مسلم اقوام کا اتحاد وقت کی ضرورت

(Bao Asghar Ali, )

معزز قارئین تحریر کے شروع میں ایک دانش ور کی بات گوش گزار کرتا ہوں بھلے زمانے میں ایک بزرگ کے 12بیٹے تھے ایک دن اس بزرگ نے اپنے 12بیٹوں کو اپنے پاس بلاکر کہا بیٹے جاؤ 12لکڑیا ں لیکر آؤ بیٹے فرمانبردارتھے باپ کی بات سن کر فوری طور پرجاکے 12لکڑیا ں لے آئے بزرگ نے کہا اب ان لکڑیوں کو ایک ساتھ اکٹھا کر کے کسی رسی سے باندھ دو انہوں نے ایسا ہی کیا کہ 12لکڑیوں کو ایک ساتھ باند ھ دیا ،پھر بزرگ نے اپنے بیٹوں سے کہا اب انہیں توڑو ،بزرگ کے 12بیٹوں نے ان لکڑیوں کو توڑنے کی بھر پور کوشش کی مگر ان لکڑیوں کو توڑ نہ سکے ،اب بزرگ نے کہا کہ ان لکڑیوں کی رسی کھول دو اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر دو انہوں ایسا ہی کیا پھر بزرگ نے کہا کہ اب ایک ایک لکڑی پکڑ کر توڑوجب انہوں نے ایک ایک لکڑی پکڑی تو ان کو با آسانی توڑ دیا ،اور پھر بزرگ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ بیٹے کبھی بھی علیحدہ علیحدہ نہ ہونا ہمیشہ اکٹھے رہنا اگر آپ اکٹھے رہوگے تو کوئی بھی مخالف قو ت آپ کو نقصان نہیں پہچا سکے گی ،یہ ساری بات سنانے کا مقصد یہ ہے کہ آج ہمیں بھی ایک ساتھ اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے اس وقت ہر طرف مسلمان ہی ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں، دنیا بھرمیں مسلمان ہی وہ واحدقوم ہیں کہ جن کے مارے جانے پر ہر طرف قبرستان جیسی خاموشی دیکھنے کو ملتی ہے ، ہم مسلمانوں کی کیفیت تو ان برائلر مرغیوں جیسی ہو چکی ہے کہ جو ڈبے میں سے باری باری نکلتی، ذبح ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کو دیکھتی ہیں لیکن بولتی کوئی بھی نہیں ، اسی طرح نہ کبھی قصاب کے ہاتھ پر چونچ مارتی ہیں۔ اگر سارے مسلمان یونہی خاموش رہیں گے تو لازماً ان مرغیوں کی طرح ذبح ہوتے رہیں گے ۔ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ ہماری مسلم قوم کا اکٹھ نہیں اگر تمام مسلم ممالک آپس میں اتفاق کر لیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوجائیں تو کسی شام، برما ،کشمیرو دیگر ممالک میں مسلمانوں کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا ،آیئے، دیکھیے، جن مسلمانوں کا نا حق خون بہایا جارہا ہے کہیں ان کے خون کا رنگ ہمارے خون سے مختلف تو نہیں ہمارے بہن ،بھائی ،مائیں ،بزرگ ،بیٹے، بیٹیاں غیر مسلم قوموں کے ہاتھو ں ظلم ستم کا نشانہ بن رہے ہیں ، اور پھر بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے تو حد ہی پار کردی ہے ،جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ بھارت جو پاکستان اور امن وایمان کا ازلی دشمن نمبر ون ہے، مودی سرکار نے مظالم کی تمام حدیں عبور کر دیں ہے ،مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور پاکستان لائن آف کنٹرول پر مسلسل خلاف ورزیاں ، بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے بھارتی فوج کو تو انسانی خون کی چاٹ لگ چکی ہے، گزشتہ روز بھی بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں میں 8بے گنا ہ معصوم کشمیریوں کو شہید کر دیا ،کشمیر میں آئے روزطالب علم ،نوجوان ،بچے،بزرگ بھارتی ریاستی دہشت گردی کانشانہ بن رہے ہیں ، یہ گھناؤ نا کھیل اب شروع نہیں ہوا بلکہ قیام پاکستان سے لے کراب تک تواتر کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے عالمی طاقتیں اس خطہ میں بھارت کو ’’تھانیدار ‘‘ بنا کر طاقت کا توازن خراب کرنے میں پیش پیش ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بجائے ’’ہندو سرکار‘‘ کو اہمیت دیتے ہوئے ہمارے وطن کو نظر انداز کرتی ہیں۔کیا کسی کوکشمیر میں یہ انوکھی تحریک نظر نہیں آرہی جس میں قابض بھارتی افواج دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار پیلٹ گنوں کا استعمال کر رہی ہے اور کشمیری عوام پتھروں اور لاٹھیوں کے ساتھ جواب دے رہے ہیں اور یہ تحریک بلٹ کے بجائے اپنے سینوں پر لے کر گولیاں کھا کر جام شہادت نوش کر رہے ،کشمیر میں مسلمانوں کی آزادی اور پاکستان کی اقتصادی ترکی اور خوشحالی پر بنی کوئی بھی منصوبہ مودی سرکار کو ایک نظر نہیں بھاتا اور وہ اسے سبوتاڑ کرنے کی نا کام سازشوں میں مگن نظر آتا ہے ، مگر بھارت کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ پاک فوج،سلامتی کے ادارے وطن عزیز کا دفاع اور تحفظ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور کڑا وقت آنے پر پاکستان کا ہر بچہ ،جوان ،بوڑھا سب پاک فوج کے شانہ بہ شانہ ہونگے اور وطن عزیز کا ہر فردمجا ہد فوجی بن کر دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگا،میں تمام مسلم قوم سے خصوصی گزارش کرتا ہو ں کہ آپس میں اتفاق کریں اور کشمیر سمیت جہاں جہاں بھی ہمارے بہن ،بھائی ،مائیں ،بزرگ مسلمان ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں ان کے حق اور آزادی کیلئے عالمی سطح پر آواز اٹھائیں ،اگر تمام مسلم قوم ایک ہو جائے تو کشمیر کی آزادی ناممکن نہیں دنیا بھر میں مسلم اقوام کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ مسلمانوں کی داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Bao Asghar Ali

Read More Articles by Bao Asghar Ali: 42 Articles with 18166 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Nov, 2018 Views: 474

Comments

آپ کی رائے