خاشفجی کا قتل…..امریکی بلیک میلنگ

(Sami Ullah Malik, )

جمال خاشفجی کے قتل کے بعد سعودی عرب پر عالمی دباؤ اس قدر ہے کہ اس صورتحال کو نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا جارہا ہے۔ سنگینی کا عالم یہ ہے کہ سعودی شاہی نظام اتھل پتھل کا شکار ہے۔پچھلے دنوں مغربی ممالک کے انٹیلی جنس ذرائع محمد بن سلمان کے ہٹائے جانے اوران کےچھوٹے بھائی خالد بن سلمان کو نائب ولی عہدبنائے جانے کی خبریں دے رہے تھے جواس وقت امریکامیں بطورسعودی سفیرکام کررہے ہیں۔ ریاستی امورسے لاتعلق ہوجانے والے شاہ سلمان کو ایک بارپھرمعاملات اپنے ہاتھ میں لینے پڑگئے ہیں کیونکہ سلمان خاندان اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ رہا ہےلیکن سعودی وزیرخارجہ نے اس تبدیلی کوسرخ لکیر سے تشبیہ دیکرخارج ازبحث قراردے دیا۔ابھی حال ہی میں جی ٹوئنٹی کانفرنس میں ولی عہدکی شرکت اورعالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ سعودی عرب میں ولی عہدمحمدبن سلمان کی گرفت کافی مضبوط ہے اور فی الحال کسی تبدیلی کاکوئی امکان نہیں۔

تاہم امریکی سینیٹر لنڈزی گراہم اوردیگرسینیٹرز کا کہنا ہے کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشفجی کے بارے میں سی آئی اے کی بریفنگ کے بعد زیادہ پریقین ہو گئے ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان اس قتل میں ملوث تھے۔جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے سعودی شاہوں کے بارے میں کہا کہ وہ ایک پاگل پن اور خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ امریکی میڈیا نے یہ رپورٹ دی تھی کہ سی آئی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ خاشفجی کے قتل کا حکم ممکنہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

سعودی عرب نے 11افراد پر اس قتل کا الزام تولگایاہے اورمقدمہ بھی درج کیاہےتاہم ولی عہد کے ملوث ہونے سے انکارکیاہے۔امریکی میڈیاکاکہناہے کہ سی آئی اے کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ محمد بن سلمان سعود القحطانی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ سعود القحطانی کے بارے میں کہاجاتاہے کہ ان کی نگرانی میں ہی جمال خاشفجی کاقتل ہوا۔منگل کوسی آئی اے سربراہ جینا ہیسپل نے جب سینیٹ کی خارجہ امورکمیٹی کوبریفنگ دی تواس کے بعد بھی سینیٹرز کے الفاظ میں موجودسختی کم نہیں ہوسکی۔ لنڈزی گراہم نے خاشفجی کے قتل کے حوالے سے کہاکہ وہ سعودی عرب کی یمن میں جنگ کیلئےشہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں اسلحہ دینے کے حامی نہیں ۔سینیٹر بوب بیننڈزنے بھی ان کی حمایت کی اورکہاکہ امریکاکوسعودی عرب کوواضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے اقدامات دنیاکیلئےناقابل قبول ہیں۔ایک اورسینیٹرباب کورکرنے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ میرے ذہن میں اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کہ محمد بن سلمان نے خاشفجی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ٹنسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے کہا کہ اگرمحمد بن سلمان کوعدالت میں پیش کیاجاتا توانھیں30منٹ میں مجرم قراردیاجاتا۔صدرٹرمپ نے سعودی شہزادے کی مذمت کرنے سے انکارکرکے صحافی کے قتل کومعاف کیاہے۔
یمن میں جنگ کاآغاز،سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کی گرفتاری سمیت محمد بن سلمان کے کئی فیصلوں پربین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے شورمچایا۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل تویمن پرشورمچاتی رہ گئی لیکن امریکاسمیت کسی عالمی طاقت نے اس پرکان نہ دھرالیکن ایک قتل پراس قدرشورمچاکہ سرکش شہزادے کامستقبل ہی داؤپرلگ گیا ہے۔ خاشفجی کے قتل سے پیداہونے والی صورتحال اورعالمی دباؤسے پریشان شاہ سلمان نے اپنے معتمدخاص گورنرمکہ پرنس خالدالفیصل کوترکی بھیجاتاکہ صورتحال کوکسی حدتک بہترکیاجاسکے مگر پرنس خالدالفیصل نے واپس آکرشاہ سلمان اورشاہی خاندان کوبتادیاکہ ان حالات سے نکلنابہت مشکل ہے۔

