سو دنوں میں بہتر ٹریک پر

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

 پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سو دن مکمل کر چکی ہے ان سو دنوں میں اگرچہ دودھ اور شہد کی نہریں تو نہیں بہائی جا سکیں مگر ایک مثبت سمت متعین کر دی گئی ہے جس سے اچھے کی امید قائم ہو گئی ہے کہتے ہیں کہ اگر خیالات اچھے ہوں سوچ مثبت ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے گو کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ بہت جلد بازی میں ہیں جن کا گمان ہے کہ آج پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی توکل حالات بدل جائیں گے ایسا ممکن نہیں ہے کیوں کہ ستر سالوں کی صفائی کے لئے کچھ تو وقت دینا پڑے گا ویسے بھی ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے جو تمام مسائل کی جڑ ہے اس جڑ کو ختم کرنے کے لئے تیزی سے کام جاری ہے بلا شبہ ایسا کام ستر سالوں میں نہیں ہو سکا اور اس احتساب سے جن لوگوں کی چینخیں نکل رہی ہیں ان کے پیٹ میں درد صرف اس بات کا ہے کہ اب پہلی بار ہمارے ادارے درست سمت میں بلا جبر غیر جانبداری سے اس لعنت کے خلاف بھر پور کام کر رہیں اوراس بے رحم احتساب سے ان کے لوٹی دولت سے بھرے خزانے بھی سامنے آنے کی توقع ہے اب ہمارے امیر حکمرانوں کو یہ حساب دینا ہو گا جو سیاست میں سائیکل اور سکوٹر پر آئے تھے اور اب کئی گارڈ اور ملازمین کی ظفر موج ان کے آگے پیچھے ہوتی ہے ایسے کون سے ان میں سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ انھوں نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی کیا باقی پاکستانیوں کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ بھی ترقی کرتے انکی نسلیں بھی آرام دہ زندگی گزارتی۔ آج ملک کے حالات انھیں گدھ نماء کرپشن سے لتھڑے لوگوں کی وجہ سے ہیں آج ملک کا بچہ بچہ قرض میں جھکڑا ہے جبکہ ان کوامیر حاکموں کو معمولمی سا نزلہ و زکام بھی ہو جائے تو یہ لوگ امریکہ اور یورپی مما ک میں علاج کروانے پہنچ جاتے ہیں اور عیاشی کا عالم یہ ہے کہ ان کے نوکر بھی یہاں ہی سے صاحب بہادر کی خدمت کے لئے ساتھ جاتے ہیں کیا یہ ہے وہ پاکستان جس کا خواب علاقہ اقبال نے دیکھا تھا کیا یہ ہے وہ پاکستان جس کی تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح نے دی تھی کیا ہمارے برزگوں نے اس کے لئے قربانیاں دی تھی کہ چند امراء اس اسلامی ریاست کو نوچیں اور بدلیں میں غربت افلاس دہشت گردی ،اور مجبور اور لاچار لوگوں کو سسک سسک کر مرتے اور لٹتے دیکھیں آج کے ملکی حالات کے ذمہ دار یہی کرپٹ لوگ ہیں ۔بلا شبہ لوگوں نے پاکستان تحریک انصاف کو تبدیلی کے لئے ووٹ دیا اور اس تبدیلی کے لئے جس طرح عمران خان نے کام شروع کیا ہوا ہے اگر وہ سمت قائم رہی تو زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ پاکستان ایک بہتر ٹریک کی طرف آج جائے گا ۔اس سے پہلے قائم ہونے والی حکومتیں پہلے سو دنوں میں جو وعدے کر کے آتی رہی ہیں وہ پہلے دس دنوں میں ہی ردی کی ٹوکری میں پڑے ہوئے ملتے تھے لیکن اب لوگوں کو ایک نئی امید عمران خان کی جانب سے ملی ہے اور یہ بات ان کے مخالفین بھی جان چکے ہیں کہ خان جب کسی کام کی ٹھان لیتا ہے تو وہ پھر واپس نہیں دیکھتا اسی لئے پوری قوم پر امید ہے کہ ملک بہتری کی طرف آئے گا ۔