گورونانک ڈیم

(Prof Liaquat Ali Mughal, Kehroor Pakka)

دوست و دشمن کو رام کرنے کیلئے خوش اخلاقی بہت بڑا ہتھیار ہے جس کی مدد سے بڑے سے بڑے سے اور برے سے برے دشمن کو بھی اپنا خیر خواہ بنایا جاسکتا ہے اور اس کے بہترین اثرات سے معاشرے کو پرا من اور ملکوں کے درمیان تلخی اور کشیدگی کو دوستی اور بھائی چارے تبدیل کیا جاسکتا ہے اس کی تازہ ترین اور سب سے بڑی مثال وریراعظم پاکستان عمران کی حلف برداری کی تقریب میں خود عمران خان اور ہمارے ملک کی افواج کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہے جنہوں نے بھارتی وزیر اور مشہور و معروف سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو جو جپھی دی اس نے پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ انڈیا بالخصوص سکھوں کے دل جیت کر جہاں اپنا گرویدہ بنالیا وہیں پر دنیا اور خاص طور پر بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ ہم پرامن ملک کی پرامن عوام اور پرامن افواج کے پرامن سپاہی ہیں اور یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ آج وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھارت کے ایک مخصوص طبقے کی امن کاوشوں کو سراہتے ہوئے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے جس پر دنیا بھر میں پاکستان اور عمران خان کی کاوشوں کو سراہا اورخراج تحسین پیش کیا جارہا ہے اور ازلی دشمن بھارت کے سیاسی دھڑوں اور سیاستدانوں کی جانب سے بادل نخواستہ یا خوشدلی سے عمران خان اور پاکستانی حکومت کے اقدامات کو مستحسن اور خطے کے امن کیلئے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیاجارہا ہے ۔مہاتما گاندھی کے پوتے ڈاکٹر راج موہن گاندھی یہ الفاظ ادا کرنے پر مجبور ہوگئے کہ میں عمران خان کو سیلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ اسی طرح بھارتکی تعصب پسند لابی ، مودی اور ا س کے چیلے بھی بادل نخواستہ اس امرپر خاموش ہیں کیونکہ بھارت میں الیکشن کی آمدآمد ہے اور وہ کسی طور پر نہیں چاہیں گے کہ ان کا کوئی بھی متعصبانہ قدم ان کے سیاسی کیریئر کو داغدار یا خراب کردے کیونکہ سکھ قوم بھارت میں بڑی تعداد میں موجود ہے اور وہ اپنے مذہبی معاملات پر زد گردانے گی ۔

کرتاپور راہداری کے کھلنے سے منفی و مثبت سوچ رکھنے والے طبقات اسے اپنے اپنے زاویے اور نظریے سے دیکھ پرکھ رہے ہیں اور لن ترانی کررہے ہیں ایک طبقہ اسے قادیانیوں کو نوازنے کی سازش کا نام دے رہا کہ کرتاپور راہداری میں آڑ میں قادیانیوں کو آسانیاں اور سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تاکہ وہ پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ interaction کو فعال اور مضبوط بناسکیں یہ سوچ انتہائی شدت پسندانہ اور ناقابل فہم ہے ۔اسی طرح ایک طبقہ اسے غداری پر محمول کررہا ہے کہ ازلی دشمن سے یاری اور ان کی عوام کو سہولیات اور پاکستان میں سکھ ازم کو پروان چڑھانے کی سازش ہے جس سے مخالف اور ملک دشمن عناصراور قوتوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا۔حالانکہ ماضی قریب میں ویزے اور دیگرپابندیوں سے مستثنی کئی بھارتی سابقہ حکمرانوں کی ملکیتی جائیدادوں فیکٹریوں اور ملوں میں پائے گئے جن کا کوئی ریکارڈ کہیں پر موجود نہ تھااورہم مملکت خداداد میں ہونے والی ہر تخریب کاری اور دہشت گردی کو را اور اس کے ایجنٹوں سے منسوب کرتے چلے آئے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکاتو راہداری کے قیام سے اس پرکوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑنے والا۔تو یہ اور اس قسم کی دیگر قیاس آرائیاں اور الزامات بعید از قیا س ہیں۔

