو دانتوں سے کاٹ کر بھی کھاجاتے اور ان کا خون بھی پی جاتے ہیں۔ اس کی تربیت کمانڈوز کی تربیت گاہ چراٹ میں ایس ایس جی کمانڈوز کو خاص طور پر دی جاتی ہے۔ انہیں تربیت کے دوران سانپ پکڑنے کا طریقہ بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ پہاڑوں اور جنگلوں میں جب خطرناک ترین سانپوں کا سامنا کرنا پڑے تو انہیں کسی قسم کا خوف لاحق نہ ہو۔ان کمانڈوز کو خطرناک زہریلی غذا کھانے کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔ کمانڈوز کو دوران تربیت سانپ کی کھال اتارنے سے پہلے اس کو پکڑ کر اس کی گردن کا ٹنے کا طریقہ بھی سمجھا دیا جاتا ہے جبکہ گردن کے بعد اسکی دم سے چار انچ اوپر تک کا حصہ بھی کاٹنے کے بعد دفن کرنے کا حکم دیا جاتاہے کیونکہ سانپ کی گردن اور دم میں زہر ہوتا ہے، جو کٹنے کے باوجود آدھا گھنٹہ تک حرکت کرتی ہے۔ اس دوران وہ کسی کو کاٹ لے تو وہ بندہ ہلاک ہوسکتا ہے ، سانپ کی کھال اتارکر اسکے اندر سے بڑی آنت نکال کر سانپ کے گوشت کو کچا اور پکا کر بھی کھانے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ فوجی آپریشن کے موقع پر ان کمانڈوز کو جنگلوں اور پہاڑوں میں کئی کئی دن تک بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے اس دوران انہیں غذاء نہ ملنے کی صورت میں سانپ پکڑ کر کھانے پڑتے ہیں جس سے انکی توانائی بحال رہتی ہے۔ پاکستانی کمانڈوز کے مطابق سانپ کا گوشت عام حالات میں کوئی مسلمان نہیں کھاتا لیکن میدان جنگ میں انہیں اپنے مشن کی تکمیل کرتے ہوئے ملکی سرحدوں ، قومی اثاثوں اور عوام کی حفاظت کرنی پڑتی ہے اور وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر زندہ رہنے کیلئے جب کوئی معقول غذا کھانے کو نہ ملے تو وہ مارخور کی طرح سانپ بھی کھاجاتے ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی واضح کی گئی ہیکہ آئی ایس آئی کا نشان مارخور ہے جو سانپوں کا شکار کرتا ہے تو ایس ایس جی کمانڈوز اسکا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن جتنا بھی زہریلا اور خطرناک ہوپاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز انکی گردن کو اپنے دانتوں سے کاٹ کر الگ کردیتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ان کمانڈوز کو تربیت کے دوران ہی کچا گوشت کھانے کا بھی عادی بنادیا جاتا ہے جبکہ اگر ان کے پاس کوئی خنجر نہ ہو تو دانتوں سے جانوروں کو کیسے ذبح کرنا ہے اور پھر پانی نہ ملنے کی صورت میں کسی جانور کا خون کیسے پینا ہے، ان سب مشکل اور ناگوار ترین طریقوں کا انہیں عادی بنادیا جاتا ہے۔یہ پاکستان کی اسپیشل فوج کو دی جانے والی تربیت اور انہیں غذا نہ ملنے کی صورت میں کس طرح زہریلے جانوروں کو کھایا جاتا ہے اس سلسلہ بتایا گیا۔ اگر پاکستان اپنی فوجی طاقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ملک میں امن و سلامتی کو بحال رکھے تو یہی اس کے لئے بہت اہم مسئلہ کا حل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی پاکستان میں لوٹ مار، دہشت گردی ، بم دھماکے اور خودکش حملوں کی ایک تاریخ رہی ہے ۔ آج بھی پاکستان کے بڑے شہر ہوں کہ چھوٹے دیہات و قصبے ہر جگہ شہری اپنی جانوں کی حفاظت و سلامتی کی فکر میں رہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ وہ صحیح سلامتی کے ساتھ گھر واپس پہنچ پائینگے بھی کہ نہیں ۔ کاش اس مسلم ملک میں امن و سلامتی قائم ہوجائے اور اگر واقعی پاکستان میں امن وسلامتی قائم ہوگئی تو ہوسکتا ہے کہ ہم ہندوستانیوں کے ساتھ بھی ان کے روابط بہتر ہوجائینگے۔ فوج کی اسپیشل فورسز کتنی ہی خطرناک اور طاقتور کیوں نہ ہو ملک میں امن و سلامتی اور خوشحالی نہ ہو تو پڑوسی ملک کے ساتھ جنگ جیسے حالات پیدا کرنا خود اسکے لئے خطرناک نقصاندہ ثابت ہوتا ہے ۰۰۰