پرنس خالد الفیصل شاہ سلمان کے معتمد ہونے کے ساتھ ترک صدر طیب اردگان کے بھی قریبی دوست شمار ہوتے ہیں۔ ترک حکام نے ان کے ساتھ آڈیوریکارڈنگ شیئر کی۔ترک ذرائع کاکہناہے کہ خالد الفیصل شواہددیکھ کراس قدردباؤمیں آئے کہ انہوں نے تعاون کیلئےمنت تک کی جوسعودی شاہی خاندان کاشیوہ نہیں۔پرنس خالد کی شدید پریشانی میں وطن واپسی کے بعدہی سعودی عرب کو اعترافی بیان پرمجبورہوناپڑا۔سعودی عرب اس سے پہلے نہ صرف سختی سے تردیدکررہاتھا بلکہ پابندیوں کی صورت میں جوابی اقدامات کی دھمکی دے رہا تھا۔شاہ سلمان کوجمال خاشفجی کے قتل کافوری علم نہ ہوا۔شاہی خاندان کے کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ انہیں سعودی ٹی وی چینلز کی رپورٹس سے علم ہواجبکہ کچھ ذرائع کاکہناہے کہ شاہ سلمان کوخودولی عہد نے آگاہ کیامشکل سے نکلنے کیلئےمدد مانگی۔دوہفتے تردیدکے بعداعترافی بیان نے سعودی مشکل کوکم کرنے کی بجائے بڑھا دیاہے۔

ٹرمپ پہلے تواس قتل پربات کرنے کوتیارنہ تھےپھراسے’’بدمعاش قاتلوں‘‘پرڈالتے رہے۔ اعترافی بیان کے بعد اسے قابلِ اعتبار بھی کہا لیکن اگلے ہی دن واشنگٹن پوسٹ سے انٹرویو میں شکوک کا اظہارکیااورکہاکہ اس معاملے میں دھوکادیاگیااورجھوٹ بولے گئے تاہم ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب قابلِ اعتماد اتحادی ہے اورانہیں امیدہے اس قتل کے احکامات ولی عہد نے نہیں دیے ہوں گے۔

شاہ سلمان بادشاہت سنبھالنے سے پہلے گورنرریاض تھے،ان کی شہرت بحیثیت گورنر یہ تھی کہ وہ سرکش اوربھٹک جانے والے شہزادوں کوقابوکرنے میں ثانی نہیں رکھتے۔ سعودی تحقیقات کے نتیجے میں اعلیٰ ترین عہدیداروں سمیت 18/افرادکوملزم قراردیاجاچکاہے۔تحقیقات کس قدردرست اورجامع ہیں اس بحث میں پڑے بغیریہ واضح ہے کہ خاشفجی کے قتل کی وجہ سے محمدبن سلمان کی انتظامی صلاحیتوں پربہت بڑاسوال اٹھ کھڑاہواہے۔شاہ سلمان نے اس مشکل وقت میں معاملات دوبارہ ہاتھ میں تولے لیے ہیں لیکن کیاوہ اس معاملے کو بالکل اسی طرح سنبھال سکیں گے جیسے وہ بحیثیت گورنر سرکش شہزادوں کو قابو کرتے رہے ہیں؟ایک رپورٹ کے مطابق شاہی محل سے وابستہ ذرائع کاکہنا ہے کہ شاہ سلمان کی گرتی ہوئی صحت معاملات کے مکمل کنٹرول میں رکاوٹ ہے۔

