میڈیا کے طُلبہ اور میڈیا بحران

(Muhammad Zishan, )

کہا جا رہا ہے کہ آنے والا دور صحافت کے آسان نہیں ہوگا ،ویسے تو صحافیوں کو ہر دور میں ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حالیہ میڈیا بحران کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔شعبہ صحافت اور ماس کمیونیکیشن سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے بھی یہ دور پریشانی کا باعث بن رہا ہے،کیونکہ پچھلے الیکشن کے لئے جن طُلبہ کو مختلف نیوز چینل میں الیکشن سِل کے لئے انٹرنشپ ملی اُنہیں اندھیا دیا گیا تھا کہ انٹرنشپ پیریڈ مکمل ہونے کے بعد وہ انہیں نوکری پر رکیں گے لیکن جیسے ہے الیکشن ختم ہوئے ایک ماہ بعد میڈیا بحران کی باتیں سامنے آنے لگی اور ان طلبہ سے کہا گیا کہ میڈیا بحران شروع ہونے والا ہے ، سینیئر لوگوں کو نکالا جا رہا ہے اور آپ تو ابھی انٹرنی ہو تو فی الحال کوئی چانس نہیں بن رہا ، اس طرح میڈیا کے طلبہ کے لیئے بھی یہ پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

پچھلی دو حکومتوں کا دور میڈیا کے لیئے اشتہارات کے حوالے سے سُنہرہ دور تا ،یوں کہا جائے کہ میڈیا مالکان کی پانچوں اُنگلیا گھی میں تھی۔جہاں دس لیبر کی ضرورت تھی وہاں پندرہ اور بیس برتی کیئے گیئے ،میڈیا نے بہت ترقی کی ،نئے چینلز قائم ہوئے، جو پُرانے نیوز چینلز تھے اسکا دائرہ کار بڑایا گیا ، ہر بڑے نیوز چینل کے دو اور تین مزید زیلی چینلز بنے یعنی انٹرٹینمنٹ، اسپورٹس،میوزک،فیشن اور پکوان وغیرہ کے چینلز بنے او ر اس طرح ایک ادارہ تین سے چار ذرائع سے اشہارات نشر کرنے لگا۔

نئی حکومت کے بعد اس طرح اچانک میڈیا بحران کی باتیں سامنے آنا جو پچھلے دس بارہ سالوں میں کبھی نہیں آئی تو ذہن میں یہی سوال پیداہوتا ہے کہ کیا موجودہ میڈیا بحران میں کہیں نہ کہیں حکومت کا عمل دخل تو نہیں ؟لیکن اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چودری کہا ہے کہ میڈیا کو اس بحران سے نکالنے کے لئے حکومت مدد کر رہی ہے۔لیکن میڈیا کے وہ طلبہ جو آخری سمسٹر کے بعد اپنے کیریئرکے اچھے آغاذ کی خواہش رکھتے ہیں وہ ایسے ماحول میں کیسے ممکن ہوگا؟

وفاقی اردو یونیورسٹی میں تفتیشی رپورٹنگ کے حوالے سے ایک سمینارمنعقد کیا گیا جس کے مہمان ملک کے مشہور کالم نگار وسعت اﷲ خان اور سینئر اینکر پرسن و تجزیہ نگار مبشر زیدی تھے، مہمانوں نے پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر بات کی اور تفتیشی رپورٹنگ کے حوالے سے میڈیا کے طلبہ کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور قیمتی مشورے دئیے، حالیہ میڈیا بحران پر بات کرتے ہوئے مبشر زیدی نے کہا کے ضروری نہیں کہ آپ روایتی میڈیا چینل سے اپنے مستقبل کا آغاز کریں انکامزید کہنا تھا کہ اب Digital Avenue میں اتنی وسعت آگئی ہے کہ اس سے پیسے کمایا جا سکتا ہے ، جیسا کہ ہمارے پڑوس بھارت اور بنگلہ دیش میں کام ہو رہا ہے جہاں ایک گروپ آف اسٹوڈنٹس یہ کام کررہے ہیں اگر چہ اس میں محنت زیادہ ہے لیکن بجائے اس کے کہ آپ چھ مہینے بغیر تنخواہ کے کام کریں اس سے بہترہے اپنا ویب چینل کھولیں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ آغاز کر یں ۔اس حوالے سے وسعت اﷲ خان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بحران دائمی نہیں ہوتا ،عروج اور زوال آتے ہیں طلبہ کو گھبرانا نہیں چاہئے اس بحران کا مقابلہ کر کے اپنا راستہ خود بنائیں، اور آج یہ بحران ہے کل کو کوئی اوربحران ہوگا ہر طرح کے حالات کے لئے تیار رہنا چاہئے ،ہم نے اپنے اُستادوں سے یہی سیکھا او ر طلبہ کے لئے بھی ہمارہ یہی مشورہ ہے۔

لہٰذا نئے آنے والے طلبہ حالیہ میڈیا بحران سے مایوس نہیں ہوں بلکہ ان حالات میں اپنے آپ کو منوائیں ضروری نہیں کے آپ کسی میڈیا چینل میں ہی کام کریں بلکہ اپناکچھ تخلیقی کا م کریں جس سے ایک الگ پہچان بنے جیسا کہ جن کو اچھا لکھنا آتا ہے وہ اپنی تحریر سے آغاز کرسکتے ہیں مثلاً اخبارات میں کالم لکھیں اس کے علاوہ مختلف سوشل میڈیا کے ویب سائٹز پر بھی اپنے کالم کو شائع کروا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ویب چینل بنا کر اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے بھی پیسے کما سکتے ہیں، جو کہ آپ کی تخلیقی صلاحیت کو مزید ابھارنے ہیں معاون ثابت ہوگا اور بلاشبہ آپ کامیاب مستقبل کی طرف گامزن ہوں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Zishan

Read More Articles by Muhammad Zishan: 5 Articles with 2677 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Dec, 2018 Views: 349

Comments

آپ کی رائے