قانون سازی کی اہمیت

(Syeda Midhat, )

اس کے باوجود بھی جمہوریت کے وکیل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک عین اسلامی طرزِسیاست وحکومت ہے جبکہ اس کی پارلیمنٹ کے کسی ایوان میں قانون سازی ہورہی ہوتوبحث اس بات پرنہیں ہوتی کہ ایسا قانون بنانے میں منشائے الہیٰ یا قرآن وسنت کے مطالبات کیا ہیں، بلکہ گفتگومعروضی حالات، گمراہ کن اعدادوشماراورمغربی’’ترقی یافتہ‘‘ ممالک کے قوانین کے حوالوں سے باہرنہیں نکل پاتی۔ ہرممبرقومی اسمبلی یاسینیٹرماہراقتصادیات وقوانین عالم بن کربات کررہا ہوتا ہے اورہاتھوں میں پکڑے مغربی رسالوں میں چھپے مضامین اورعالمی اداروں کی رپورٹوں کولہرالہراکربتاتا ہے کہ اگرہم نے مغرب میں رائج قانون کواس کی روح کے مطابق پاکستان کے لیے منظورنہ کیا تواس میں کئی خطرات ہیں۔ اول توہمیں پسماندہ، دقیانوسی، جاہل اورشدت پسند تصورکرلیا جائے گا۔ دوئم یہ کہ ہماری معاشی ترقی رک جائے گی، سوئم یہ کہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ اورعدم توازن آ جائے گا اورچہارم یہ کہ ہم دنیا سے الگ تھلگ ہوجائیں گے اورکوئی ملک بھی دنیا میں ایک جزیرہ بن کرنہیں رہ سکتا۔ ایسا کرتے ہوئے اورزورداربحث کرتے ہوئے وہ اسلام کی تعلیمات کوپس پشت ڈال کر، ان کی اپنی مرضی سے تعبیرکرکے، یا پھرمکمل طورپراسلام کے اصولوں کے مقابل کھڑے ہوکرپارلیمنٹ کی اکثریت کوئی قانون منظوورکرلیتی ہے اوروہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نافذالعمل ہوجاتا ہے۔

یعنی قرآن کی نص قطعی یا واضح حکم بھی اس وقت تک قانون کا درجہ، مقام اورمرتبہ حاصل نہیں کرسکتا جب تک پارلیمنٹ کے اراکین اس حکمِ الہیٰ پراپنی مہرتصدیق ثابت نہیں کرتے۔ روزانہ بے شمارایسے قوانین منظورہوتے ہیں جن کے خلاف اللہ اوراس کے رسول نے واضح احکامات دیے ہیں، لیکن ہم جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات، جدید مغربی حالات اورملکی خیرخواہی کے نام ڈھٹائی کے ساتھ اپنی مرضی اورمنشاء کوقانون کا درجہ دیتے رہے ہیں۔ اس کی اہم ترین مثال سودی بینکاری ہے۔ ہم نے آئین میں عوام کودھوکا دینے کے لیے یہ لکھ دیا ہے کہ رباء (سود)کوختم کیا جائے گا، لیکن روزانہ ایک ایسے نظام کے بارے میں قوانین بنتے ہیں جس کے خلاف اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کا اعلان کیا ہے۔ بینکنگ قوانین بن رہے ہوتے ہیں، ان میں ترمیم واضافہ ہورہا ہوتا ہے، شرح سود کے بارے میں قانون سازی ہوتی رہی ہے۔ یہ کام صرف پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نہیں کرتی بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جمہوری نظام اپنی آب وتاب سے رائج ہے وہاں اس ایک بات کا ٹھیکہ لیا گیا ہے کہ قوانین کی ترتیب وتدوین میں احکامات الہیٰ اورمذہبی اقدارکا کس طرح انکار کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں امریکا سے لے کر کینیڈا، برطانیہ، بھارت اورپاکستان تک گمراہ کن حقائق واعدادوشمار پیش کرکے قوانین منظورکروالیے جاتے ہیں۔ ایسے قوانین جوتمام مذاہب، اسلام، عیسائیت یا یہودیت کے بھی خلاف ہوتے ہیں۔ چونکہ ایک سیکولرمعاشرے کوترتیب دینا جمہوری نظام سیاست کا مقصد ہے، اس لیے خواہ معاشرہ، افراد یا پوری قوم مانے یہ نہ مانے چند سواراکین سینیٹ واسمبلی ایسے دین دشمن قوانین منظورکروالیتے ہیں۔