1932ءسے قائم سعودی ریاست میں کئی مواقع پرشاہی خاندان میں اختلافات ہوئے،قتل وغارت گری بھی ہوئی۔اندرونی معاملات جیسے بھی رہے سعودی عرب کوکبھی دنیاسے معاملات میں ایسے پیچیدہ اورنازک مسائل کاسامنانہیں رہا۔اس وقت معاملہ اقتدارکی کشمکش سے زیادہ ریاست کے استحکام اورمعاشی نزاکتوں کاہے۔اس پیچیدگی کے عوامل بیک وقت اندرونی بھی ہیں اوربیرونی بھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی ناپختگی کی وجہ سے سعودی عرب نے بہت کم عرصے میں اندرونی اوربیرونی محاذ کھولے۔محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے سے پہلے شاہی خاندان ریاست کے معاملات مشاورت اوراتفاق رائے سے چلاتاتھا۔ شہزادہ محمد بن نائف کوہٹا کرخودولی عہد بننے والے محمد بن سلمان نے اس مشاورتی عمل کوتہہ وبالاکیا۔محمد بن نائف کو ہٹانے کے بعد ان کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو ٹی وی چینلز پردکھاکرمحمد بن سلمان نے بہت واضح پیغام دیا تھا کہ جو اختلاف کرے گایاراہ میں حائل ہوگا،اس کاانجام کیاہوسکتاہے۔

محمد بن نائف اس کے بعد کبھی عوام میں نہیں دیکھے گئے اورکہاجاتاہے کہ وہ اپنے محل میں نظربند ہیں۔ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کبھی بند دروازوں کے پیچھے مذاکرات، ڈیل اور بظاہر خاموشی پرمبنی تھی اورمحمد بن سلمان نے یہاں بھی جارحانہ اندازاپنایا۔ یمن جنگ چھیڑی، لبنانی وزیرِاعظم کویرغمال رکھا،قطراورکینیڈا کے ساتھ تعلقات توڑے۔ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کومعاشی سودوں پراستوارکیااورتشہیرکی خاطرخواتین کومحدود آزادی دی۔محمد بن سلمان کی صورت میں مغرب کوایک ایسارہنمانظرآیاجوقدامت پسندریاست کی پالیسیوں کویکسربدل کرمشرق وسطیٰ میں ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتاہے۔ٹرمپ تو جیسے محمد بن سلمان کے عشق میں گرفتارہوگئے تھے۔ مغرب کے ساتھ ان کے یہ روابط شاہی خاندان میں ان کے مخالفین کو کھٹک رہے تھے۔ شاہی محل پر پہرے بٹھانے سے سینئر شہزادوں کی شاہ سلمان تک رسائی بھی محدود ہوگئی تھی۔ شہزادوں کے تحفظات اورشکایات سننے والا کوئی نہیں تھا۔

ان حالات میں سینئرشہزادوں کے پاس ایک ہی راستہ تھایعنی مغرب میں پرانے دوستوں سے رابطے،جس کاواحد وسیلہ جمال خاشفجی تھے۔ جمال خاشفجی کاسارا کیریئر ترکی بن فیصل السعود کی مرہون منت ہے۔ جمال خاشفجی بادشاہت، سعود خاندان یا ریاست پر تنقید سے زیادہ محمد بن سلمان کو نشانے پر رکھے ہوئے تھے۔ اس بنیاد پر شک تھا کہ وہ محمد بن سلمان، ترکی الفیصل اور شاہ عبداللہ کے خاندان میں پائی جانے والی کشمکش کا حصہ تھے۔

جمال خاشفجی اخوان المسلمون کے ہمدرد تھے اورعرب دنیا میں تبدیلی کیلئےمغرب کی برپا کی گئی’’عرب بہار‘‘کی ناکامی پردلبرداشتہ تھے۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہاجارہاہے کہ وہ خاموشی کے ساتھ چند اصلاح پسندوں کے ساتھ مل کرایک گروپ’ڈیموکریسی فارعرب ورلڈ ناؤ‘ کی تشکیل پرکام کررہے تھے۔جمال خاشفجی ترکی میں مستقل سکونت کاارادہ رکھتے تھے اوراردگان کے قریب تصور کیے جاتے تھے۔ جمال خاشفجی ترکی سے ایک ٹی وی چینل کی لانچنگ کا بھی ارادہ رکھتے تھے اوراس منصوبے کو بھی مبینہ طورپرترک صدر کی حمایت حاصل تھی،جوخوداخوان المسلمون کے ہمدرد ہیں۔