عرب ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں کتنی کارگر
مشرقِ وسطیٰ کے حالات کب تک کشیدہ رہینگے اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن اس دوران عرب ممالک کے حکمراں اپنی فوجی صلاحیتوں کو بہتر اور مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ مصر میں عرب ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں(عربوں کی ڈھال 1)کا سلسلہ جاری ہے۔ان مشقوں میں میزبان مصر کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور اردن کی فوجیں حصہ لے رہی ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اس تربیتی محاذ کا مقصد لڑائی کیلئے ہمہ وقت تیار رہنے کی استعداد کو بڑھانا ، حقیقی لڑائی کے ماحول میں عسکری مہارت کو چمکانا اور باہمی تجربے کے تبادلے سے مستفید ہونا ہے۔یہ مشقیں دو مرحلوں پر مشتمل ہیں۔ بتایا گیا ہیکہ ان میں پہلا مرحلہ پیشگی تربیت کا تھا جو اختتام پذیر ہو چکا ہیجبکہ دوسرا مرحلہ حقیقی عمل درآمد کا ہے جس کے دوران فضائی اور بحری کارروائیوں کے علاوہ اسپیشل فورسز کی کارروائیاں انجام دی جائیں گی۔ ساتھ ہی دشمن فورسز کو بھگانے کے لیے گولہ بارود کے تدبیری استعمال کا مظاہرہ بھی عمل میں لایا جائے گا ۔ یہ تودفاعی تربیت یا حملے کیلئے فوجی مشقیں تھیں لیکن ان ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی فوجی صلاحیتوں اور طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے خود کا بنایا ہوا اسلحہ اور فوجی سازو سامان ہو۔ ورنہ مغربی و یوروپی طاقتیں کروڑہا ڈالرس کے ہتھیار لینے پر ان حکمرانوں کو مجبور کرتے رہینگے اور منہ مانگی رقم کے عوض وہ ہتھیار و فوجی سازو سامان فراہم کرینگے۔

سعودی عرب کی فلسطین کیلئے امداد اور فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و بربریت
سعودی عرب کی شاہی حکومت نے فلسطینی مملکت کیلئے چھ کروڑ ڈالر کی فوری امداد دینے کا اعلان کیا جو خوش آئند اقدام ہے۔ یہ امدادی رقم ماہانہ 2کروڑ ڈالر کے پہلے سے کیے گئے اعلان پرعمل درآمد کا حصہ ہے۔ اس رقم سے فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ فوری ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ رقم اگست، ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں کیلئے ہے۔ جمہوریہ مصرمیں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے سفیر اسامہ بن احمد نقلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک قضیہ فلسطین کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی سیاسی، اقتصادی اور انسانی شعبوں میں امداد جاری رکھی جائے گی۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ ایک طرف فلسطین کو مختلف ممالک کی جانب سے وقتاً فوقتاً امداد فراہم کی جاتی ہے تو دوسری جانب اسرائیلی حکومت اور فوج فلسطینیوں پر کسی نہ کسی طرح ظلم و بربریت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گذشتہ دنوں غزہ کی سرحد سے تین کلو میٹر اندر اسرائیلی فوج کے خفیہ آپریشن میں حماس کے کمانڈرنور برکۃ سمیت 7فلسطینیوں اور ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے دوسرے روز علاقے میں ایک مرتبہ پھر پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں مزید تین فلسطینی ہلاک بتائے جارہے ہیں نہیں معلوم اس میں مزید کتنا اضافہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائی میں شہید ہونے والے سات شہدا کو سپرد خاک کردیا گیا۔ خان یونس شہر میں ایک ساتھ سات جنازے اٹھائے جانے پر علاقے میں کہرام برپا اورصہیونی دشمن کے خلاف غم وغصے کی شدید لہر پائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوجی آپریشن کے بعد فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیل پر 300راکٹ اور مارٹر فائر کئے جانے کی خبریں ہیں جن میں سے ایک مسافر بس پر بھی لگا جس سے اس کے قریب تعینات اسرائیلی فوجی شدید زخمی بتایا گیا ہے۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں غزہ میں 70سے زائد حملے کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف حماس اور اسلامی جہاد کے ٹھکانے تھے۔ اسرائیلی فوج ہمیشہ فلسطینیوں کو تشدد پر اکساتی رہی ہے اور جب انکی جانب سے کئے جانے والے بے رحمانہ کارروائیوں کے خلاف فلسطینی جہادی گروپ جوابی کارروائی کرتے ہیں تو اسرائیلی فوج مزید خطرناک کارروائیاں کرتے ہوئے کئی عام فلسطینی شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس سال مارچ سے اب تک اسرائیل فوج کے ہاتھوں کم از کم 200فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بیشتر سرحد کے ساتھ ہونے والے ہفتہ وار مظاہروں میں ہلاک ہوئے ہیں ان مظاہروں میں ہزاروں افراد ان فلسطینی مہاجرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہے ہیں جو موجود اسرائیل میں اپنے گھروں کو واپس ہونے کا حق مانگ رہے تھے۔ ان دنوں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری بتائی جارہی ہے گذشتہ ہفتے عمان کے سلطان قابوس سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو ملاقات کرچکے ہیں ۔ پاکستان میں بھی اسرائیلی طیارے کی لینڈنگ اور چند افراد کی آمد پر سوال اٹھائے جارہے ہیں لیکن پاکستانی حکومت اس سے مسلسل انکار کرتی رہی ہے ۔سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے بھی چند ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا مثبت اشارہ دے چکے ہیں ۔ ایران جو اسرائیل کا سخت مخالف رہا ہے لیکن ان دنوں امریکی پابندیوں کی وجہ سے اور ملک میں پرامن حالات نہ ہونے کی وجہ سے خاموش دکھائی دے رہا ہے ۔
ٌٌٌ***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 95608 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2018 Views: 360

Comments

آپ کی رائے