صوبہ جنوبی پنجاب، اور بہاول پور؟

(Anwar Graywal, Bahawalpur)

 سابق خادمِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے حکومت کوجنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ یاد دلوا دیا ہے، اگرچہ یہی کارنامہ وہ چند ماہ قبل اپنے اختیارات کے ذریعے سرانجام دے سکتے تھے ۔شاہ محمود قریشی نے بھی سب کو اکٹھے مل بیٹھنے کی بات کی ہے، پی پی کے چیئرمین نے بھی صوبہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اپنے ہاں چونکہ حکومت اور حزبِ مخالف کے مفادات، اصول اور فارمولے الگ الگ ہوتے ہیں، اس لئے ہر دو طبقوں کے بیانات جوں کے توں رہتے ہیں، بس چہرے بدل جاتے ہیں۔ صوبہ جنوبی پنجا ب کی تحریک سے پارٹیوں کے مفادات بھی وابستہ ہیں اور ابھی قوم اُس گروہ کو نہیں بھولی ہوگی، جو قومی الیکشن سے چند روز قبل ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا تھا۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس پریشر گروپ کے ارکان نے ماضی میں کبھی صوبہ کی کسی تحریک میں حصہ نہ لیا تھا، یا پھر برائے نام ۔ الیکشن کے موقع پر صوبہ کے اہم ایشو کو کیش کروانے کا چکر البتہ انہوں نے چلایا۔ الیکشن سے قبل یہ محاذ کھُمبی کی طرح راتوں رات منظر عام پر آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے متوقع کامیاب ہونے والی پارٹی میں تحلیل ہوگیا۔ اس محاذ میں اکثریت ان لوگوں کی تھی، جو پہلے ہی پارٹیاں بدلنے کا وسیع تجربہ رکھتے تھے، کچھ نے شاید پہلی لَوٹنی کھائی تھی۔ کامیابی کے بعد اقتدار کی دیوی اُن لوگوں پر بہت مہربان ہوئی۔

صوبہ جنوبی پنجاب کی تشکیل کوئی ناممکنات میں سے نہیں، اس کے لئے آئین میں طریقہ کار طے کردیا گیا ہے، بس اگر کمی ہے تو نیت و عمل کی۔ اگر نیت ہو تو عمل آسان ہے، عوام کی بھاری اکثریت الگ صوبہ چاہتی ہے، مگر اُن کے نمائندے اس لئے بے بس ہو جاتے ہیں کہ آگے اُن کے قائدین کے اپنے نظریات ہوتے ہیں، جن سے عوام اور خود نمائندے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے صوبہ کے لئے پیش رفت کی تھی، تب بھی عنانِ حکومت خادمِ اعلیٰ کے ہاتھ میں ہی تھی، تب جنوبی پنجاب کے صوبہ کی تشکیل اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کی قرار داد منظور کی گئی تھی، یہی قانونی طریقہ تھا، معاملہ وفاق میں جانا تھا، کمیٹی بننا تھی، مگر بات الجھ کر رہ گئی، منظور نامنظور کی کہانی چل پڑی، پسند نا پسند کا غلغلہ بلند ہوا۔ نہ کمیٹی بنی، نہ بات آگے بڑھی۔ تاہم قرار داد منظور کروانے والوں کی چالاکی یہ تھی کہ یہ سارا ہنگامہ اس وقت برپا کیا جب حکومت کے آخری ایام تھے، ایسا ہی ہوا،کسی بات پر اتفاق نہ ہو سکا اور حکومت کے دن پورے ہو گئے۔ اگلی حکومت پھر خادمِ اعلیٰ کی تھی، اس مرتبہ تو وفاق کی باگ ڈور بھی برادرِ بزرگ کے ہاتھوں میں تھی، مگر اب ایسی کوئی قرار داد نہ پیش ہوئی ، نہ پاس۔
 
اب اگر کوئی پارٹی بھی الگ صوبے کی قرار داد پیش کرتی ہے تو کوئی پارٹی اس کی مخالفت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی، اگر کسی پارٹی نے ایسا کیا تو اسے جنوبی پنجاب کے عوام کی نفرت کا سامنا کرنا پڑے گا، عوام کی نفرت کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ سیاستدان خوب جانتے ہیں۔ اس لئے اگر نیت صاف ہو تو پنجاب اسمبلی میں قرار داد جو بھی پیش کرے گا وہ کامیاب ہو ہی جائے گی۔ دیگر پارٹیاں دل گرفتہ ضرور ہوں گی، کہ فلاں حکومت یہ کریڈٹ لے گئی، اس دل گرفتگی کا حل بھی وہ نکالیں گی، کمیٹیوں میں اپنی نامزدگی کے نام پر، صوبے کی حدود کی تقسیم کے نام پر، خود صوبے کے نام پر ۔ اگر تمام سیاسی جماعتیں اس ایشو پر یکسو اور اکٹھی نہیں ہوتیں، تو جان لیجئے کہ ان کی نیت میں روڑے ہیں، جو اُن کے راستے میں مزاحم ہیں۔