ترک صدراردگان کوجمال خاشفجی کے معاملے پرجب ان کے انٹیلی جنس چیف نے بریفنگ دی تو صدرکااپنے دوست کے قتل پرصدمہ غصے میں بدل گیا۔ ترک صدرنے فوری طورپرسعودی سفارت کاروں کو طلب کرکے ان کے ساتھ شواہد شیئر کرنے کی ہدایت کی۔ 6/اکتوبرکوترک حکام سے سعودی سفارت کاروں نے پہلی ملاقات کی،جوخوشگوارنہیں تھی۔سعودی سفارت کاروں نے فوری طورپرخاشفجی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ سعودی سفارت کاروں کی لاعلمی حقیقی بھی ہوسکتی ہے، جو استنبول کی بجائے انقرہ میں بیٹھے تھے اور واقعات ان کے علم میں نہیں تھے۔ اس دن نصف رات تک ریاض سے بھی کوئی ردِّعمل نہ آیا۔ ترکی نے اپنا پہلا کارڈ کھیلا اور برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ خاشفجی قونصل خانے کے اندر قتل ہوئے ہیں۔ ترک حکام نے رازداری کی شرط پر تفصیلات شیئر کرنا شروع کردیں اور کہا کہ خاشفجی نہ صرف قتل ہو چکے ہیں بلکہ ان کی لاش کے ٹکڑے کیے گئے ہیں۔ آہستہ آہستہ مزید تفصیلات اور تصاویر بھی چنیدہ میڈیا ہاؤسز کے ساتھ شیئر کی گئیں۔10دن یہی کھیل کھیلاگیااورسعودی حکومت دباؤمیں آتی چلی گئی۔
جمال خاشفجی کیس میں روزآنے والانیاموڑترک صدراردگان کی سفارتی مہارت کاعمدہ نمونہ ہے۔ کہاجاتاہے کہ میڈیا کوتفصیلات شیئرکرنے کی ہدایات اردگان ذاتی طورپردیتے رہے۔ کیا جاری کرنا ہے اورکب کرناہے،اردگان کے فیصلے تھے۔امریکااورسعودی عرب کے تعلقات کوبڑاجھٹکادینے کے بعداردگان نے مزید تفصیلات کااجراروک دیاتھا۔جب ٹرمپ نے سعودی بیان کوقابلِ اعتمادکہا تو اردگان نے ایک بارپھرنئی تفصیلات افشا کرناشروع کردیں۔اب ترک صدرنے اعلان کیاہے کہ وہ خاشفجی کیس کی تفتیش تمام جزئیات کے ساتھ دنیاکے سامنے لائیں گے۔کسی طرح کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔صدراردگان نے شام سمیت مشرق وسطیٰ میں محمد بن سلمان کی پالیسیوں کابدلہ بھرپورطریقے سے چکایاہے۔

استنبول آپریشن کے بعدبین الاقوامی ردِّعمل پرناتجربہ کارشہزادہ حیران تھا۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان سمجھ نہیں پارہاتھاکہ جمال خاشفجی کی گمشدگی اتنابڑا معاملہ کیسے بن گئی۔ خاشفجی کی گمشدگی کے آٹھویں روز10/اکتوبرکومحمدبن سلمان نے اپنے دوست،ٹرمپ کے دامادجارڈ کشنرکوفون کیااورسوال کیاکہ اس قدرغصہ کیوں ہے؟جارڈ کشنرکے ساتھ قومی سلامتی مشیرجان بولٹن بھی موجود تھے،جارڈ کشنر نے محمد بن سلمان کوسخت پیغام دیا اورکہاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ کے مطابق ولی عہد کی پریشانی غصے میں بدل گئی اوران کاکہناتھا کہ مغرب نے ان کے ساتھ دھوکاکیاہے۔وہ اب نئے دوست تلاش کریں گے اورکسی بھی ثبوت سے پہلے اپنے مخالف ہونے والوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ محمد بن سلمان نے خاشفجی کے قتل کے بعد فوری تحقیقات کے اعلان کی بجائے انٹیلی جنس ایجنسیوں، وزارتِ خارجہ اورسیکورٹی اداروں کی ایک کمیٹی بنائی اورلمحہ بہ لمحہ رپورٹس لیتے رہے۔

