حلقہ بندیاں سیاسی نہیں بلکہ عوامی مفاد کو مد نظررکھ کر کی جائیں

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئی بلدیاتی حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا ہے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد پرانی حلقہ بندیوں پر بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے ہیں الیکشن کمیشن زرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں بلوچستان دوسرے مرحلے مین خیبر پختون خواہ میں بلدیاتی حلقہ بندیاں ہوں گی تیسرے مرحلے میں پنجاب اور سندھ کی حلقہ بندیاں قائم ہوں گی نئی حلقہ بندیوں کے بعد صوبوں میں بلدیاتی حلقوں کی صورتحال بلکل تبدیل ہو کر رہ جائے گی الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ مردم شماری کے بعد شماریاتی بلاکس میں بڑی تبدیلی کے بعد نئی حلقہ بندیوں کو ضروری سمجھ کر کیا ہے نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ اھسن اقدام ہے لیکن یہ تب ہی مفید ثابت ہو گا جب نئی حلقہ بندیاں سیاسی مفادات کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ عوامی مفادات کو سامنے رکھی کر قائم کی جائیں ماضی میں جتنی بھی بار حلقہ بندیاں کی جاتی رہی ہیں ان میں صرف سیاسی مفادات کو ہی بنیاد بنایا جاتا رہا ہے جس وجہ سے انتخابی حلقوں کو خدوخال کے لحاظ سے بلکل تروڑ مروڑ کر رکھ دیا جاتا رہا ہے ایسی صورتحال میں عوام کو کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ہے جب ایک دفعہ کوئی حلقہ مکمل کیا جاتا ہے تو ابھی عوام حلقہ صیح طور پر یہ جان بھی نہیں پاتے ہیں کہ ان کے حلقہ میں کون کونسے سے علاقے شامل ہیں ساتھ ہی اگلے انتخابات کا وقت آ جاتا ہے اور ان کو کسی دوسرے انتخابی حلقہ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے جو کہ سرا سر زیادتی کے زمرے میں آتا ہے اس کا دوسرا برا نقصان یہ ہوتا ہے کہ باریک بین سیاستدانوں کو اس بات کا بخوبی علم ہوتا ہے کہ فلاں علاقے اگلی حلقہ بندیون کے دوران ضرور ان کے انتخابی حلقہ سے الگ ہو جائیں گئے جس وجہ سے وہ ایسے مشکوک علاقوں میں کوئی بھی ترقیاتی کام کر وانے سے گریزاں رہتے ہیں جس کے باعث ایسے علاقوں کے عوام ترقی سے بہت دور چلے جاتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حلقہ بندیوں سے عوام کو زیادہ تر نقصان سے ہی دوچار ہونا پڑتا ہے اوروہ نہ ادھر کے رہتے ہیں اور نہ ہی ادھر کے رہتے ہیں اب اگر الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو ایسے طریقوں سے بلدیاتی حلقوں کو قائم کیا جائے جس سے عوام کی مشکلات میں کمی ممکن ہو سکیہر یو سی کے جغرافیائی پس منظر کو سامنے رکھا جائے اور اس میں صرف وہ موضع جاتشامل کیئے جائیں جو اس کی حدود میں واقع ہوں نہ کے ایسے بے تکے موضعے شامل کر دیئے جائیں جن کا اس یو سی سے کوئی تعلق ہی نہ ہواور یہ کوشش کی جائے کہ یو سی مین موجع جات کو شامل کعرے وقر اس بات کا پورا پورا خیال رکھا جائے کہ اس کے آس پاس چاروں طرف سے علاقے شامل کیئے جائیں تا کہ متعلقہ یو سی میں آنے والے عوام کو ہر طرف سے فاصلہ برابر ہو اور دفتر یو سی ان سے دشوار گزار فاصلے پر واقع نہ ہو اب تھصیل کلرسیداں اور پورے حلقہ این اے 57 کو ہی سامنے رکھ کر بات کی جائے تو گزشتہ عام انتخابات سے قبل جو حلقہ بندیاں بنائی گئی ہیں ان کی وجہ سے تحصیل کلرسیداں کو بلکل تروڑ کر رکھ دیا گیا ہے اور ایک چھوٹی سی تحصیل جو صرف گیارہ یو سیز پر مشتمعل تھی اس کو قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جو کہ سمجھ سے بالا تر ہے ایک چھوٹی سی تھصیل کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دینا عوامی مفاد میں نہیں بلکہ سیاسی مفادات کے تحت ہی کیا گیا ہے ان گیارہ یو سیز کے عوام الگ الگ کر دیئے گئے ہیں اور خاص طور پر حلقہ این اے 57کو اس قدر بے تکہ تقسیم کیا گیا ہے کہ آْج تک اس بات کی سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ ایسا کس کے مفاد میں کیا گیا ہے اور کونسے سے مفادات ھاصل کیئے گئے ہیں اور کس نے ھاصل کیئے ہیں تحصیل مر ،کوٹلی ستیاں اور کہوٹہ کو تحصیل کلرسیداں کے بلکل مساوی ہین ان کو سرے سے چھیڑا ہی نہیں گیا ہے اور وہ پہلے کی طرح قائم و دائم ہیں اور کلرسیداں کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا گیا ہے یہ حلقہ بندیاں بلکل بد نیتی پر مبنی تھیں بلکل اسی طرح آخری بلدیاتی حلقہ بندیوں کی بات کی جائے تو تحصیل کلرسیداں کی یو سی غزن آباد کی صورتھال بھی بلکل ویسی ہی ہے اس مین بھی ایسے علاقے شامل کر دیئے گئے ہیں جہاں کے عوام کو دفتر یو سی تک پہنچنے کیلئے پورے دن کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور یو سی کا دفتر ایسی جہگہ پر واقع ہے جہاں اس کے آس پاس کا کوئی بھی علاقہ اس میں شامل نہیں ہے اس کے چاروں طرف یو سی گف کے علاقے واقع ہیں ایسی حلقہ بندیاں سیاسی مفادات ہی کہلاتی ہیں اب چونکہ نئی حلقہ بندیوں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے موھودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن بڑے دلیران فیصلے بھی کر رہا ہے تو نئی حلقہ بندیوں کے دوران بھی وہ اپنا بھر پور کردار ادا کرے اس دوران کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہ ہونے دی جائے اس بار الیکشن کمیشن کو یہ بات ثابت کرنے کا بہترین موقع مل رہا ہے کہ سیاست سے پاک حلقہ بندیاں کیسی ہوتی ہیں اور ان حلقہ بندیوں کے دوران تمام معاملات صرف محکمہ مال کے ہی رحم و کرم پر نہ چھوڑے جائیں بلک ایسی ٹیمین تشکیل دی جائیں جو متعلقہ علاقوں اور یو سیز میں جا کر اس بات کا جائزہ لین کہ کو نسا علاقہ کس یو سی میں شامل کرنا بہتر رہے گیا بلکہ موجودہ چیرمین و وائس چیرمین سے بھی اگر اس حوالے سے مشاورت کر لی جائے تو زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 147 Articles with 48212 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Dec, 2018 Views: 275

Comments

آپ کی رائے