کرتار پور سے کشمیر تک

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

وزیراعظم عمران خان نے کرکٹ دنیا کے اپنے دوست نجوت سنگھ سدھو کے ساتھ کیا وعدہ نبھا لیا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے بھی اپنا وعدہ وفا کیا۔ اس طرح پاکستان اور انڈیا کے درمیان پہلا ویزہ فری کوریڈور کھل گیا۔ یہ راہداری کھلنے کی وجہ سے سکھ برادری کو گردوارا کرتار پور کی زیارت کرنے کا موقع ملے گا۔ کرتار پور پنجاب کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال میں قائم ہے۔ یہاں سے بھارت کا شہر گورداس پور تین کلو میٹری کی دوری پر واقع ہے۔ جہاں ڈیرہ بابا گورو نانک صاحب ہے۔ اس راہداری کی سنگ بنیاد کی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سرکاری افسارن، مختلف ممالک کے سفارتکار، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیراعلیٰ عثمان بزدار سمیر کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سکھ زائرین کے لئے یہ راہداری کھلنے سے پاک بھارت تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔ مگر صورتحال قدرے مختلف ہے۔ پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج، بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کو افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ مگر کہتے ہیں انہوں نے یہ دعوت شکریہ کے ساتھ مسترد کر دی۔ مگر بھارتی وزیر خوراک ہر سمرات کور بادل، وزیر ہاؤسنگ ہر دیپ سنگھ پوری اور دیگر لوگ واہگہ کے راستے لاہور اور وہاں سے کرتار پور پہنچے۔ نجوت سنگھ سدھو بھارتی پنجاب کے وزیر بھی ہیں۔ وہ اور معروف خاتون صحافی برکھا دت اور دیگر لوگ بھی تقریب میں پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ کرتار پور سے پہلے گورداس پور میں بھی بھارت کی طرف سے افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں بھارت کے نائب صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب امریندر سنگھ نے شرکت کی۔ وزیر خارجہ قریشی صاحب سنگ بنیاد کو ذہن اور سوچ میں آنے والی تبدیلی کا عکاس قرار دے رہے ہیں۔ مگر اس راہداری کی تعمیرکے فیصلے سے یہ تبدیلی یک طرفہ سمجھی جا سکتی ہے۔ کیوں کہ بھارت نے اس کا کریڈٹ پاکستان کو دینے کی کوشش ناکم کرنے کی کوشش کی ہے۔
 
پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں اعتماد سازی کے کئی اقدامات کئے۔ خاس طور پر انھوں نے کشمیر کے آر پار راستے کھولنے سمیت کشمیریوں کے سفر اور باہمی تجارت کی راہ ہموار کی۔ مگر جس طرح وہ اس اعتماد سازی کو چھوڑ کر گئے ، وہ آج بھی اسی طرح موجود ہے۔ اس مین وقت گزرنے کے ساتھ کوئی بہتری نہ آ سکی۔ اگر کرتار پور گورداسپور راہداری پاکستان اور بھارت میں مذاکرات یا مل بیٹھنے یا دوریاں کم کرنے اور فاصلے مٹانے کا کوئی قدم ہے تو بھارت اس پر سرد مہری کا شکار نہ ہوتا۔ بلکہ دوسری طرف سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی افتتاح کرنے موجود ہوتے۔ بی جے پی کوئی رسک نہیں لینا چاہتی۔ آئیندہ برس عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ پانچ ریاستوں میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی اور ہندو انتہا پسندوں کو پاک بھارت دوستی کے بجائے نفرت اور دشمنی پر استوار کیا گیا ہے۔ انہیں اس طرح کی دوستی پر آمادہ کرنا بہت مشکل ہے۔ بی جے پی سیاست جب پاکستان دشمنی اور نفرت کی ہو تو پاکستان کا سکھ برادری کے لئے آسانیاں پیدا کرنے انہیں کبھی ہضم نہیں ہو سکتا۔ کرتار پور میں سکھ گوردوارا دنیا بھر کے سکھوں کے لئے مقدس ہے۔ مگر بھارتی ہندو انتہا پسند اس راہداری کو پاکستان کی جانب سے کسی خالصتان تحریک کے احیاء سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ جب کہ پاکستان کا ایسا کوئی ارادہ نہ ہو گا۔ پاکستان نے خیر سگالی کی ہے۔ 400کلو میٹر کا سفر 4کلو میٹر پر پہنچا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلہ کشمیر سمیت دیگر تنازعات نے دونوں ممالک کے عوام کا آرام اور سکون تباہ کر دیا ہے۔ اگر یہ تنازعات حل ہو جائیں تو تمام قدرتی راستے کھل جائیں گے۔ لوگ پھر چار کلو میٹر کی جگہ چار سو کلو میٹر کا سفر کرنے کے بعد منزل پر نہیں پہنچیں گے۔ یہی حال کشمیریوں کا بھی ہے۔ مظفر آباد سے سرینگر چند گھنٹے کا سفر ہے۔ سرینگر مظفر آباد بس سروس سے صرف منقسم خاندان ہی سفر کر سکتے ہیں۔ مگر بھارتی ایجنسیاں کلیئرنس میں سالوں لگا دیتی ہیں۔ جب کہ لوگ واہگہ کے راستے سفر کریں تو منزل پر پہنچنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ آج اکیسویں صدی میں بھی بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے آزاد کشمیر تک ٹیلی سروس یک طرفہ طور پر منقطع رکھی ہے۔ کوئی بھی سرینگر سے مظفر آباد ٹیلیفون نہیں کر سکتا۔ اپنے عزیز و اقارب کی خیریت دریافت نہیں کی جا سکتی۔ یہ المیہ ہے۔ جس پر سیاست ہو رہی ہے۔ بھارت کو تمام راہداریاں کھولنے کی جانب پیش رفت کرنا چاہیئے تھی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اسے مسلمانوں یا سکھوں کا مسلہ بنا کر پیش کرنے یا اس پر ہندو برادری کو خوش کرنے کے لئے نفرت پھیلانے سے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔ اس لئے تنازعات کا حل عوام کے مفاد میں ضروری ہے۔ ان تنازعات کا حل نہ ہونا نفرت اور دشمنی کی جیت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 597 Articles with 236826 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Nov, 2018 Views: 428

Comments

آپ کی رائے