خاندانی منصوبہ بندی ،اسلامی تعلیمات اور اس کا حل

(Robina Shaheen, Lahore)
خاندانی منصوبہ بندی ،تحریک،پس منظر،اثرات،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل

خاندانی منصوبہ بندی کا مطلب ہے "تحدید خاندان"اصطلاح میں خاندانی منصوبہ بندی کا وہ طریقہ جس میں بچوں کی پیدائش پر نظر رکھی جائے۔تاکہ ملکی آبادی پر کنٹرول رکھا جا سکے۔۔۔

پس منظر:
خاندانی منصوبہ بندی کا پس منظر یہ بتاتا ہے کہ اس کا اصل مقصد نسل کی افزائش کو روکنا ہے۔اس کے شاخسانے کافی پرانے ہیں۔لیکن اس زمانے میں یہ تحریک زیادہ منظم نہ تھی۔قدیم زمانے میں بھی افزائش نسل کو روکنے کے لئے عزل،اسقاط حمل،قتل اولاد اور ضبط نفس کے طریقے اختیار کئے جاتے تھے۔۔لیکن جدید تحریک صرف مانع حمل پر زور دیتی ہے۔

تحریک کی ابتداء:
اس تحریک کی ابتداء آٹھارویں صدی عیسوی کے آواخر میں مشہور ماہر معاشیات مالتھس کے ہاتھوں ہوئی۔۔۔۔اس کے دور میں انگلستان کی آبادی کافی تیزی سے بڑھنے لگ گئی تھی۔۔جس کی روک تھام کے لئے ضبط ولادت کی تحریک شروع ہوئی۔ابتداء میں اس کے لئے ضبط نفس اور بڑی عمر میں شادی جیسے طریقوں پر زور دیا گیا۔۔۔مولانا مودودیٰ ضبط ولادت میں لکھتے ہیں کہ اس کے بعد فرانس پلاس نے اخلاقی زرائع سے ہٹ کر دواؤں اور آلات کے زریعے سے منع حمل کی تجویز پیش کی۔اس سلسلے میں مشہور ڈاکٹر چارلس نولٹن نے آواز بلند کی اس کی کتاب ثمرات فلسفہ غالبا پہلی کتاب ہے جس میں منع حمل کے طبی طریقوں کی وضاحت کی گئی تھی۔ابتدا میں یہ تحریک ناکام ہوئی کیونکہ اسکی اصل غلط تھی۔۔مالتھس کا نظریہ محدود تھا اس میں وسعت نہ تھی اس کی آنکھیں یہ تو دیکھ رہیں تھیں کہ نسل انسانی تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر وہ یہ دیکھنے سے قاصر تھا کہ وسائل کتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔۔اور اللہ نے اس کی افزائش کے لئے زمین کے نیچے کتنے خزانے چھپا رکھے ہیں۔جو انسانی علم،ترقی اور محنت کے متقاضی ہیں اور آواز دیتے ہیں کہ آؤ اور ہمیں دریافت کرو۔۔

1888ء میں ایک انجمن قائم ہوئی اور اس کی ازسر نو تشہیر کی گئی۔۔۔۔اور اگلے دو سال کے اندر اندر یہ تحریک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تک پہنچ چکی تھی۔۔۔اس کے بعد پورے یورپ میں پھیل گئی اور دیگرانجمنیں قائم کی گئیں۔۔۔جو لوگوں کو ضبط ولادت کے بارے میں آگاہی دیتیں تھیں۔یوں 1931ء میں یہ تحریک برصغیر پاک وہند میں پہنچا دی گئی۔۔۔۔

پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کا آغاز:
چونکہ برصغیر پاک وہند میں اس کے شاخسانے موجود تھے لہذا پاکستان پہنچتے اسے دیر نہ لگی۔۔۔۔۔1953ء میں اس کا آغاز غیر سرکاری سطح پر اور سرکاری سطح پر 1965ء میں کیا گیا۔لیکن لوگوں کے عقائد اتنے کمزور نہیں ہوئے تھے ۔۔۔۔نہ ہی دل اتنا اندھا جبھی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ ہو سکے۔۔۔۔