مثبت ذہن اور رویوں کو دیکھیں تو عمران خان اور حکومتی زعما کے مطابق کرتاپور راہداری سے جہاں امن دوستی اور بھائی چارے کی فضا پروان چڑھے گی ہیں پر غیرملکیوں کی آمد سے پاکستانی معیثت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے بین الملکی تجارت کا بول بالا ہوگا درآمدات و برامدات میں اضافہ ہوگا اسی طرح انڈیا کی امن مخالف قوتوں اور سیاسی پارٹیوں کو بھی لگام ڈالی جاسکے گی جیسا کہ اوپر بیان کیاجاچکا ہے کہ متعصبانہ قوتیں جو کہ عرصہ قبل دنیا کو اسر پر اٹھانے کی کوشش میں سرگرداں تھیں وہ اب دم دبائے اپنے لئے جائے پناہ تلاش کررہی ہیں نوجوت سنگھ سدھو بھی انکے لئے گلے کی ہڈی بن چکا ہے پوری دنیا میں موجود سکھ براداری نے جس طرح مسرت کا اظہار کیا ہے اسے قابل ستائش گردانا جارہا ہے حتی کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ یورپ اور دیگر ممالک میں موجود سکھوں نے تویہاں تک کہہ دیا ہے کہ پاکستانی حکومت ضرورت کے تحت جو ڈیم یا ڈیمز بنارہی ہے اور جن کیلئے عمران خان چیف آف آرمی سٹاف چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگردوسرے لوگ سرگرم ہیں اگر کسی ڈیم کا نام گورو نانک کے نام پر رکھ دیا جائے اس کے نام سے منسوب کردیا جائے تو اس ڈیم کی تعمیر کے تمام اخراجات سکھ کمیونٹی اٹھانے کو بخوشی رضا و رغبت تیار ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں اس سے قبل بھی ادارے ہسپتال اسٹیشن علاقے روڈز نے نام غیر ملکیوں سے منسوب ہیں تو اس میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ اقدام پاکستانی عوام کی ضروریات اور خوشحالی کا آئینہ دار ہوگا۔

مزید یہ کہ راہداری کے کھلنے سے مذاکرات کی میز تک پہنچنے اور مذاکرات کرنے میں آسانی میسر آسکے گی کیونکہ جنگ بھوک مہنگائی اور بدتہذیبی کو جنم دیتی ہے یہ راہداری جنگ و جدل اور بارڈر لائن پر اشتعال انگیزی پر قابو پانے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوگی۔علاوہ ازیں انڈین حکومت اور سیاست و امن مخالف قوتیں سکھوں کی دلیری اور بہادری سے بھی خائف ہیں کہ اگر انہیں زیادہ چھیڑا گیاتوخالصتان کی تحریک زور نہ پکڑ جائے جو کہ ہندوؤں کی موت کے مترادف ہوگا اور وہ کسی طور نہیں چاہئیں گے کہ مسلمان اور خاص کر پاکستانی حکومت اور ہندوستانی سکھ ایک پیج پر آئیں۔لیکن داد دینا پڑتی ہے عمران خان کی دانشمندی ودور اندیشی اور نوجوت سنگھ سدھو کی بہادری کی کہ وہ اتنی مشکلات اور دباؤ کے باوجود اس سلسلے کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں اور دعا بھی یہی ہے کہ ملکوں اور خطے میں امن کیلئے اس قسم کی کاوشوں کو جاری و ساری رہناچاہئے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: liaquat ali mughal

Read More Articles by liaquat ali mughal: 238 Articles with 123439 views »
me,working as lecturer in govt. degree college kahror pacca in computer science from 2000 to till now... View More
03 Dec, 2018 Views: 482

Comments

آپ کی رائے