ترقی وخوشحالی کے عملی اقدامات

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس ملک کو قائم ہوئے ستر سال ہونے کو ہیں لیکن ان ستر سالوں میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے ترقی کرنے کے بجائے تنزلی کا سفر کیا ہے اس کی بنیادی وجہ ہے کیا؟یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے ہر آنے والی حکومت خزانہ خالی دیکھاتی ہے اور اس کو بھرنے کی کوشش میں لگ جاتی ہے ایسے میں چھریاں ایک بار پھر عوام پر ہی چلائی جاتی ہیں اور عوام بے چارے بڑی آسانی سے قربان ہوتے جاتے ہیں لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ خزانہ خالی کرتا کون ہے ؟اس بات کا اگر جواب ڈھونڈا جائے تو کھرا زیادہ تر حکمران طبقے تک جاتا ہی نظر ااتا ہے پچھلے سترسالوں میں سب سے زیادہ پاکستان کو نقصان پہنچا بھی اسی حکمران طبقے کی وجہ ہے  موجود حکومت کو عوام نے مینڈیٹ اس لئے دیا تھا کہ وہ تبدیلی لائیں گے اور اس ملک کے پسی ہوئی عوام کو اس مہنگائی بے روزگاری،دہشت گردی سے نکال کر اس کی مشکلات کو کم کریں گے مگر سابقہ حکومتوں کی طرح آتے ہی خزانہ خالی اور دیگر مجبوریوں کو سامنے لا کر ایک بار پھر عوام سے قربانی مانگی گئی جو کہ حسب سابق عوام نے دی مگر یہ قربانی اب بہت زیادہ ہو چکی ہے عوام اس سیے زیادہ کی استطاعت نہیں رکھتے شاید یہی وجہ ہے کہ عوام اب حکومت کے سو دن مکمل ہونے کے بعد اس سے اچھے کی توقع کی آس لگائے بیٹھے ہیں حکومت اگر باقی اشیاء پر جو مرضی ٹیکس لگائے مگر کھانے پینے کی اشیاء کو ٹیکس فری کر کے عوام کو ریلیف دے تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام اس حکومت کے گھن گھانے لگے اپوزیشن میں بیٹھ کر جب عمران خان صاحب کھانے پینے کی اشیاء کو ٹیکس فری کرنے کی بات کرتے تھے تو انھیں آتے ہی یہ اقدام سب سے پہلے اٹھانا چاہیے تھا لیکن اس کے بر عکس تیل ،پانی، بجلی، گیس اور سیمنٹ کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربااضافے نے تو عوام کی چینخیں نکال د ی ہیں جب بھی پاکستان میں گیس و بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی کا ایک لامتناہی طوفان برپا ہو جاتا ہے جس کو روکنے میں ادارے بھی ناکام ہو جاتے ہیں ذخیرہ اندوز اس بہتی گنگال میں خوب ہاتھ دھوتے ہیں پچھلے 4 سالوں کی نسبت افراط زر میں دگنا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بھی قابو سے باہر ہوگئی ہے، افراط زر کو کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس سے افراط زر میں اضافے کو روکا جاسکے، کیونکہ اگر پاکستان کا پسا ہوا غریب طبقہ مزید پسے گا تو ایک اور بحران جنم لے سکتا ہے، جسے حکومت کیلئے قابو کرنا مشکل ہو جائے گاعام آدمی کے مسائل کا حل صرف اشیاء ضروریہ کو سستا کرنے میں ہے آج کے دور میں دو دو نوکریاں کرکے بھی لوگوں کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے، پاکستانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ بھی مہنگائی کا سبب بنتی ہے، اس لئے ایسے معاشی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جن سے روپے کی ساکھ مضبوط ہو سکے، اس کے علاوہ ملک میں کرپشن بھی اقتصادی مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، حکومت اسے کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے عوام امید کرتے ہیں کہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا کیونکہ جب تک معاشرہ کرپشن فری نہیں ہوتا، تب تک کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی عوام کو ضرورت زندگی کی اشیاء سستے داموں مہیا کریں لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر عام مصنوعات تک مہنگی ہوگئی ہیں اگر بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی ہوسکتی ہے، اس لئے ابھی سے کام شروع کرنے کی ضرورت ہے، قیمتوں پر قابو پانے کیلئے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی بھی کرناہوگی، ان کے گوداموں پر چھاپے مارے جائیں جن کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے، ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ عام عوام کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ اس پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے لیکن فی الحال حکومت کیلئے ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ اگر آمدن سے زیادہ اخراجات ہوں گے تو مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہمیں اس کی زراعت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک خوراک میں خود کفیل ہوسکے، غذائی قلت اور ضروری اشیاء کی برآمدات سے بھی معیشت پر بوجھ پڑتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ کسانوں کوسہولیات فراہم کی جائیں ان کی بنیادی ضروریات کو سستا کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے کسان خوشحال ہو سکے اس کے لئے اقدامات میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے اگر پاکستان تحریک انصاف اپنے دیے گئے منشور کے مطابق کام کرتی رہی تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ اپنے پانچ سال پورے کر لے لیکن ساتھ ہی اگر اس نے اپنی لائن تبدیل کی اور سیاسی انتقام یا دیگر سیاسی بھکیڑوں کی طرف جانے کی کوشش کی مشکلات کا سامنا بھی کر سکتی ہے اس ملک میں بے روزگاری کی بڑی وجہ دولت کی غیرمساوی تقسیم بھی ہے ملک کی دولت کا بڑا حصہ صرف چند خاندانوں کے ہاتھوں میں جس سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اس دولت کی غیر مساوی تقسیم پر قابو پانے کیلئے حکومت کو کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوامی مفادات کے حل کیلئے کوشش کرنا ہوگی، اگر پی ٹی آئی اپنے دور اقتدار میں عام آدمی کیلئے ترقی اور خوشحالی جیسے عملی اقدامات لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تویہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہو گی جس کا کریڈٹ وہ اگلے انتخابات میں بھی لے سکتی ہے دوسری صورت میں عوام کا فیصلہ حتمی ہو تا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 146451 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
23 Nov, 2018 Views: 622

Comments

آپ کی رائے