مذاہب عالم میں خاندانی منصوبہ بندی:
اسلام دین فطرت ہے اس نے بجا طور پر اس اقدام کی خلاف ورزی کی جو اللہ کے مالک کائنات اور خالق کائنات جیسی صفات سے ٹکراتا ہے۔۔ارشادی باری تعالیٰ ہے
لا تقتلو اولادکم خشیتہ املاق (الاسراء:31)
"اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔"
عیسائیت وہ پہلا مذہب ہے جس نے اس کے خلاف آواز اٹھائی مگر ستم یہ ہے کہ اسی مذہب کے پیروکار ہی اس کے موجد ہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی کے اثرات:
اس کے اثرات دو طرح سے نکلتے ہیں مثبت بھی اور منفی بھی۔۔۔مثبت یہ کہ نسل انسانی کم ہونے سے وسائل پر بوجھ زیادہ نہیں پڑتا۔۔۔بچوں کی پرورش آسان ہوتی ہے۔۔مہنگائی میں کمی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ
لیکن اگر نقصانات دیکھے جائیں تو وہ ان فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔شریعت کا اصل ہے کہ جو چیز فائدہ بھی دے اور نقصان بھی مگر اس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ ہو تو وہ حرام ہے۔۔۔۔۔شراب اور جوئے کی حرمت میں بھی یہی علت کا رفرما ہے۔۔۔۔۔

مانع حمل ادویات اور طریقوں سے عورت کے اندر خطرناک بیماریاں جنم لیتیں ہیں۔اور لے رہیں ہیں۔۔معاشرتی طور پر جب شوہر اپنی بیوی سے اپنی ضرورت پوری نہیں کر پاتا تو ان میں ناچاکی جنم لیتی ہے اور حرام کے دروازے کھلتے ہیں کیونکہ ممانعت تو بیوی کی حد تک ہے۔۔۔باقی عورتیں تو بیوی نہیں ہیں تو جس سے چاہو ضرورت پوری کرو۔۔۔۔مانع حمل ادویات کی سب سے زیادہ ضرورت ایسے ہی اافراد کو پیش آتی ہے۔۔۔۔یوں حرام کاری کا مستقل دروازہ کھل جاتا ہے۔۔۔

خاندانی منصوبہ بندی کے جواز کی صورتیں:
ماں کی جان کو خطرہ ہو اور اس بات کی تصدیق کوئی مستند ڈاکٹر کر دے تو مانع حمل کی اجازت ہے۔سید مودودی
اولاد کی صحیح تربیت نہ ہونے کا احتمال اور ان کی صحت کا خوف۔رفیع اللہ شہاب
غلام رسول سعیدی جواز کی صورتوں پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں
"دوسری وجہ ہے عورت کی بیماری، کیونکہ بعض صورتوں کو ایام حمل میں اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتی ہیں ،تیسری وجہ بچے کا پیٹ میں آڑا ہونا یا ہڈی کا تنگ ہونا۔جس کی وجہ سے آپریشن کے زریعے بچہ پیدا ہوتا ہے اور دو یا تین بار کے بعد آپریشن کی گنجائش نہیں رہتی ،اس کے بعد عورت کی بیضہ والی نس کو کاٹ کر باندھ دیا جاتا ہے۔اور یہ بھی ضبط تولید کا ایک طریقہ ہے۔اور چوتھی وجہ ہے دودھ پالانے والے بچے کی تربیت اور نگہداشت میں خلل کیونکہ اگر گھر میں ایک عورت ہے جو بچے کو دودھ پلا رہی ہے اور نو دس ماہ کے بعد ایک اور بچہ پیدا ہو جائے تو وہ دونوں بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش صحیح نہیں کر سکتی اس لئے ان کے درمیان وقفہ ہو نا چاہیئے۔۔یہ چاروں وجہیں جائز ہیں اور ان صورتوں میں عزل کیا جا سکتا ہے۔علامہ ابن قیم نے عزل کی رخصت دی ہے ۔۔یہ حدیث عزل کی رخصت کے بارے میں واضح ہے اور دس صحابہ سے منقول ہے۔