محمد بن سلمان نے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان کوواشنگٹن سے واپس طلب کرلیاہے اورانہیں فوری طورپرانٹیلی جنس چیف بنانے کاارادہ رکھتے ہیں۔ خالد بن سلمان کی واپسی پریورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس ایک مختلف تصویر کشی کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یورپی دنیا کے شدید ردِّعمل اورپابندیوں کی دھمکیوں کے بعد شاہی خاندان بھی نیابندوبست سوچ رہاہے۔محمد بن سلمان کے مزید اقتدارمیں رہنے کے نتائج اوراس کی قیمت کابھی تعین کیاجارہاہے۔ محمد بن سلمان کوفوری طورپرولی عہد کے عہدہ سے ہٹانے کی بجائے خالد بن سلمان کونائب ولی عہد بنانے کی سوچ پائی جاتی ہے۔خالد بن سلمان کونائب ولی عہدبناکرنقصان پرقابوپانے کے اس منصوبے کی کامیابی مشکوک ہے۔ نائب ولی عہد کاتقررمحمد بن سلمان کی نظر میں ان کے اقتدار پرقبضے کی سازش ہوگی۔محمد بن سلمان کو شاہی خاندان میں براہِ راست چیلنج کرنے والا ابھی کوئی دکھائی نہیں دیتا سوائے ایک شخصیت کے،وہ ہیں شاہ سلمان، لیکن وہ کس حد تک مؤثر ہوں گے ابھی کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

امریکی وزیرِخارجہ مائیک پومپیو،جو سی آئی اے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، محمد بن سلمان کو ولی عہد کے عہدے پرنہیں دیکھناچاہتے۔ امریکی صدراوران کے داماد جارڈ کشنرمحمد بن سلمان کوہٹانے کے حق میں نہیں۔ کہاجارہاہے کہ امریکی وزیرِخارجہ نے جمال خاشفجی کے قتل کے بعدریاض کاجودورہ کیااس کامقصد صرف یہ جاننا تھا کہ محمد بن سلمان کوہٹانے کی کوئی بات ہورہی ہے یانہیں؟اس طرح کی کسی بھی بحث میں امریکابراہِ راست شامل ہونے کا خواہاں ہے۔

سی آئی اے کے ساتھ وابستہ رہنے والے مشرق وسطیٰ کے ماہربروس ریڈل کاکہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ محمد بن سلمان کے ساتھ قطع تعلق ہرگزنہیں کرے گی۔ امریکا شاہی خاندان میں پائی جانے والی بے چینی سے آگاہ ہے۔ امریکی صدر کومحمد بن سلمان کے بارے میں شکوک ہوسکتے ہیں اوروہ اس معاملے پرپردہ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کاحصہ نہیں بنیں گے، تاہم مائیک پومپیو جو بھی چاہتے ہوں وہ ٹرمپ کی مرضی کے خلاف نہیں جائیں گے۔

ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی کادارومدارمکمل طورپرمحمد بن سلمان پرہے۔ایران کو قابومیں رکھنے کیلئےانہیں سعودی مددکی ضرورت ہے۔ معیشت کی بہتری کیلئےبھی وہ سعودی عرب کے110/ارب ڈالرسودے پرآس لگائے بیٹھے ہیں،جس کے ذریعے ٹرمپ کے خیال میں امریکامیں ملازمت کے5لاکھ مواقع پیداہوں گے۔110/ارب ڈالرکے دفاعی سودے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف اظہارِدلچسپی کے خطوط تک محدودہے،ابھی تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا۔