دوسری طرف عمران خان کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کو کنٹرول لوڈشیڈنگ ، غربت افلاس، بے روزگاری سے نجات ہے اس پر بھی عمران خان کے ارادے کی پہاڑ کی طرح اونچے نظر آ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مفاد پرست ٹولہ اپنی ناکامی کو دھاندلی کے گھسے پھٹے نعرے میں رنگ کر یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کو بلیک میل کر لے گا لیکن شاید اب عوام بھی جان چکے ہیں کہ ہارے ہوئے مہرے جب اقتدار میں تھے تو کسی ایک معاملے پر کھبی بھی ایک نہ ہو سکے لیکن اب پاکستان تحریک انصاف سے پٹنے کے بعد ایک ہو چکے ہیں عوام کو بھی یہ بات باور ہو چکی ہے کہ یہ لوگ ان کے لئے کھبی ایک نہ ہوئے اور اپنے اقتدار کے لئے کیسے اے پی سی بلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اب ان ناکام و نامراد لوگوں کو پاکستان تحریک انصاف اپنے راستے کی سب سے بڑی دیوار نظر آ رہی ہے تمام ہاری ہوئی جماعتوں کا وہ مکروہ چہرا عوام کے سامنے آ چکا جو کھبی بھی سامنے نہ آ سکا کوئی مذہبی چورن بیچ کر ووٹ لیتا تھا تو کوئی سٹرکوں کے نام پر کوئی ڈیمز کی نام نہاد مخالفت کے نام پر مگر اب شاید یہ ممکن نہیں رہاپاکستان تحریک انصاف نے عوام کو وہ شعور دیا جو سب سے پہلے قائد اعظم کے ولولہ انگیر خطابات سے عوام کو ملا بعد ازاں شہید ذولفقار علی بھٹو نے عوام کے شعور کو جگایا اور اس کے بعد آج پاکستان تحریک انصاف کے کپتان عمران خان نے عوام کو بتایا کہ کس طرح ان کا پیسا چوری ہو ا کس طرح ان کو بے دردی سے لوٹا گیا کس طرح ان کے دیے گے ٹیکس پر ڈاکا ڈالا گیا اب یہ احتساب کا عمل رکنے والا نہیں اس میں وہ تمام لوگ ضرور آئیں گے جنھوں نے دھرتی ماں کو لوٹ لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر لی ۔اتنی لوٹ مار ہونے کے باجود اگر پاکستان تحریک انصاف نے صرف کرپشن اور مہنگائی پر قابو پا لیا تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی اور اگر جو منصوبے عمران خان کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں ان میں سے پچاس فیصد پر بھی کام ہو گیا اور تو پھر اگلے کئی سالوں تک دیگر کسی جماعت کا پاکستان میں حکومت بنانے کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ اس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اندرونی طور پر دہشت گردی اور توانائی بحران ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور قرضوں کی ادائیگی سب سے بڑا چیلنج ہیں ان پر قابو پانے کے لئے عمران خان کو جنگی بنیادوں پر کام کو جاری رکھنا ہو گا قرضوں کی ادائیگی اور معیشت کے بہتری کے لئے پاکستان تحریک انصاف کی ٹیم نے یہ ناممکن کو ممکن بنانا ہے کپتان کی قیادت میں پاکستانی عوام ایک بہتر کل کی متلاشی ہے اور عوام کو امید ہے کہ خان کچھ اچھا ہی کرئے گا بلا شبہ عوام نے خان کو ووٹ صرف تبدیلی لانے کے لئے دیا ہے اچھے کی امید رکھنی چاہیے اور اگر امید اچھے کی ہو تو اچھا ضرور ہوتا ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 133593 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
03 Dec, 2018 Views: 266

Comments

آپ کی رائے