معصوم چراغ گل ہو رہے!!! سائیں سرکاربھنگ کے نشے میں

(Shaheer Akbar Khan Abbasi, Karachi)
تھرپارکر میں قحط سالی یا خشک سالی ہوتی ہو گی مگر کیا اسپتالوں میں سہولیات دینا حکومتی ذمہ داری نہیں؟ کیا وہاں کی حاملہ خواتین کو صحت کے اصولوں سے واقفیت دلانا حکومتی ذمہ داری نہیں ؟کیا خوراک کی بروقت ترسیل حکومتی ذمہ داری نہیں ؟

تھرپارکر میں قحط سالی یا خشک سالی ہوتی ہو گی مگر کیا اسپتالوں میں سہولیات دینا حکومتی ذمہ داری نہیں؟ کیا وہاں کی حاملہ خواتین کو صحت کے اصولوں سے واقفیت دلانا حکومتی ذمہ داری نہیں ؟کیا خوراک کی بروقت ترسیل حکومتی ذمہ داری نہیں ؟کیا ڈاکٹروں سمیت انتظامیہ جو غفلت برتتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنا حکومتی ذمہ داری نہیں؟کیا حکو متی ذمہ داری صرف برسی اور سالگرہ منانا ہے؟کیا حکومتی ذمہ داری صرف صوبائیت کو ہوا دینا ہے؟ کیا حکومتی ذمہ داری صرف منور تالپور پر بات کرنا ہے کیا حکومتی ذمہ داری صرف و فاقی حکومت کو یہ کہنا ہے کہ منور تالپور پر مقدمات بنا کر نئے سال کا تحفہ دیا گیا ؟۔

خبروں کے مطابق تھر پار کر میں گزشتہ پندرہ دنوں میں پچاس سے زیادہ بچوں کی اموات ہوچکی ہیں ان میں نومولود بچے زیادہ ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ حکومت کو الہام نہیں ہو جاتا کہ تھرپارکر کے کس گھر میں یا اسپتال میں کس وقت بچہ جاں بحق ہوگیا، وزیراعلیٰ صاحب سارا غصہ میڈیا پر نکالنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ اموات پہلی بار نہیں ہو رہیں، بالکل اسی تھرپارکر میں جنوری 2014سے مارچ 2014 تک 121ایک سو اکیس بچے موت کی آغوش میں سو گئے تھے اور سال 2014میں جنوری سے لے کر نومبر تک یعنی گیارہ دنوں میں تین سو گیارہ بچے دنیا چھوڑ گئے۔

تب بھی یہ ہی وزیراعلیٰ تھے، یعنی بہانے تھے اس وقت بھی پہلے یہی کہا گیا کہ غلط خبریں ہیں، دیکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ بچوں کے والدین کس طرح دہائیاں دے رہے تھے پھر پہلے ایک وزیر وہاں گیا تھا پھر دوسرا پھر وزیراعلیٰ پھر بلاول بھٹو پھر وزیراعظم گئے اور بالاآخر سپریم کورٹ نے سوموٹو ایکشن لیکر ان اموات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھرایا تھا، ورنہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء توماننے کو ہی تیار نہیں تھے کہ اتنی اموات ہوئیں پہلے کہا میڈیا جھوٹا ہے پھر کہا تھرپارکر یں کیوں کہ قحط سالی ہوتی ہے پھر کہا بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے اموات ہوئیں۔ حد تو یہ کہ اس حل طلب مسئلے کو کبھی گندم کی مناسب تقسیم سے جوڑا گیا تو کبھی ڈاکٹروں کا وہاں جا کر علاج نہ کرنا وجہ بتائی گئی پھر جب مزید دباؤ بڑھا تو صوبائی وزیرخوراک کو ہٹا کر معاملہ سلجھانے کی کوشیش کی گئی گویا وزیراعلیٰ ہونے کی حثیت سے اپنی غلطی نہ مانی گئی عدالت نے سارے حقائق جاننے کے بعد ذمہدار حکومت کو قرار دیا اور کل ہی وزیراعلیٰ نے کہا کہ عدالت سوموٹو ایکشن ہمارے خلاف ہی لیتی ہے۔ سوموٹو ایکشن کن کن معاملات پر لیا گیا وہ ایک الگ کہانی ہے، لیکن کیا تھرپارکر میں بچوں کی اموات پر پنجاب حکومت کے خلاف سوموٹولیا جاتا ؟کیا خیبرپختونخواہ حکومت کو ذمہ دار ٹھرایا جاتا؟؟؟ معصوم چراغ گل ہو رہے ہوں تھرپارکر کے والدین پر قیامت ٹوٹ رہی ہو تو کیا حکومت سندھ حالت بھنگ میں ہے والی بازگشت کسی کو بری لگے گی؟؟کل ہی ٹی وی پر مناظرچلے کہ آصفہ بھٹو اپنی بلیوں کو کراچی سے طیارے میں لاہور لائیں۔

لاہورائیر پورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بلاول ہاؤس لایا گیا، تھرپارکر کے غریب لوگ اپنے بچوں سے بلیوں جتنا پیار تو کرتے ہی ہوں گے،ان کے پاس اپنے بچوں کو مٹھی کے ہسپتال لانے کے لئے گدھا گاڑی یا بیل گاڑی بھی میسر نہیں وہ غریب اپنے علاقے کی چھوٹی موٹی ڈسپنسری سے مایوس ہو کر سیکنڑوں میل کا سفر کر کے مٹھی کے اسپتال میں جب تک پہنچتے ہیں تب تک معصوم پھول مر جھا چکے ہوتے ہیں اور مٹھی کا اسپتال کوئی اسلام آباد کے شفا اسپتال یا کراچی کے آغاخان اسپتال جیسا تھوڑا ہی ہے اور اس اسپتال میں پہنچنے والے والدین سے یہ کہہ دیا جائے کہ اسپتال میں سہولیات کمہیں یا تو کراچی کے اسپتال میں لے جائیں یا واپس گھر لے جائیں تو غریب والدین کونسا راستہ چنتے ہونگے۔ وہ گھر پہنچ کر اپنے ننھے فرشتوں کی آخری سانسیں ہی گنتے ہو نگے اور سائیں سرکار حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے محسوس ہوتے ہیں جب فرماتے ہیں کہ میں خود دورہ کروں گا معلوم نہیں ان حکمرانوں کے دورے سے کیا فرق پڑتا ہے فوٹو سیشن اسپتال کا ایم ایس معطل جو بعد میں دوسرے ضلعے میں نظر آتا ہے۔ مرنے والے کے خاندان کو ہزار پچاس یاایک لاکھ جو بعد میں مہینوں ملتے ہی نہیں اور وہاں موجود ڈاکٹر جو کہ سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہوتے ہیں، وہ ایسے دورے پر زیادہ تر سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے ہیں نقلی مریض بیڈ پر ہوتے ہیں اور اصلی مریض کو گھر بھیج دیا جاتا ہے کہ وہاں جا کر موت کا انتظار کرو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shaheer Akbar Khan Abbasi

Read More Articles by Shaheer Akbar Khan Abbasi: 6 Articles with 2103 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Dec, 2018 Views: 435

Comments

آپ کی رائے