اینٹی انکروچمنٹ آپریشن۔۔۔ کیا حقیقت کیا فسانہ

(Muhammad Rehan, Karachi)

سپریم کورٹ کے حکم پر تجاوزات کیخلاف آپریشن کو ایک ماہ مکمل ہوگیا، مختلف شہروں میں تجاوزات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، تجاوزات کیخلاف آپریشن کراچی سمیت پورے ملک میں ہورہا ہے، جس سے شہری مطمئن دکھائی دے رہے ہیں مگر تجاوزات کیخلاف آپریشن سے جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ حکومت سے ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ بحث زبان زدعام ہے کہ تجاوزات کیخلاف آپریشن درست اقدام ہے یا غلط، بحیثیت شہری میری رائے یہ ہے کہ یہ درست اقدام ہے، اس حوالے سے میری بہت سے شہریوں سے بات چیت ہوئی وہ بھی تجاوزات کیخلاف آپریشن سے خوش دکھائی دیتے ہیں، حکومت کو یہ قدم بہت پہلے اٹھا لینا چاہئے تھا لیکن جب بھی تجاوزات کیخلاف آپریشن کی بات ہوتی تھی، سیاست آڑے آجاتی تھی مگر اس بار سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بلاتفریق کارروائی کی گئی اور تجاوزات کیخلاف کامیاب آپریشن ہوا، جو اب بھی جاری ہے۔

تجاوزات کے خلاف آپریشن سے ایک طرف قانون کی بالادستی قائم ہوئی ہے اور دوسری طرف مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام بہتر ہونے کی توقع پیدا ہوگئی ہے، تجاوزات اور غیر قانونی دکانوں، چبوتروں کے سبب ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوتی تھی لیکن اب ایمپریس مارکیٹ اور اطراف کی مصروف ترین شاہراہوں پر سفر کچھ آسان ہوگیا ہے۔

کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں تجاوزات کیخلاف آپریشن ہوا تو مشتعل افراد نے کے ڈی اے کی ٹیم پر حملہ کردیا گیا، جس سے حالات کشیدہ ہوئے، عوام کو چاہئے کہ وہ تجاوزات کیخلاف آپریشن کرنیوالی مقامی انتظامیہ کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور ان کا ساتھ دیں، کیونکہ وہ جو بھی کررہے ہیں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کر رہے ہیں اور درست کر رہے ہیں۔

شہری انتظامیہ کے اداروں نے انسداد تجاوزات آپریشن کے حوالے سے تمام اضلاع کی رپورٹ تیار کرلی ہے، جس کے مطابق ایک ماہ کے دوران 7 ہزار دکانیں اور 10 ہزار سے زائد سن شیڈ گرائے گئے، جبکہ آپریشن میں 5 ہزار سے زائد وال فکسچر، 2 ہزار سے زائد تھلے اور چبوترے گرائے گئے، کارروائی میں ایمپریس مارکیٹ میں بھی 2 منزلہ غیر قانونی عمارت گرائی گئی۔

کے ایم سی کی رپورٹ کے مطابق ضلع جنوبی کے 3 علاقوں میں 1706 دکانوں اور تجاوزات کو گرایا گیا، ضلع وسطی میں 9 مقامات پر 302 دکانیں اور متعدد شادی ہالز مسمار کئے گئے، ضلع کورنگی میں 4 مقامات پر 280 دکانیں، 6 ہوٹل اور دیگر تعمیرات منہدم کی گئیں جبکہ ضلع شرقی میں 11 دکانیں اور 200 سے زائد دیگر تجاوزات ختم کی گئیں۔ ضلع ملیر میں تجاوزات کیخلاف کوئی آپریشن نہیں کیا گیا، جہاں پیپلز پارٹی کے منتخب بلدیاتی چیئرمین ہیں۔ ملیر میں تجاوزات کی بھرمار ہے لیکن کے ایم سی کے ساتھ تعاون نہیں کیا جارہا، سندھ حکومت کو چاہئے کہ وہ کے ایم سی کے ساتھ تعاون کریں اور غیر قانونی دکانوں کو مسمار کرانے میں شہری انتظامیہ کی مدد کریں۔

دوسری جانب تجاوزات کیخلاف آپریشن سے ایسے دکاندار بھی متاثر ہوئے ہیں جنہیں بلدیاتی اداروں کی جانب سے مالکانہ حقوق دیئے گئے تھے، حکومت ان کا ازالہ کرے اور انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے، شہر میں جائز دکان یا زمین رکھنے والوں کو تجاوزات کی زد میں نہیں لانا چاہئے۔ کراچی سمیت پورے ملک میں تجاوزات کیخلاف آپریشن سے سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوا ہے، حکومت آئندہ ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان بھر میں پھر کبھی بھی تجاوزات قائم نہ ہوسکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Rehan

Read More Articles by Muhammad Rehan: 5 Articles with 2152 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Dec, 2018 Views: 229

Comments

آپ کی رائے