کشمیر جنت نظیر وادی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عائزہ ظہیر
ہم اکثر اس بے سکون، تلاطم خیز زندگی کی ہنگامہ آرائیوں سے تنگ آکر کہیں بھاگ جانا چاہتے ہیں اس مشینی اور پر تکلف زندگی سے بہت دور۔کسی ایسی جگہ جہاں راحت ہی راحت ہو۔ جہاں ہم اپنی آواز سن سکیں، خود سے خود کی باتیں کہہ سکیں جو اس برق رفتار زندگی میں کہیں ان کہی ہی رہ گئیں۔ اس مقصد کے لیے زمین پر جنت کہلائے جانے والی وادء کشمیر سے بہتر اور کوئی جگہ ہو ہی نہیں سکتی۔

جہاں مہکی مہکی دھوئیں سے پاک ہوائیں، نکھری نکھری گھٹن سے پاک فضائیں، اجلی اجلی ملاوٹ سے پاک کرنیں ہماری راہ تک رہی ہیں۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور معصوم سرگوشیاں سماعت کو لذت بخشتی ہیں۔ سرمئی بادل اٹھکیلیاں کرتے کبھی پہاڑ کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں تو کبھی سورج کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتے ہیں۔ جہاں بادل زمین کو چھوتے ہیں اور پہاڑ آسمان کو چومتے ہیں۔ گرتے جھرنوں کی آواز کسی مدھر ساز کی طرح کانوں میں رس گھولتی ہے۔

لفظ کشمیر دراصل سنسکرت کے الفاظ ’’کا‘‘ یعنی پانی اور ’’شمیرا‘‘ یعنی خشک سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں خشک سرزمین۔ کشمیر کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ یہ سارا علاقہ پہلے پہل ایک خوبصورت جھیل پر مشتمل تھا بعد ازاں یہ جھیل خشک ہوگئی اور اپنے بطن سے اس طلسماتی وادی یعنی کشمیر کو جنم دیا۔ وادی کشمیر کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ وادی زمانہ قدیم میں ہندومت کا گڑھ ہوا کرتی تھی۔ چودھویں صدی کے وسط میں مسلمان سلاطین نے فتوحات کے سلسلے میں اس وادی میں قدم رکھا۔ مغل بادشاہ اکبر نے 1586 اور 1592 کے درمیان اس علاقے کو فتح کیا۔ مغل بادشاہ جہانگیر نے جب اس حسین وادی کی خوبصورتی کو دیکھا تو یہ تاریخی الفاظ کہے:’’اگر روئے زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے‘‘۔

بعد میں یہ خطہ افغان، سکھوں اور انگریزوں کے قبضے میں بھی رہا۔ ہندو راجہ 4000 سال تک قابض رہے۔ 1846 میں ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ نے اسے 75 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا۔ اس وقت وہاں 80 فیصد مسلمان تھے۔ 26 اکتوبر 1947کو بھارت کے ساتھ زبردستی الحاق ہوا۔ ابھی تک آزادی کی جنگ جاری ہے۔ وادی کشمیر جغرافیائی اعتبار سے بھی قابل قدر ہے۔ اس کا رقبہ 69547 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 39102 مربع میل حصہ مقبوضہ ہے اور 25 ہزار میل آزاد کشمیر پر مشتمل ہے۔ کل آبادی 1 کروڑ ہے جس میں سے 25 لاکھ آزاد ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا دارلحکومت سری نگر ہے آزاد کشمیر میں مظفرآباد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

یہ وادی ہمالیہ کے ہیبت ناک پہاڑی سلسلوں کے جنوب میں واقع ہے۔ برصغیرپاک و ہند کے شمال اور جنوبی ایشیا کے وسط میں واقع ہے۔ اسی نسبت سے اسے ایشیا کا دل اور جنت بھی کیا جاتا ہے۔ شمال میں چین اور افغانستان اور مشرق میں تبت واقع ہے۔ کوہ قراقرم اور ہمالیہ اہم پہاڑی سلسلے ہیں۔ ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں سے یہ جنت گھری ہوئی ہے۔ ریشم بنائی اور قالین بنائی اہم گھریلو صنعتیں ہیں۔کشمیر کی دستکاریاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کشمیری دوشالے، قالین اور ظروف سوغات سمجھے جاتے ہیں۔ سادہ زندگی بسر کرنے والے لوگوں کے دل نہایت کشادہ ہیں۔

مظفر آباد کے شمال مشرق میں دریائے نیلم کنارے ایک نہایت پرکشش وادی ہے جو 144 کلومیٹر طویل ہے۔ وادی نیلم کے دلفریب مناظر اور اور اس کی طرف سفر کرتے دریائے نیلم کی ہم رکابی بہت حسین منظر پیش کرتی ہے۔ سڑک کی ایک جانب ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا اور دوسری جانب سنگلاخ چٹانیں ہیں۔ گرتے جھرنے عجیب دل موہ لینے والے سر چھیڑتے رہتے ہیں۔ اٹھ مقام اور شاردہ اس کی دو تحصیلیں ہیں۔سرسبز جنگلات اور ان میں بہتی آبشاریں سیاخوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

کشمیر کی خوبصورتیوں میں اگر راولاکوٹ اور اس میں موجود ’’بنجوسہ جھیل‘‘ کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ بڑی ناانصافی ہو گی۔ بنجوسہ جھیل میں کوہ نوردی کا لطف اپنا ہی ہے۔ حسین نظارے، ہریبھرے پہاڑ، طلسماتی جھیل کے سبز اور نیلے رنگ کے پانی میں متلون لہریں۔ یوں لگتا ہے کہ قدرت کے سارے رنگ اس جھیل کی خوبصورتی دیکھنے اتر آئے ہوں۔ رات کے وقت شمال کی سمت سے جنڈالی کے پہاڑوں کی اوٹ سے جب چاند نکل کر جھانکتا ہے تو چاند کا نقرئی عکس ساکت پانیوں میں ارتعاش پیدا کر دیتا ہے۔اس جھیل میں کشتی رانی کا بھی اپنا مزہ ہے۔ نیلگوں پانی میں نہاتی، تیرتی رنگ برنگی مچھلیاں اس جھیل کے حسن کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ جھیل کے اردگرد آنکھوں کو ٹھنڈک بخشنے والے سبزہ زار ہیں جہاں اکثر طائفے لیٹ کر ساکت فضاؤں میں سر چھیڑتے رہتے ہیں۔ جھیل پر گھلتی گھٹائیں، گرتے جھرنے،بہتی آبشاریں، جھیل کی سطح پر ہچکولے کھاتا سنہری چاند، جھیل کی نگیں آفریں سرگوشیاں کسی دوشیزہ کی طرح کسی کی بھی نیندیں غارت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ کشمیر میں واقع وادی جہلم، قلعہ رام کوٹ، ٹولی پیر، وادء لیپا اور پیر چناسی وغیرہ کی خوبصورتی بھی قابل ذکر ہے۔ ان تمام کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں کو کسی کوزے میں بند نہیں کیا جاسکتا۔ واقعی قدرت کے حسین شاہکاروں میں سے ایک وادی کشمیر ہے۔تاہم اگر کسی کو دنیا میں جنت دیکھنے کی خواہش ہو تو وہ وادی کشمیر کے حسین سفر کو نکل جائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519984 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 1045

Comments

آپ کی رائے