عامل بمقابلہ موکل

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
عملیات کی دنیا کے استادوں کے استاد عبدالقیوم کے ایک عفریت کو تابع کرنے کے لیے اکیس روزہ چلے کے دوران پیش آنے والے حالات کی سچی روداد

عملیات کی دنیا میں عبدلقیوم جانا پہچانا نام ہے۔ موکلات، جنات اور ہمزاد پر قابو پانے کے شائقین عبدلقیوم کو استاد کا رتبہ دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کابڑا حصہ چلے کاٹنے میں صرف کر دیا تھا۔ وہ ان علوم کے اتنے بڑے ماہر تھے کہ ان کے پائے کا کوئی عامل بر صغیر میں نہیں تھا (میرے علم کے مطابق، جو کہ ناقص ہے) ۔ انھوں نے اس علم پر دسترس کے لیے کیسے کیسے چلے کیے ان میں سے ایک کی روداد آپ کی نظر ہے۔عبدالقیوم نے سنیاس کا علم کسی ہندو سنیاسی سے سیکھا تھا مگر وہ ڈھاکہ کے ایک عامل سے اس قدر متاثر ہوئے کہ سنیاس کو خیرباد کہہ کر عملیات سیکھنے بنگال جا پہنچے۔ مگر عامل نے کچھ سکھانے سے انکار ہی کردیا۔ ان کی منت سماجت بھی جب بے کار ہو گئی تو یہ عامل کی چوکھٹ پر بیٹھ گئے ۔ کھانا پینا نہ موسم کی پراہ، چند دنوں کے بعد ہی ان کی حالت غیر ہونے لگی توان کے ارادے کی پختگی اور شوق نے عامل کر متاثر کر ڈالا۔آگے کی داستان ان ہی کی زبانی

بابا جی کو رحم آ ہی گیا ۔ وہ میرے پاس آئے مجھے اٹھاکر کہنے لگے تیرے شوق نے مجھے حیران کر دیا ہے۔ انھوں نے مجھے ایک دوا کھلائی پھر کھانا کھلایاجس سے میرے قوت تیزی سے بحال ہوئی۔ انھوں نے کہا تم بہت دور کے رہنے والے ہو ۔ تم سندھ میں پانجے ملنگ کے پاس چلے جاو ۔ اس کو میرا بتانا۔ تم جو چاہتے ہو وہ تمھیں سکھا دے ۔ انھوں نے پانجے ملنگ کے نام ایک کاغذ بھی لکھ دیا۔میں نے لمبے اور تکلیف دہ سفر کے بعد سندھ میں پانجے ملنگ کو ڈہونڈ ہی لیا۔پانجے نے مجھے دیکھتے ہی کہا ْ میرے پاس وہی آتا ہے جس کی بد قسمتی کا آغاز ہو چکا ہو ْ ۔جو کچھ تم سیکھنا چاہتے ہو اس میں ناکامی کی کم ازکم سزا پاگل پن ہے۔خوف سے تمھاری موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ سوچ لو۔ میں تو سوچ کر اور فیصلہ کرکے ڈھاکے سے سندھ آیا تھا۔ میرے شوق کی گہرائی اور قوت ارادی کی مضبوطی کو دیکھ کر پانجے نے کہا میں تمھیں ایک آسان سا عمل بتاتا ہوں اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو تمھارے لیے اگلے اعمال کی راہ کھل جائے گی۔

