داعش کا نشانہ؟

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ بیان دے کر ایک بار پھر داعش کی نشاندہی کی ہے کہ داعش کے خطرہ کو کم سمجھنا خیالی دنیا میں رہنے کے مترادف ہے۔ٹیوٹر پر انہوں نے کہا کہ افغان وزیرداخلہ کو اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان مخالف سوچ رکھنے والے دو سخت گیر لوگ وزیر داخلہ اور وزیر دفاع نامزد کئے ہیں۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد امراﷲ صالح وزیر داخلہ اور اسداﷲ خالد وزیر دفاع بن جائیں گے۔ دونوں سابق انٹلی جنس نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی(این ڈی ایس) چیف رہ چکے ہیں۔ وہ پاکستانپر طالبان کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے ان الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ اب جب کہ امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے طالبان سے بات چیت شروع کی ہے اور افغانستان سے اپنی 7ہزار فوج نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے وزراء کی تعیناتی اس امن عمل کو خراب کرنے کی کوشش سمجھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کابل میں اپنے ہم منصب صلاح الدین ربانی سے بات چیت کی۔قریشی صاحب کابل سے تہران چلے گئے۔ اپریل 2019میں افغان انتخابات بھی ہو رہے ہیں جب کہ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد بھی پاکستان کے تعاون سے طالبان سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغان صدر کی جانب سے نئے تقرریاں اس عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر فواد چوہدری نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے شراکت دار بنانے کی جانب اشارہ کیا۔

داعش کا خطرہ پاکستان سمیت کشمیر میں بھی محسوس کیا جا تا رہا ہے۔ کیوں کہ جب تک دیرینہ تنازاعت حل طلب ہیں، تب تک خطے میں امن اور ترقی کو خطرہ رہے گا۔ سرکاری تشدد ہو گا تو اس کا ردعمل بھی ہو گا۔ بھارت کی ریاستی دہشتگردی جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کا سخت ردعمل ہو رہا ہے۔ بھارت اپنی مخالفت میں اٹھنے والی تحریک کو طاقت سے کچلنا چاہتا ہے اور وہ دنیا کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے کشمیر میں القاعدہ، داعش اور طالبان کی موجودگی کی تشہیر کرتا ہے تا کہ دنیا اسے کشمیریوں کو قتل کرنے کی سند جار ی کر دے اور اس سے جواب طلب کرنے والے کوئی نہ ہو۔ سال رواں کے آغاز پر مقبوضہ کشمیر کے ہاکورہ بدسگام میں تین نوجوان شہیدکئے گئے۔ ان میں سے ایک صورہ سرینگر کا عیسیٰ فاضلی، دوسرا کوکر ناگ جنوبی کشمیر کا اویس شفیع اور تیسرا تلنگانہ حیدر آباد بھارت کا محمد توفیق تھا۔ جن میں سے دو کشمیری اعلیٰ تعلیم یافتہ بی ٹیک کرتے ہوئے مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوئے۔ مگر کسی غیر معروف(بھارت کے اشارہ پر) تنطیم نے ان میں سے ایک کا تعلق القائدہ یا داعش سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس داعش کو کبھی پاکستان میں نمودار کیا جاتا ہے۔ کبھی افغانستان اورکبھی مقبوضہ کشمیرمیں۔ یہ کسی منصوبہ بندی سے ایسے نشانے باندھتے ہیں۔ ان کا ٹارگٹ زیادہ تر مسلمان ہی بن رہے ہیں۔ اہل تشیع۔ مصر کے قبطی مسیحی، شام کے دروز، عراق کے یزیدی بھی ان کا نشانہ بنے ہیں۔ اب یہ وہاں سے نکل کر تیونس، یمن اور سعودی عرب تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کی جنگ نظریاتی ہے۔ ان کا طریقہ واردات ایسا ہے کہ اس سے اسلام دشمنوں کو ہی فوائد سمیٹنے کا موقع مل رہا ہے۔ مسلمانوں میں خانہ جنگی کا لاوا پگلایا جا رہا ہے۔ مسلم دشمن اسلام کو زیر نہ کرسکے اور اب وہی صلیبی جنگوں جیسا سٹائل اپنا رہے ہیں۔ تا کہ مسلمانوں کے اندر نئے نئے فرقے جنم لیں۔ ان فرقوں کے درمیان پہلے علاقائی سطح پر اور پھر عالمی سطح پر بڑی جنگ ہو۔ مسلمان ان جنگوں سے اس قدر کمزور یا تباہ ہو جائیں تا کہ ایک بار پھر خلافت اسلامیہ جیسا منظر ہو۔ جب اس عظیم سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ انہیں انھوں نے آپس میں مال غنیمت کی طرح بانٹ دیا۔ شروع سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ مسلم دنیا کو بکھیر دینا ہی ان کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔

