مطالعہ جموں کشمیر فطری اور عالمی قانون کی نظر میں

(Quayyum Raja, )

فطری قانون کے تحت ہر فرد اور خطے کے لوگوں کو اپنے اسلاف کی تاریخ اور ثقافت کو محفوط کرنے اور پڑھنے اور پڑھانے کا حق حاصل ہے۔ دنیا میں جو بھی طاقت اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے اس کے خلاف منفی جذبات و خیالات جنم لیتے ہیں جبکہ ایک دوسرے کی معاشرتی قدروں کا احترام باہمی تعلق کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔ چند سال قبل میں ترکی میں تھاجہاں متعدد علمی اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس دوران سات سو سال تک سلطنت عثمانیہ کا عظیم دور زیر بحث آیا۔ آج کے مشرقی یورپ کے وہ ممالک جو ستر سال تک سوویت کیمپ میں رہنے کے بعد اب یورپی یونین کے ممبران ہیں انکی اکثریت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھی۔ مذہبی معاشرتی اور ثقافتی فبرق کے باوجود ان یورپی ریاستوں کا اتنا طویل عرصہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ رہنا تاریخ کے کسی بھی طالب علم کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ ہنگری کے ایک تجزیہ کار اور کالم نگار کے مطابق سلطنت عثمانیہ کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ عثمانوی مرکز نے مقبوضہ ریاستوں کے لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کی اور نہ ہی مرکز سے اپنے نمائندے مسلط کیے سوویت یونین کے خاتمے کی ایک وجہ معاشرتی و سیاسی جبر تھا اور یہی جبر امریکہ کو لے ڈوبے گا۔ برطانوی راج کے زوال کی وجہ کالونیوں سے وسائل کی لوٹ مار اور فرانس کی کالونیوں کی بغاوت کی وجہ جمہوری ، سیاسی و تہذیبی تربیت کے نام پر ہر جگہ فرانسیسی زبان، روایات اور تاریخ مسلط کر نا تھاسیاہ فام افریکی باشندوں کا کہنا تھا کہ انکے رنگ کے علاوہ انکا اپنا کچھ نہیں رہا سامراجیوں نے اپنے تجربات سے سیکھتے ہوئے دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ قائم کی اور وہاں بھی انہوں نے سیکورٹی کونسل کی مستقل نشستوں کی شکل میں اپنی اجارہ داری کی نئی طرز اور شکل قائم کی لیکن کچھ ایسے قوانین بھی بنائے جن میں اپنے لیے کشش پیدا کی ان میں ایک ہر ریاست میں بسنے والے لوگوں کی معاشرت، تاریخ و ثقافت کے احترام و پاس کرنے کی پالیسی ہے جسکی یہاں چند ایک مثال دی جا رہی ہیں۔

یونیسکو اقوام متحدہ کا ایک زیلی ادارہ ہے جو قوموں کے معاشرتی حقوق کے تحفظ کی حمایت و تحفظ کی ضمانت کا دعویدار ہے۔ اقوام متحدہ کے آرٹیکل ۲۷ کے تحت قومو ں اور کمیونٹز کے سول اور سیاسی حقوق ہیں اور ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ ریاست کے اندر بسنے والے لوگوں کو کسی بھی قسم کے تعصب کے خلاف تحفظ فراہم کرے۔اقوام متحدہ کی دستاویزات E/1993.22 میں انٹرنیشنل کمیٹی کے ساتویں سیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر فرد اور کمیونٹی کو اپنی معاشرتی روایات پر عمل کا حق حاصل ہے۔ عالمی کنوینشن کا آرٹیکل پندرہ اور پیرس میں 1998 میں یونیسکو کے اجلاس کی رپورٹ میں بھی ان حقوق کی حمایت کی گئی ہے جبکہ یورپی یونین کثیر الثقافتی معاشرے کو ریاست کی رونق اور ترقی کا ضامن قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سمیت ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کو اپنا تشخص قائم رکھنے کی اجازت دیتا ہے