ایسا ہی ایک قانون بچیوں کی کم عمرمیں شادی پرپابندی کا قانون ہے۔ دنیا کا ہرمذہب بچیوں کی شادی پرپابندی عائد کرتا ہے، لیکن بلوغت کے فوراً بعد شادی کا حکم دیتا ہے، لیکن جمہوری اداروں میں بیٹھے ہوئے یہ مکاراراکین، قانون بناتے ہوئے ایک عیاری کرتے ہیں کہ بلوغت کی عمرکا تعین اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ دنیا کے ہرملک نے اپنی مرضی سے بلوغت کی عمرمتعین کی ہے۔ اس وقت دنیا بھرکے 158 ممالک نے شادی کے لئے اٹھارہ سال کی عمرکی پابندی کا قانون منظورکررکھا ہے جب کہ چند ممالک مثلاً بنگلہ دیش، بولیویا، پورٹیریکو، سرینام، ملیشیائ، فلپائن، سنگاپور، گرنیڈا اورامریکا کی ریاست مسی سپی میں قانونی طورپرشادی کرنے کے لیے آپ کو21 سال کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ 19 اور20 سال تک شادی پرپابندی لگانے والے ملک بھی ہیں۔ یہ تمام ممالک شادی پرپابندی کی بہت سی جسمانی اورنفسیاتی وجوہات بتاتے ہیں اورانہیں وجوہات کی بنا پردیرسے شادی کرنے کے قوانین مرتب کرتے ہیں۔ پوری دنیا کے یہ جدید سیکولرنفسیاتی نابغے شادی کومعاشرتی وجسمانی ضرورت اوررومانوی بندھن نہیں بلکہ ایک بہت بڑے بوجھ کے طورپرلیتے ہیں اوراسے ایک عمومی کاروباری معاہدے کی سطح پرتصورکرتے ہیں۔ وہ بچوں کی کم عمری میں پیدائش کوایک بہت بڑاطبی مسئلہ بنا کرپیش کرتے ہیں۔

ان تمام وجوہات کے لیے وہ گمراہ کن اعدادوشمار اکٹھا کرکے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں مثلاً کم عمری میں زچہ بچہ کی صحت کے بارے میں وہ اعدادوشمار دکھا کرلوگوں کوخوفزدہ کیا جاتا ہے جوافریقہ اورایشیا کے ممالک کے ہوتے ہیں جہاں طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے چالیس سال کی عورت بھی ماں بنے توزچہ بچہ کی صحت کوخطرہ ہوگا۔ جب امریکا میں ہرسال ملک میں نافذ قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے دس لاکھ بچیاں 19 سال سے کم عمرہونے کے باوجود بچوں کوجنم دیتی ہیں، (باقی صفحہ5پر)

لیکن ان میں سے کوئی بھی اس خطرے کا سامنا نہیں کرتی جس میں زچہ بچہ کی جان اورصحت داؤپرلگ جائے۔ اسی طرح مغربی معاشرے کی کم سنی کی غیرقانونی شادی کے دوران معاشرتی، معاشی اوراخلاقی دباؤ کی وجہ سے علیحدگی کی شرح کوجواز بنا کرپھرگمراہ کن اعدادوشمار گھڑے جاتے ہیں۔

حالانکہ مشرق وسطیٰ، مشرق بعید، افریقہ اوردیگرممالک جہاں بلوغت کے فوراً بعد شادی کا رواج ہے وہاں علیحدگی اورطلاق کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح گمراہ اعدادوشمار کی بنیاد پرسینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان میں خواتین کی شادی کی عمر16 سال سے بڑھا کر18 سال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ کل یہ قانون بھی بن جائے گا، اس لئے کہ دنیا کے تمام ‘‘ترقی یافتہ‘‘ جمہوری ممالک میں ایسا قانون نافذ ہے۔ ہمارا کم عمری کی شادی پرپابندی کا قانون بھی انگریز نے 1926ء میں لاگو کیاتھا اوراب ہمیں 90 سال بعد دنیا کا ساتھ تو دینا ہے۔