نئے صوبہ کے ایشو پر صدرِ مملکت عارف علوی سے لے کر عثمان بزدار تک ، سب نے اپنے اپنے خیالاتِ عالیہ جاری فرمائے ہیں، امید ، مشکلات اور مایوسی تک کی جھلکیاں اُن لوگوں کے خیالات سے جھلک رہی ہیں۔ حکومت الگ صوبہ کا وعدہ تو کر بیٹھی،مگر اب اس معاملہ کو کسی حد تک ٹھنڈا رکھنے کے لئے حکومت نے بیانات پر ہی اکتفا کرنے کی بجائے اور مطالبہ دہرانے اور وعدہ یاد دلانے والوں کی تسلی کے لئے ملتان میں ’’سب سیکریٹریٹ‘‘ قائم کرنے کا ارادہ بھی کیا ہوا ہے، کچھ افسران کو ملتان بھیج کر لاہور کے کندھوں سے بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کی جائے گی، جنوبی پنجاب کے بہت سے لوگوں کے کام ملتان میں ہی نمٹانے کی سعی بھی کی جائے گی۔ ممکن ہے حکومت کی یہ کاوش کارگر ثابت ہو اور عوام کے جذبات ٹھنڈے پڑ جائیں۔

جنوبی پنجاب کے صوبے میں جہاں قانونی طریقہ کار ہے، وہاں اس کے نام اور علاقے کا معاملہ بھی ہے، تاہم اس معاملے کی سب سے بڑی رکاوٹ ’’صوبہ بہاول پور‘‘ ہے۔ ون یونٹ کی تشکیل سے قبل بہاول پور ایک صوبہ تھا ، جسے ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بحال نہ کیا گیا۔ صوبہ بحالی کا مطالبہ عرصہ دراز سے چلتا آرہا ہے۔ گزشتہ سالوں میں اسے کافی تقویت ملی، جب محمد علی درانی، مخدوم احمد محمود، نواب صلاح الدین عباسی اور جماعت اسلامی کے امیر و سابق ایم پی اے ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کبھی الگ اور کبھی مشترکہ تحریک چلائی۔ پنجاب اسمبلی نے بھی جو قرار داد منظور کی تھی، اس میں بھی جنوبی پنجاب کی تشکیل اور بہاول پور صوبہ کی بحالی کا مطالبہ تھا۔ اب حکومت کی جانب سے جو صوبہ بنانے کے جو اعلانات ہو رہے ہیں، اس میں بہاول پور بحالی کا ذکر نہیں۔ ایسے میں اگر کوئی قرار داد صوبے کی تشکیل کی پیش ہوتی ہے تو بہاولپور صوبہ کے ممبران (اور عوام) کی طرف سے بھر پور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وفاقی وزیر اور ق لیگ کے سیکریٹری جنرل طارق بشیر چیمہ نے میڈیا پر یہ ایشو اٹھا کر بہاول پور کے عوام کے دلوں کے تار چھیڑے ہیں، ملتان کے صوبائی دارالحکومت بننے پر انہوں نے تخت لاہور کے بعد تخت ملتان کی بات کی اور’ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘ والا محاورہ استعمال کیا ، انہیں اس ضمن میں بہاول پوری عوام کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ اب اگر تمام جماعتیں نئے صوبے کی تشکیل میں رضامندی کا اظہار کر رہی ہیں، تو تاخیر کس بات کی؟ آگے آئیں اور قانونی راستہ اپناتے ہوئے کام کر گزریں، تاہم صوبہ بہاول پور کی بحالی کا آپشن ایجنڈے میں شامل کئے بغیر مسائل بڑھیں گے۔ اب حکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے دعووں میں مخلص ہیں، یا عوام کو بے وقوف بنانے کی ہنر مندی کا مظاہر ہ ہی کیا جا رہا ہے؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 598 Articles with 248888 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2018 Views: 618

Comments

آپ کی رائے