خلاصہ"
خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت ہے مگر با امر مجبوری میں۔۔اسے تحریک بنا کر معاشرے پر لاگو نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ اللہ کے رزاقیت کی صفت کے خلاف ہے۔۔۔جو لوگ اس کے حق میں تحریکیں چلاتے ہیں ان کا مطمع نظر ہی مالی منفعت کا حصول ہے۔جو کہ شرعا غلط ہے۔۔اللہ رازق ہے وہی پالنہار بھی۔۔۔جس نے پیدا کیا وہ رزق بھی دے گا،اللہ نے انسان کو اگر کھانے کے لئےایک منہ دیا ہے تو کمانے کے لئے دو ہاتھ بھی دیئے ہیں۔وسعت نظر سے کائنات کا مطالعہ کیجئے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اللہ کی کائنات کتنی وسیع ہے۔۔۔وہ تو پتھر میں موجود کیڑے کو بھی رزق دیتا ہے۔تو کیا انسان جو اسکی لاڈلی مخلوق ہے اس کو چھوڑ دے گا،؟کتنے ہزارسالوں سے یہ دنیا آباد ہے کھربوں انسان آئے اور آتے چلے جا رہے کہ وہ بھوکے مر گئے تھے جو آئندہ مرجا ئیں گے۔۔اس کے خزانے کم ہوئے ہیں جو اب ہو جائیں گے۔۔۔سترھویں صدی عیسوی میں ایک مغربی مفکر نے پشین گوئی کی تھی کہ ایک سو سال کے اندر اندر آبادی اتنی بڑھ جائے گی انسان انسانوں کو کھائیں گے۔۔۔۔(رزق کی کمی کی وجہ سے)اس کی پشین گوئی پوری ہوئے بھی سو سال اوپر ہو گیا،ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔وسائل حیات میں اضافہ ہوا ہے۔۔جو تنگی دکھائی دیتی ہے وہ اصل میں نہیں۔اسکی وجوہات ناقص منصوبہ بندی ہے۔

انسانی جبلت ہے کہ وہ جلد باز ہے۔۔۔خوف و ہراس کی کمزوری ہے۔۔۔جب بڑھتی ہوئی آبادی کے نقصانات سے ڈرایا جاتا ہے تو شیطان ملعون اسے شہ دیتا ہے اور دلوں میں تنگی اور خوف کا وسوسہ ڈال کر اسے مالک کائنات کے خالق و مالک ہونے کے عقیدے پر ضرب لگا کر اسیر کر لیتا ہے۔۔۔۔خاندانی منصوبہ بندی دراصل شیطان کا انسانی عقیدے پر وار ہے۔۔۔جو خالق اتنی بڑی کائنات تخلیق کر سکتا ہے کیا اس نے منصوبہ بندی نہیں کی ہوگی۔۔۔۔وہ جو کہتا ہے میں سب سے بڑا پلانر ہوں۔۔۔حدیث قدسی ہے کہ انسان جب پلان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہنستا ہے کہ میری دنیا ،بنانے والا میں،اور پلان یہ کرتا ہے۔۔۔۔

ان ممالک کو دیکھیں جنہوں نے بچے دو ہی اچھے کے نعرے پہ عمل پیرا ہو کر ملکی سطح پر ضبط ولادت کے قانون کو لاگو کیا،آج ان کے پاس اتنی افرادی قوت بھی نہیں کہ ملک سنبھالنے کے لئے اپنی فوج رکھ سکیں۔۔۔ان میں جاپان سر فہرست ہے،انھیں ملک چلانے کے لئے افراد دیگر ممالک سے منگوانے پڑ ے گیں جو کہ ایک خطرناک پہلو ہے۔

غربت مٹاؤ مہم کے لئے انسان مکانا کہاں کی عقل مندی ہے۔اس کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔غریب اور امیر کے درمیان لمبی ہوتی لکیر کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔وسائل کی کھوج اور اسکی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے۔۔۔انصاف پسند اور دردمند حکمرانوں کی بھی جو اصل امراض کا کھوج لگا کر ان کا حل تلاش کریں۔اللہ ہمیں ایسے دانش مند حکمران عطا کر جو ہمارے مسائل حل کر سکیں۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: robina shaheen

Read More Articles by robina shaheen: 31 Articles with 72650 views »
I am freelancer and alif kitab writter.mostly writes articles and sometime fiction... View More
15 Dec, 2018 Views: 1085

Comments

آپ کی رائے