جموں کشمیر اس وقت ہندوستان، پاکستان اور چین کے قبضے میں ہے یہ قبضے جبری ہیں ۔ تمام قابضین نے ریاست جموں کشمیر کی عوام اور عالمی برادری سے ریاستی عوام کی مرضی و و منشا کے مطابق ان کو اپنے مستقبل کے تعین میں مدد دینے کا عہد کر رکھا ہے جبکہ برطانیہ قانون آزادی ہند کے آرٹیکل 7-1bکے تحت جموں کشمیر کو اسکا حق دلوانے کا پابند ہے۔ برطانیہ پر اس لیے بھی یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نے سوویت یونین کی پیش قدمی کے خطرے کے باعث گلگت میں مداخلت کی اور بر صغیر چھوڑنے کے بعد بھی آزاد کشمیر کی فوج ختم کروانے اور گلگت بلتستان میں پاکستانی فوج داخل کروانے میں سازشی کردار ادا کیا ۔ یہ سب کچھ عالمی سطع پر بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں ہوا جس کے ذمہ دار جموں کشمیر کے عوام ہر گز نہیں ہیں لہذا عارضی طور پر قابض قوتوں کو ہر گز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ جموں کشمیر کی تاریخ و ثقافت کو مٹا کر ان کو من گھڑت اور گمراہ کن تاریخ پڑھائیں۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے اپنے نصاب سے جموں کشمیر کی تاریخ کو خارج کر رکھا ہے۔ ہندوستان میں تو کھلی بغاوت جاری ہے جسکی وجہ سے وہاں نصابی اصلاحات کی کوشش کے بجائے آزادی حاصل کرنے کی جد و جہد کی جا رہی ہے۔ پاکستان نے نام نہاد اے جے کے اور جی بی میں ستر سالوں سے جو سیاسی اور تعلیمی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے اس کی وجہ سے یہاں بھی عوام یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آیا پاکستان ریاستی وحدت کی بحالی کا حامی ہے یا غاصب ہے۔ اگر حامی ہے تو پھر جموں کشمیر کی تاریخ نصاب سے نکال کر من گھڑت تاریخ کیوں پڑھا رہا ہے۔ جموں کشمیر کی نوجوان نسل کو جب تک اپنی تاریخ و جغرافعیہ کا علم نہیں ہو گا وہ کس طرح اس دیرینہ مسلہ کے حل میں اپنا مثبت کر دار ادا کر سکتے ہیں۔ راقم جب برطانیہ سے طویل ماورائے عدالت قید کاٹ کر واپس آیا تو حیرت ہوئی کہ جموں کشمیر کی جو محدود تاریخ نصاب میں شامل تھی وہ بھی نکال دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر حکومت سے رجوع کیا تو جواب ملا کہ اے جے کے کا اپناٹیکست بک بورڈ نہیں اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ جموں کشمیر کی تاریخ کو اہمیت نہیں دے رہا۔ میں نے کہا تو پھر اے جے کے ٹیکسٹ بک بورڈ قائم کرو۔ جواب ملا وسائل و مائرین نہیں۔ میں نے اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی۔ پانچ سال کی طویل جد و جہد کے نتیجے میں آزاد کشمیر اسمبلی نے 2014 میں ایک بل کی تحت اے جے کے ٹیکسٹ بک بورڈ قائم کر دیا۔ میں نے سوچا میں نے اپنا کام کر دیا اب نصاب بیورو بھی قائم ہو گیا ہے جو اپنا کام کرے گا لیکن اس نام نہاد نصاب بیورو کے افسر وں نے تنخوائیں اور مراعات لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ چودہ نومبر۰۱۷ ۲ کو میں نے وزیر تعلیم اور نصاب بیورو سے ملاقات کر کے دریافت کیا کہ نصاب بیورو اپنا نصاب تیار کرنے کے بجائے اے جے کے ٹیکسٹ بک بورڈ پنجاب کی کتابوں پر کیوں اپنا لیبل استعمال کر رہا ہے تو جواب ملا کہ اے جے کے نصاب بیورو صرف سفارشات پیش کر سکتا ہے حتمی فیصلہ پاکستان کرتا ہے۔ میرے اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں کہ آیا جموں کشمیر کی تاریخ کو نصاب میں شامل کرنے سے پاکستانیت کو کیا نقصان ہو نے کا احتمال ہے۔ برحال میں نے ایک بار پھر ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر کے عدالت سے استداعا کی ہے کہ حکومت مطالعہ جموں کشمیر نصاب میں شامل کرے ۔ رٹ تین اکتوبر کو منظور ہوئی تھی جس پر بحث کے لیے سرکاری وکیل ابھی تک حاضر نہیں ہوا۔جموں کشمیر کے اندر تین حکومتیں دنیا کی شاید واحد مثال ہیں جو تمام معاملات پر اختلاف مگر اپنی ریاست میں تعلیمی تخریب کاری پر اتفاق رکھتی ہیں۔ حکومتوں کے ضمیر تو بک چکے ہیں اب دیکھتے ہیں عوام کس حد تک شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس رٹ کو کامیاب کرانے میں ہمارا ساتھ دیتی ہے!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Quayyum Raja

Read More Articles by Quayyum Raja: 48 Articles with 21234 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Dec, 2018 Views: 381

Comments

آپ کی رائے