ہماری سیاحت اور حکومتی عدم توجہی

(Hafiz Zahid Maqbool, Cheecha Watni)

کچھ عرصہ قبل دوستوں کے گروپ کے ساتھ سوات کے پرفضا مقام کالام اور مہوڈنڈ جھیل جانے کا اتفاق ہوا۔ سیاحت کا شوق اور دوستوں کا گروپ ہو تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ ہم پانچ دوست ہفتہ کے دن دو بجے چیچہ وطنی سے نکلے۔مختلف تفریحی مقامات پر تھوڑی دیر رکتے رکتے سفر جاری رہا۔ ویسے بھی سوات کو ایشیاء کا سویزرلینڈ کہا جاتا ہے۔مدین اور بحرین سے کالام میں داخل ہوتے ہی جو قدرت کے شہکار حسین مناظر ہیں وہ واقعی قابل دید ہیں۔

بحرین کے بازار میں داخل ہوکر عصر کا وقت ہلکی بارش سیاحوں کا رش ہر طرف گہما گہمی دل کو عجیب سروردے رہی تھی۔بحرین کے بازار سے نکل کر جگہ جگہ سیاح آسمان کو چھوتی بلند پہاڑوں کے ساتھ سلیفیاں بنانے میں مصروف تھے دریائے سوات پہ بنے لکڑیوں اور رسیوں کے پلوں پر بھی سیاح تصاویر بنانے میں مصروف تھے۔ہم سہانے موسم اور دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہوتے رہے سلیفیاں اور تصاویر بناتے رہے مگر شومئی قسمت جیسے جیسے آگے بڑتے گئے بحرین تا کالام شاہراہ کھنڈرات کی شکل میں موجود شاہراہ عبور کرتے رہے۔ہچکولے کھاتے انتہائی سست رفتاری اور بے حد احتیاط سے چلتے کیونکہ نہ سڑک کے کوئی آثار نظر آرہے تھے نہ کوئی حفاظتی پشتہ تھا۔بہت عرصے سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ کالام روڈ خراب ہے لیکن یہ اندازہ کھبی نہیں تھا کہ اس قدر خراب ہوگا۔جگہ جگہ تالاب نما گڑھے ، تنگ اور پرخطر راستے سے گزرتے ہوئے سیاحوں کو اپنی سواریوں سے زیادہ جان کی فکر لاحق ہوتی ہے۔کئی جگہوں پر روڈ اس حد تک تنگ ہے کہ ایک سائیڈ والی گاڑیاں جب تک نہ گزرے دوسرے سائیڈ والے انتظار کرتے ہیں۔جو رش میں ایک تکلیف دہ عمل ہے۔

بحرین سے کالام اس پکڈنڈی نما راستے پر جاتے ہوئے مجھے بار بار یہ خیال آتا رہا کہ ہماری حکومت سیاحت کے فروغ میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہی؟ بحرین سے کالام تک کا تیس پینتس کلومیٹر کا روڈ اتنے سالوں سے کیوں کھنڈرات کی شکل پیش کر رہا ہے؟ اگر یہ روڈ وفاقی حکومتی اداروں کے اختیارات میں ہے تو کیوں لاپرواہی بھرتی جارہی ہے؟ کیا باقی صوبوں کو سیاحی مقامات کا یہ عالم ہے؟ پرستان جیسا علاقہ اتنے سالوں سے نظر انداز کیوں کیا جارہا ہے؟

جہاں حکومت بڑے بڑے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں وہاں ہزاروں لوگوں کے زریعہ معاش پر اثر انداز ہونے والے اس خوبصورت سیاحتی مقام کو اور لاکھوں سیاحوں کو حکومت پس و پشت کیوں ڈال رہی ہے؟