ایران اور عراق جنگ سے مسلم دنیا کوتباہی کا شاید احساس نہیں ہو گا جو اس خطے میں آئی لیکن اس کا خمیازہ مسلمانوں نے بھگتا۔ یہ کفار ایسا ہی کرتے ہیں۔ آدھے ایک بلاک کے ساتھ اور دیگر دوسرے کے ساتھ۔ مالی مدد کی یقین دہانیاں ہوتی ہیں ۔ اس کے عواض وسائل پر قبضہ۔ عراق نے سر اٹھایا۔ لیکن پھر اس پر ایسا وار کیا کہ جس کے ذخم آج بھی رس رہے ہیں۔ یہ کفار کا ہمیشہ سے ہی وطیرہ رہا ہے ۔ لیکن اس میں زیادہ قصوروار ہم خود ہیں۔ جو ان کے اشارے پر ناچتے ہیں۔ ان ک جی حضوری کرتے ہیں۔ ان کی این جی از کئی مشن پر کام کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہوتا ہے کہ مختلف خطوں یا علاقوں میں مسلم آبادی کا شرح تناسب معلوم کیا جائے۔ مسلمانوں کے فرقوں پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ کسی دشمنی یا لڑائی جھگڑے کو سامنے لا کر اسے فرقہ ورانہ رنگت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا میں بلیک واٹر جیسے نیٹ ورک یہی کام کرتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں مشکوک رہتی ہیں۔ لیکن یہ ڈالرز، پاونڈز ، یورو دے کر کام کرا لیتے ہیں۔ پاکستان میں یہ تصدیق ہوئی کہ پی پی پی کے گزشتہ دور حکومت میں ہزاروں غیر ملکی باشندوں کو ویزے دیئے گئے۔ یہ ہزاروں لوگ کہاں غائب ہیں۔ کیا کر رہے ہیں۔ ان کے اہداف کیا ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں۔ حسین حقانی جانتے ہوں گے۔یہ سب ڈیورڈ ریمنڈ ہیں۔ لیکن انہیں کوئی پکڑ نہیں سکتا ہے۔ ان کے سامنے ہماری اوقات کیا ہیں۔ ہم اپنے وسائل پیدا نہ کریں گے تو یہی ہو گا۔ بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہے گا۔ پھر ہمارے دوست نما ممالک بھی کام نہیں آ سکتے ہیں۔ ہر ایک کے اپنا مفادات ہیں۔ ممالک کی دوستی کا معیار یہی ہے کہ اپنے مفادات کو فروغ ملے۔ سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے پاکستان میں قدرتی آفات کے دوران اور بعد میں جو کام کیا۔ ریسکیو، ریلیف، آباد کاری، تعمیر نو مثالی کام تھے۔ جو آج تک جاری ہیں۔ وہ ہماری مدد کر رہے ہیں۔ مالی، فنی اور دیگر تکنیکی معاوت فراہم ہو رہی ہے۔ عمران خان حکومت کو بھی اربوں ڈالرز انھوں نے دیئے۔اس سے ہمارے درمیان برادرانہ اور دوستانہ تعلقات مستحکم ہو رہے ہیں۔ تجارت کو بھی ان تعلقات کی وجہ سے فروغ ملے گا۔ جس سے ہماری معیشت میں اضافی یقینی سمجھا جاتا ہے۔ چین بھی اس خطے میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ تا ہم اس کے بارے میں بھی ایسی رپورٹیں سامنے لائی جا رہی ہیں کہ جن سے کسی بھی مسلمان کی تشویش بجا ہوتی ہے۔ یہ بھی خدشہ ہے کہ کل داعش والے سنکیانگ سے نمودار کر دئیے جائیں۔ پھر ایغور مسلمانوں کی اسی بہانے نسل کشی کی راہ ہموار کی جائے۔ دنیا کے ہر ملک میں یہی خدشات ہیں کہ داعش کا استعمال استعمار اپنے مفاد کے لئے کرے گا۔ کوئی معقول حل تلاش کرنے کی کوشش نہ ہوئی تو منفی نتائج سے دنیا بھر کے مسلمان متاثر ہوں گے۔ داعش کو مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کے لئے استعمال کرنے کی سازش میں ہمارا کیا کردار ہے۔ کشمیر میں داعش، القائدہ یا طالبان کے پرچم ، اس کے نعرے، اس کی نموداری کے پس پردہ کیا ہے۔کشمیری آزادی پسندوں کا کوئی عالمی ایجنڈہ نہیں۔ ان کا کسی داعش ، القاعدہ یا طالبان سے تعلق نہیں۔پھر بھی بھارت اور اس کے سرپرست کشمیر میں داعش کی موجودگی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تا کہ مسلمانوں کی نسل کشی مزید تیز کر دی جائے۔معلوم نہیں فواد چوہدری اس بارے میں کیا موقف اپناتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 585 Articles with 229341 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
26 Dec, 2018 Views: 217

Comments

آپ کی رائے