دنیا کے تمام ممالک نے قوانین توبنا لیے، انسان کی اس فطری جبلت پرپابندی بھی لگا دی کہ وہ بلوغت پرپہنچتے ہی شادی کرے، لیکن اس قانون اورپابندی کا جس طرح پوری دنیا کے مہذب معاشرے میں لوگوں نے مذاق اڑایا اورنوجونوں نے اسے جوتے کی نوک پررکھا، ایسا کسی اورقانون کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ دنیا کے گیارہ ممالک جن میں 19 سال سے کم عمربچیاں مائیں بن جاتی ہیں ان میں امریکا سب سے اوپرہے جہاں ہرایک ہزارماؤں میں سے 52 کم سن مائیں بچے جنتی ہیں، دوسرے نمبرپربرطانیہ ہے جہاں 30 کم سن بچیاں مائیں بنتی ہیں اس کے بعد نیوزی لینڈ 29، سلویکیا 26، آئس لینڈ 24، پرتگال 21، کینیڈا 20، پولینڈ 18، آئرلینڈ 18 اورالبانیہ میں ایک ہزارماؤں میں چودہ کم عمرمائیں ہوتی ہیں۔ اس سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ چونکہ ان تمام ملکوں میں کمسن بچیوں کوشادی کی اجازت نہیں ہے اس لیے یہ تمام بچے بغیرشادی یعنی ناجائزپیدا ہوتے ہیں۔ ییلYale یونیورسٹی میں ایک تحقیق توحیران کن نتائج سامنے لے کرآئی۔ اس کے مطابق 2016ء میں پوری دنیا میں 14 کروڑ بچے پیدا ہوئے جن میں سے دوکروڑدس لاکھ ناجائز یعنی شادی کے بغیراوران میں سے 95 فیصد سے زیادہ کم سن ماؤں کے ہاں پیدا ہوئے۔ جنوبی امریکا کے ممالک برازیل، چلی،

کوسٹاریکا، جمیکا، میکسیکو اورکولمبیا میں ناجائز بچوں کی پیدائش کی شرح 60 فیصد کے قریب ہے جبکہ بلجیم، ڈنمارک، فرانس، ناروے، سویڈن میں یہ شرح 50 فیصد تک ہے۔ یعنی ہردوسرا بچہ شادی کے بغیرپیدا ہورہاہے۔ جیسے جیسے اورجہاں جہاں کم سنی کی شادی پرپابندی لگی ہے، کمسن ماؤں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی تحقیق کے مطابق 1964ء میں کمسن ماؤں کے ناجائز بچوں کی پوری دنیا میں تعداد صرف 10 فیصد سے زیادہ نہ تھی اب یہ خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ ان ناجائز بچوں کی پیدائش کے بعد جو ہوتا ہے، وہ بہت المناک ہے۔ مردعموماً بھاگ نکلتا ہے، کسی دوسرے کی زلفوں کا اسیرہوجاتا ہے اوروہ کم سن ماں اپنے بچے پال رہی ہوتی ہے، مزدوری کرتی ہے، تعلیم چھوڑدیتی ہے، جسم بیچنے لگتی ہے۔ یہ اعداد و شماراگردیکھے جائیں توخوف سے پسینہ آنے لگے، لیکن کیا کریں جمہوریت، سیکولرازم، ترقی اورجدت کا اظہارایسے ہی ہوسکتا ہے کہ یہ چارسوکے قریب ممبران اسمبلی یہ ثابت کریں گے کہ (نعوذباللہ) ہم خدائے بزرگ وبرترسے بہترسوچتے ہیں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے بہترقانون بنا سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda Midhat

Read More Articles by Syeda Midhat: 5 Articles with 1960 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Dec, 2018 Views: 299

Comments

آپ کی رائے