کالام کے رہائشی دو تین مہینے کی سیزن گزارنے کے بعدمعاش کے لئے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں اگر حکومت کالام سمیت ملحقہ علاقوں کی شاہراہوں اور سہولیات پر توجہ دے تو یہاں کے رہائشی دونوں سیزن غم روزگار سے آزاد ہوکر مستقل بنیادوں پر یہاں آباد ہوجائیں گے۔

ہم اس خستہ حال روڈ پر کچھوئے کی طرح چلتے تقریبا شام 8بجے کالام پہنچ گئے سارے راستے کی تھکن ایک طرف اور بحرین سے کالام تک کے تیس کلومیٹر کے سفر کی تھکاوٹ دوسری طرف۔کالام کے بازار میں رات کے وقت سیاحوں کیرش کی وجہ سے رونق تھی۔۔ضرویات زندگی کے سامان کے علاوہ ،لکڑی سے بنے شو پیس ، ڈرائی فروٹس ، سواتی شال اور دستکاری سے سجے کپڑوں اور چادروں میں سیاحوں کی دلچسپی اس کے دکانوں میں رش سے لگایا جاسکتا تھا۔

اگلے دن ہمیں مہوڈنڈ کے لئے نکلنا تھا۔رات کی ہلکی بارش نے کالام کی فضا خوشگوار بنادی تھی صبح ناشتے کے بعد جب مہوڈنڈ کی طرف نکلیں تو جنگلات کا ایک سلسلہ شروع ہوا{کچھ مقامات پر درختوں کی کٹائی بھی ہوئی تھی،جس کی روک تھام کرنی چاہئے} دیار کے اونچے اونچے درختوں کے درمیان روڈ بحرین سے کالام تک کے روڈ سے بہتر تھا لیکن یہ روڈ بھی کچھ فاصلے کے بعد ختم ہوگیا ہمارے سامنے مہوڈنڈ تک کا سفر پتھریلے پہاڑی راستوں پرسے تھا۔راستے کے ساتھ بہتے دریا اور اونچے درختوں کے حسین نظاروں سے محضوظ ہونے رکتے اور روانہ ہوتے ہم نے کئی مقامات پر سیاحوں کواپنی گاڑیوں سے اتر کر دھکے لگاتے دیکھا۔ ایک مقام پر ہم نے خود اپنی گاڑی کو دھکا لگایا۔ خطرناک چڑھائیوں اور اترائیوں، ناہمور اور پھتریلے روڈ کے باوجود یہ سیاحت کا شوق ہے جو لوگوں کو یہاں آنے پر مجبور کردیتا ہے۔

گزشتہ صوبائی حکومت نے بھی اپنے اختیارات میں مہوڈنڈ جھیل ، دیگر شاہراہوں پر توجہ نہیں دی جو اس کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔صوبائی حکومت اگر اس طرف توجہ دیتی تو سیاحت کی فروغ میں مدد ملتی ہزاروں لوگوں کو روزگار میسر آتے لاکھوں سیاح آتے اور صوبے کے علاوہ علاقے کی معیشت پر اچھا اثر پڑتا۔

کالام سے مہو ڈنڈ تک فاصلہ 35 کلومیٹر ہے جو ہم نے سست رفتاری اور انتہائی احتیاط سے تین گھنٹوں میں طے کیا۔پہاڑوں کے بیچ بنے قدرت کے عجوبے مہوڈنڈ جھیل پہنچ کر ساری تھکن ختم ہو گئی،سرسبز ہرے گھاس ، پہاڑوں سے نکلتے پانی ، اور ہر طرف اونچے اونچے پہاڑوں کے بیچ میں واقع یہ جھیل سیاحوں کے توجہ کامرکز بنا ہوا ہے۔

بس ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہاں کے شاہراہوں اور سہولیات پر توجہ دیں اور یہاں کے مسائل ختم کریں ساتھ ہی یہاں کے عوام کی معاش میں ریڑ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی انڈرسٹری ’’سیاحت‘‘ کوفروغ دیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiz Zahid Maqbool
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Dec, 2018 Views: 634

Comments

آپ کی رائے