امریکا کا سخت ردِّعمل جمال خاشفجی کے قتل اورانسانی حقوق سے نہیں بلکہ اس دفاعی سودے سے جڑاہے،جس کی کئی ڈیڈلائنزگزرچکی ہیں۔ امریکامیں دوطرح کی سوچ ہے، ایک سوچ سی آئی اے اور اسٹیبلشمنٹ کی ہے جو محمد بن سلمان کوولی عہد نہیں دیکھنا چاہتی جبکہ دوسری سوچ ٹرمپ کی ہے جومحمد بن سلمان پرجواکھیل رہے ہیں۔ سی آئی اے محمد بن نائف کواقتدارمیں لاناچاہتی ہے،جو 24 برس سے زائد عرصہ انٹیلی جنس چیف رہے،امریکااوریورپ دونوں کی ایجنسیاں ان پر اعتماد کرتی ہیں۔
ان دوقوتوں کے علاوہ تیسری قوت یالابی امریکی اسلحہ سازوں کی ہے۔110/ارب ڈالرسُن سُن کروہ تھک چکے اورہاتھ کچھ بھی نہیں آرہا۔ امریکی اسلحہ ساز لابی کو شک ہے کہ سعودی بڑے دفاعی سودے کاجھانسہ دے رہے ہیں۔سعودی دفاعی سودے کی پہلی ڈیڈ لائن اس سال30 ستمبرکوختم ہوئی۔ سعودی عرب نے اکتوبر2017ء میں کہا تھا کہ وہ امریکا سے اینٹی ایئرمیزائل ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) کے7یونٹ خریدناچاہتاہے جس کےساتھ اضافی راڈاراورلانچر بھی خریدے جائیں گے۔ یہ 15/ارب ڈالرکاسوداہے۔امریکی صدربھی اس اسلحہ سازلابی کے سیلزمین کاکردار اداکررہے ہیں۔اگرچہ اس حوالے سے ری پبلکن پارٹی کے2سینیٹرزنے سخت لب ولہجہ اپنایاہے، تاہم سعودی عرب کوامریکا کی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ امریکا کی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت کا مطلب بھی اسلحہ سازلابی کی حمایت ہے۔سخت لب ولہجہ اپنانے والے سینیٹر’’لنزے گراہم‘‘ کے بارے میں انکشاف ہواہے کہ امریکاکی سب سے بڑی اسلحہ سازکمپنی لاک ہیڈ مارٹن ان کی انتخابی مہم میں سب سے بڑی ڈونرتھی،جس نے61ہزار7سوڈالرچندہ دیا۔

سعودی عرب اس مشکل سے نکلنے کیلئےممکنہ طورپردوراستے اپناسکتاہے۔ پہلا راستہ نائب ولی عہد کاتقررہے،جودنیاکے ساتھ معاملات کرے۔ اس کی وجہ سعودی سرمایہ کاری کانفرنس کی بُری طرح ناکامی ہے۔ دنیا کے بڑے سرمایہ کاراب سعودی عرب اور خصوصاً محمد بن سلمان کے ساتھ معاملات سے گھبرارہے ہیں۔ گزشتہ سال ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں محمد بن سلمان ایک’’راک اسٹار‘‘تھے،جن کے ساتھ دنیاکاہرسرمایہ کارایک تصویرلینے کوبے چین تھالیکن اس باربہت سی کمپنیاں بائیکاٹ کرچکی ہیں اورجوشریک ہورہے ہیں انہیں مشورہ دیاجارہاہے کہ محمد بن سلمان کے ساتھ ان کی تصویر شائع نہ ہونے پائے ورنہ ان کیلئےیورپ میں مشکلات ہوں گی۔

ان حالات میں سعودی عرب کوایک نیاچہرہ درکارہےجوشاہ سلمان اوران کے خاندان کے نزدیک سب سے پہلی ترجیح خالد بن سلمان ہوں گے۔خالد بن سلمان مستقبل میں کسی موقع پرولی عہد کوہٹا کرخودبھی آگے آسکتے ہیں،جیسے محمد بن نائف کوہٹایاگیا۔محمد بن سلمان اس کوشش کی مزاحمت کرسکتے ہیں۔ شاہ سلمان کاکرداراس معاملے میں اہم ہوگا۔خالدبن سلمان کونائب ولی عہد بنانا قلیل مدتی حل ہے اورمحمدبن سلمان کوآگے لانے جیسی غلطی بھی ثابت ہوسکتاہے۔سعودی عرب میں کامیاب بادشاہت کارازشہزادوں کوطویل عرصے تک بادشاہت کیلئےتیارکیا جانا ہے۔ہرنائب ولی عہد کئی مراحل سے گزرکرولی عہدبنتاتھااوراس کے بعدبھی طویل عرصہ بحیثیت ولی عہد تربیتی عمل سے گزرتا تھا۔ محمد بن سلمان کو کڑی تربیت کے بغیر ہی امور سلطنت سونپے گئے اور ولی عہد کی ناتجربہ کاری نے ریاست کو یہ دن دکھائے۔

سعودی عرب کے پاس دوسراراستہ یہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی حمایت اورمددبرقراررکھنے کیلئے110/ ارب ڈالرکے دفاعی سودے کی پہلی قسط فوری طورپرجاری کردے۔دفاعی سودے کوآگےبڑھاکرشاہ سلمان سی آئی اے اورامریکی اسلحہ سازلابی کی سازشوں کے مقابلے کیلئےکچھ مہلت بھی حاصل کرلیں گے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 458 Articles with 140824 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2018 Views: 182

Comments

آپ کی رائے