پانجے نے مجھے پیسے دیے اور بازار سے کدال، کسی اور بیلچہ لانے کا کہا۔ مجھے ہداٰت ملی کہ زمین میں کبوتروں کی گمیل کی طرح گڈھا کھودوجو تمھارے قد سے بھی گہرا ہو۔نیچے سے اسے اپنے قد سے زیادہ لمبا اور چوڑا کر دو۔جب یہ قبر نما گڑھا تیا ر ہو گیا تو پانجے استاد نے گڑھے کی تہہ سے ڈیڑھ ہاتھ کی اونچائی پر ایک بڑا سا طاق بنوایا۔پھر بازار سے کالے رنگ کا کپڑا،ایک مٹی کا گھڑا، ایک پیالہ ، ایک کنستر سرسوں کا تیل اور پانچ کلو جو لے کر ماچھی کی بھٹی سے بھنوا لانے کا کہا۔جب سب سامان حاضر ہو گیا تو پانجے استاد نے کہا بیٹے اب آرام کرو۔میں تمھیں بتاوں گا کب تم نے اس قبر میں اتر کر موت سے لڑنا ہے۔اس دوران پانجے استا د نے مختصر سا عمل بھی میرے ذہن نشین کر دیا۔ جو میں نے مسلسل پڑہتے ہی رہنا تھا۔یہ اکیس دن کا عمل تھا۔اس عمل کے دوران دن کے وقت چندگھنٹے سونے کی اجازت تھی وہ بھی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ کر اس عمل میں لیٹنا منع تھا۔پیشاب وغیرہ کی حاجت کے لیے باہر آنے سے پہلے استاد کو بتانا تھا۔کھانے کے لیے بھنے جو اور پیاس کی صورت میں گھڑے سے پانی پینا تھا۔ استاد کا کہنا تھاتم اندر عمل کر رہے ہو گئے مگر میں باہر بیٹھ کر تمھاری حفاظت کروں گا۔ اس نے میرے اندر یہ یقین پیدا کر دیا تھا کہ میں جو بھی دیکھوں اس سے ڈروں نہیں ۔ڈراونے منظر صرف ڈرانے کے لیے ہوں گے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔چاند کے ماہ کا آخری اتوار تھا۔میں نے سارا سامان اپنی ہی کھودی ہوئی گھڑا نما قبر میں پہنچا دیا۔ عصر کے وقت پانجے سے اپنی جھگی سے ایک بڑا سا مٹی کا دیا نکال کر مجھے دیا۔ میں نے ادھا کنستر تیل اس میں ڈال کر طاق میں رکھ دیا۔ استاد نے دیا سلائی دی اور دیا روشن کرنے کا کہا۔ تیاری مکمل ہو چکی تھی۔ میں نیچے اتر گیا استاد نے گڑھے کے منہ کو کالے کپڑے سے بند کر دیا۔میں طاق کی مخالف سمت میں منہ کر کے دیے کے سامنے کھڑا ہو گیااور ورد پڑہنا شروع کر دیا۔ نگاہ اپنے سائے کی گردن پر مرکوز کر لی۔ ساتویں دن رات کا آخری پہر تھامجھے بادلوں کے گرجنے جیسے آوازیں سنائی دیں ساتھ ہی میرے سائے میں روشنی پیدا ہوا۔ جیسے بے جان سائے مین جان پڑھ گئی ہو۔مجھے اپنے سائے میں کئی مناظر دکھائی دیے لیکن میں ڈرا نہ اپنا ورد چھوڑا۔ مجھے دنوں کی گنتی بھول چکی تھی البتہ میں کسی بھی ڈراونے منظر کو دیکھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا۔ میں نے استاد کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا بچے دل مضبوط رکھنا آج چوہدویں رات ہے وہ صرف ڈرا سکتے ہیں تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔مگر کچھ بھی غیر معمولی واقعہ نہ ہوا اگلی را ت شروع ہوتے ہی مجھے جنگلی درندوں نے آ کر ڈرانا شروع کر دیا۔وہ بھاگ کر آتے اور مجھ پر حمل آور ہونے کی کوشش کرتے۔مجھے یقین تھا یہ سب ڈرانے کے حربے ہیں میں اپنے مقصد پر جما رہا۔ پتہ نہیں کتنی راتیں بیت چکی تھیں کہ مجھے اپنے سائے میں ایک مرد اور عورت نظر آئے کافی بچے بھی ان کے ساتھ تھے۔منظر ایک جنگل کا تھا۔ عورت مرد سے کہتی ہے بھوک لگی ہے ، بچے بھی بھوکے ہیں کچھ کھانے کو دو۔مرد ایک بڑا سا کڑاہا لاتا ہے ۔ اس مین تیل ڈال کر اس میں گوشت کے ٹکڑے ڈال دیتا ہے۔عورت کہتی ہے اس کے نیچے آگ جلاو،مرد بہت ساری لکڑیاں لا کر کڑاہے کے نیچے آگ جلاتا ہے۔ساری لکڑیاں چل گئی عورت کہتی ہے تیل تو گرم ہی نہیں ہوا اور لکڑیاں بھی ختم ہو گئی ہیں۔اب کیا کرو گے۔مرد نے ایک بچہ پکڑا اور انگاروں کے اوپر رکھ دیا بچہ چیختا رہا مگر مرد نے اسے جلا دیا۔عورت کہتی ہے تیل تو پھر بھی گرم نہیں ہوا۔ مرد دوسرے بچے کو جلاتا ہے۔ بچوں کی چیخیں نکلی رہیں اور مرد نے سب بچوں کو ایک ایک کر کے جلا دیامگر تیل گرم نہ ہوا۔ عورت نے کہا اب کیاکرو گے۔مرد کہتا ہے یہ سامنے جو عمل کر رہا ہے اب اس کی باری ہے۔ مرد نے ہاتھ میری طرف بڑہایا لیکن مجھے معلوم تھا یہ صرف ڈراسکتے ہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ میں خوفزدہ ہوا نہ اپنا ورد چھوڑا۔ اس کے ساتھ ہی مرد اور عورت نے اپنا کڑاہا اٹھایا اور غائب ہو گئے۔

اٹھارہ ، بیس گھنٹے کھڑے ہو کر ایک ہی جملے کو ہر سانس کے ساتھ دہراتے رہنااتنا مشکل ثابت نہ ہوا اصل پریشانی تیل کے جلنے سے پیدا ہونے والے دھویں کی تھی، جسمانی نقاہت، نیند کی کمی ، میں وقت کا احساس کھو چکا تھا، لگتا تھا میں صدیوں سے یہیں کھڑا ہوں، لیکن میں جس مقصد کے لیے کھڑا تھا اس کو پورا کرکے مجھے جو قوت حاصل ہونی والی تھی اس امید کا بڑا سہارا تھا۔مین موٹے موٹے مناطر بتا رہا ہوں ورنہ یہ تھی کہ ایک کوٖ دور ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتاْ استاد پانجے کی ٓواز سنائی نے میرے اندر گویا نئی اندگی پھونک دی۔ بچے یہ آخری رات ہے اور مقابلہ سخت ہے۔ ڈرنا نہیں وہ کچھ بھی کر لیں تجھے نقصان نہین پہچا سکتے۔بس ورد کسی صورت نہ چھوڑنا، ساتھ ہی مجھے ایک خونخوار جانور نظر آیا اس نے بار بار مجھ پر کیا۔مجھے اس کا حملہ نظر آتا تھا۔ وہ خونخوار قسم کے دانت میرے جسم میں گاڑتا مگر مجھے نہ کوئی زخم آیا نہ درد محسوس ہوا۔ مجھے نہیں معلوم یہ عمل کتنی دیر جاری رہا ۔ استاد کی موجودگی کا بھی سہارا تھا۔ باربار استاد کی یقین دہانی بھی جاری تھی کہ کوئی چیز تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ اج آخری رات ہے تیرا عمل کامیاب ہو رہا ہے بس ڈر نا نہیں ۔ شیر جسم میں دانت گاڑھ دے اور انسان ڈرے نہ۔ مگر میں پسینے سے شرابور ضرور ہو گیا مگر اپنا ورد نہیں چھوڑا۔ مجھے معلوم تھا یہ ورد ہی میرا محافظ ہے۔ شیر نما جانور انسانی آواز مین بول پڑا۔تم تو انتہائی ڈہیٹ ہو۔فکر نہ کرو میں اپنے دادے کو بھیجتا ہوں وہی تمھارا علاج کرے گا اج تم زندہ نہیں بچوگے۔ استاد نہ ڈرنے کی باربار تلقین کر رہا تھا۔ بار بار یاد دلاتا آج آخری رات ہے ۔ آج نہ ڈرے تو تم دنیا کے سب سے بڑے عامل ہو گے۔ بس اپنا ورد نہ چھوڑنا۔ کامیاب تم ہی ہو گے۔اتنے میں میرے سائے میں ایک سفید رنگ کا سانپ نظر آیا۔کھلا منہ ، نوکیلے دانت، اس کی پھنکار ایسی خوفناک کہ میں نے زندگی میں ایسی ڈراونی آواز نہ سنی تھی۔ میرا جسم پسینے مین شرابور تھا۔ زندگی ہر جاندر کو عزیز ہوتی ہے ۔ استاد کی موجودگی اور اس کی بار بار کی اس یقین دہانی سے کہ وہ مجھے کوئی جسمانی نقصان نہین پہنچا سکتا مجھے کافی سہارا ملا۔ سانپ پھنکارتا رہا مجھے ڈسنے کے لیے حملہ کرتا دکھائی دیتا مگر مجھے ڈس نہ سکا۔ اس کے بعد اس نے میری ٹانگوں کے گرد لپٹنا شروع کیا ۔ میں خوف زدہ تو ہوا مگر واحد سہارا ورد کا تھا۔ میری آواز خوف کے باعث اونچی ہوتی چلی گئی۔ باہر سے استاد کی تلقین بڑھ گئی۔ سانپ کی پھنکار، میری ورد کرتی کانپتی آوازاور استاد کی تلقین کرتی آوازوں میں سانپ اپنا گھیرا سینے تک مکمل کر چکا تھا۔ استاد نے بار بار کہتا ڈرنا نہیں میں تیرے پاس موجود ہوں۔ میں عمل کررہا ہوں ۔جو بھی ہے تجھ سے انسانی زبان میں بات کرے گا ، ڈرنا نہیں تمھارا عمل کامیاب ہو چکا ہے تم دنیا کے سب سے بڑے عامل بننے والے ہو ، بس ڈرنا نہیں اور جب تک یہ جس شکل میں بھی ہے انسانی آواز میں تجھ سے بات نہ کرے اپنا ورد نہیں چھوڑنا۔سانپ نے اپنا منہ میرے چہرے کے بالکل سامنے کر لیا مجھے لگا ابھی مجھے ڈسنے کے لیے حملہ کرے گا ۔ مگر سانپ میرے جسم سے علیحدہ ہو گیا ۔ نیچے اتر کر اس نے انسانی آواز میں کہا۔ عامل صاحب بولو مجھ سے کیا چاہتے ہو، میں نے استاد پانجے کی بتائی شرطیں اسے بتائیں اور حاضری کا طریقہ پوچھا۔ جواب میں اسنے اپنی تین شرطیں بتائیں۔ ہمارے معاملات طے ہوگئے۔ میری محنت رنگ لے آئی۔ استادپانجے میرا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالاْگلے لگایا اور مبارک بادی دی۔ نقاہت کے باعث میرا کھڑا ہونا مشکل تھا۔میں نے استاد سے کہا مجھے طاقت کے لیے کوئی نسخہ دیں۔ پانجے استاد نے کہا ۔جوجو شکلیں تم نے دیکھیں ہیں سب موکل تیرے قابومیں آ چکے ہیں ۔ ان سے نسخے بھی لو اور خدمت بھی کراو۔ تم اب میرے بعد دوسرے نمبر پر ہو اور تمھارے مقابلے کا کوئی عامل پورے ملک میں نہیں ہے ۔دراصل میں ایک عفریت کو تابع کرنے میں کامیاب ہوا تھا ۔ جو معمولی کامیابی نہ تھی۔ چند ہی دنوں میں مجھے عفریت کی طاقتوں کا اندازہ ہوگیا۔ میں ہر وہ چیز حاصل کر سکتا تھاجس کا تصور ہو سکتا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1493 Print Article Print
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 62 Articles with 13694 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: