نیا اقتصادی بلاک اور دہشت گردی

(Imran Ahmed, )

پچھلے دنوں پے درپے چھوٹے چھوٹے واقعات اور پھر چینی قونصلیٹ پر حملہ اس خطے کی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہم ہے امریکہ کا طالبان سے مذاکرات کرنا پاکستان کا آئی ایم ایف کو انکار کرنا پاکستان کا امریکہ سے کنارہ کشی اختیار کرنا اور ایک نئے اقتصادی بلاک کی طرف بڑھنا کچھ نادیدہ قوتوں کو ایک آنکھ نہیں با رہا یہ قوتیں پچھلے بارہ سال سے اس پورے خطے خصوصا پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہیں ہیں اور ہم پچھلے بارہ سالوں میں لاتعداد قربانیاں جان اور مال کی صورت میں دے چکے ہیں اور بڑی مشکل سے پے درپے ملٹری آپریشنز کے بعد اس دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا ہے۔ جو اس خطے میں چوہدری بننے کی خواہش رکھنے والوں کو ایک آنکھ نہیں با رہا۔

موجودہ حکومت کی تین ماہ کی کارکردگی بظاہر کوئی اتنی خاص نظر نہیں آ رہی اپوزیشن کی جارحانہ حکمت عملی? بد تر معاشی بحران اور ناتجربہ کاری نے حکومت کو سکھ کا سانس لینے نہیں دیا لیکن ان مشکلات کے باوجود بین الاقوامی سطح پر وزیراعظم کی شخصیت کا جادو چلتا ضرور نظر آیا سعودی عرب? چائنہ? یو اے ای اور ملائیشیا کے کامیاب دوروں نے پاکستان کو اس قابل بنا دیا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو ہری جھنڈی دکھا دی اور یہی وہ وقت تھا جب امریکی صدر بھی تلملا اٹھا کے پاکستان ہمارے شکنجے سے نکلتا جا رہا ہے امریکی صدر کے اس تاثر اور آئی ایم ایف کو انکار کے بعد یقینا ہمیں کسی بڑے جھٹکے کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا یہاں ہم سے تھوڑی کوتاہی ضرور ہوئی ہے لیکن پولیس کی بروقت کارروائی اور شہداء کی بہادری نے بڑے نقصان سے بچا لیا۔
چینی قونصلیٹ پ
ر حملے کی ذمہ داری بی ایل اے کے قبول کرنے کے پیچھے مقصد پاکستانی فورسز کو بلوچستان میں فوجی کارروائی کرنے پر اکسانا بھی ہو سکتا ہے کون نہیں جانتا کہ بھارت بلوچستان میں کیا کھیل کھیل رہا ہے کلبھوشن یادیو نے بھی اس کی تصدیق کی ہوئی ہے اس وقت جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے اور دشمن کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسنے کے بجائے اسے کاٹنے کی ترکیب کرنی چاہیے۔

چینی قونصلیٹ پر حملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حالیہ دورہ چائنا انتہائی کامیاب رہا اس دورے میں طے پانے والے معاہدے اور اقتصادی شراکت داری پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دے گی اس بات کا ادراک ہمارے دشمنوں کو تو ہو گیا لیکن اعلی صحافتی اقدار کے حامل صحافی جو پچھلے سالوں میں اس غریب قوم کے 40 ارب سالانہ ڈکار گئے اور وہ اپوزیشن جماعتیں جنہوں نے اپنی اگلی میٹنگز جیلوں میں کرنی ہے ان کو اس کا ادراک نہیں ہوسکا یا پھر پچھلے سالوں کے کرتوت انہیں اس کا ادراک کرنے سے روک رہے ہیں۔ حسن اتفاق کہیں یا کچھ اور پچھلی حکومت کو گرنے سے بچانے کے لیے اس وقت کی بڑی اپوزیشن جماعت نے حکومت کو سہارا دیا اور بین الاقوامی طاقتیں بھی یہی چاہتی تھی لیکن اب موجودہ متحدہ اپوزیشن پہلے دن سے حکومت کو گرانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اور اس وقت بین الاقوامی طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں ویسے یہ حسن اتفاق سے زیادہ کچھ اور ہی محسوس ہوتا ہے۔

تین مہینوں میں اس ملک میں جو تبدیلی آئی ہے وہ شاید پچھلے دس سالوں میں نہیں آئی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے اور ایک نیا اقتصادی بلاک بننے جارہا ہے جو یقینا اس خطے کی عوام کے لئے بہتری کی امید لائے گا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں مثالی ہم آہنگی پیدا ہوچکی ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خارجہ معاملات میں معاون ثابت ہوگی سپریم کورٹ اور دوسرے ریاستی ادارے کرپشن کے خلاف کام شروع کرچکے ہیں جس کے خلاف چیخنے ہم ہر روز سنتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو ازسرنو ترتیب دے کر پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا جائے نیشنل ایکشن پلان کے جن نکات پر سیاسی حکومتوں نے عمل کرنا تھا بدقسمتی سے پچھلی حکومت اس میں ناکام رہی اب موقع ہے کہ ان نکات پر فی الفور عمل کیا جائے تاکہ بچے کچے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Ahmed Memon

Read More Articles by Imran Ahmed Memon: 7 Articles with 2896 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 438

Comments

آپ کی رائے