افغان باقی کہسارباقی

(Umar Farooq, )

افغان اپنے دشمن کوپہلے ا ٓگے بڑھنے کاموقع دیتے ہیں اورصبرواستقامت سے اس کے جبرکوبرداشت کرتے ہیں جب دشمن اپنے تمام پتے شوکردیتاہے توپھرافغان اپنی چال چلتے ہیں یہ صدیوں پراناان کاطریقہ ہے دشمن پراچانک حملہ کرتے ہیں اس کی سپلائی لائن منقطع کرتے ہیں افغان کہساروں میں گوریلاجنگ میں افغانیوں کاکوئی مقابلہ نہیں کرسکتا یہ دشمن کونڈھال کردیتے ہیں اوربالآخراسے شکست سے دوچارکردیتے ہیں ،

گوریلاجنگ کے حوالے سے افغانیوں کاریکارڈاٹھاکردیکھ لیجیے کہ انہوں نے کس طرح ماضی کی سپرپاوربرطانیہ کوتباہ وبربادکیا اوروہ بھی اس وقت جب برطانیہ کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتاتھا لیکن افغانستان کے کہساروں میں برطانیہ کاسورج نہ صرف غروب ہوابلکہ پھریہاں طلوع نہیں ہوابرطانوی فوج کے ایک سپاہی نے اپنی قوم کواپنی بربادی کی داستان سنائی ،جس سے ثابت ہوتاہے کہ افغان جنگ میں ثابت قدم رہتے ہیں اوران کی یہ ثابت قدمی ا وراستقامت ہی ان کاطرہ امتیازہے ۔

برطانیہ نے سوویت یونین سے عبرت نہیں پکڑی اوراور دسمبر79 میں افغانستان پر چڑھ دوڑااشتراکی افواج اپنی ساری سفاکیت اور جبرو استبداد کے باوجود افغان قوم کا مقابلہ نہ کر سکی۔مجاہدین افغانستان نے جارح قوم کی افواج قاہرہ کو شکست سے ہمکنار کر دیاسوویت یونین افغانستان میں لگنے والے زخم اب بھی چاٹ رہاہے اورشایدروس کوسمجھ آگئی ہے کہ افغانستان کوطاقت کے زورپرفتخ نہیں کیاجاسکتا البتہ پیارومحبت سے افغانوں کے دل جیت جاسکتے ہیں ۔

ان دوطاقتوں کے بعدتیسری سپرپاورامریکہ نے بھی افغانستان کارخ کیا ۔2001 میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ نے نام نہاد عالمی جنگ کا آغاز کیا تو برطانیہ و یورپ اور مغربی عیسائی دنیا سمیت ناٹو کے تمام ممالک امریکی اتحاد میں شامل ہو گئے یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ عالم اسلام اورمسلمانوں کے خلاف جنگ کاآغازتھا جس کی ابتداء افغانستان پرحملے سے کی گئی اس وقت ہمارے آمرحکمران جنرل مشرف نے اس امریکی اوراستعماری طاقتو ں کی جنگ کواپنی جنگ قراردے امریکہ کواپناکندھافراہم کیاجس کے بعداستعماری طاقتوں نے افغان عوام پر آتش و آہن کی بارش شروع کر دی۔ناٹو اور ایساف کے پرچم تلے درجنوں اقوام کی مسلح قوت یہاں اتاری گئی،زمین اور فضا ان کے قبضے میں چلی گئی، طالبان وقتی طورپر پسپا ہوتے چلے گئے۔امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ چوہے بلوں میں چھپنے لگے ہیں۔امریکی صدر نے یہ بات نفرت و حقارت اور تکبر سے کہی تھی انہیں یقین تھا کہ امریکہ فاتح ہو گا اور طالبان کا خاتمہ ہو جائے گا،لیکن وہ شدید غلط فہمی کا شکار تھے۔شاید افغانوں کی ہزاروں سالہ تاریخ سے واقف نہیں تھے کہ افغانوں نے کبھی حملہ آوروں کا سامنے سے مقابلہ نہیں کیا،بلکہ جارح اور حملہ آور پر گوریلا جنگ، جنگ مزاحمت اور دفاع میں اپنے دشمنوں کوناکوں چنے چبوائے ۔ افغان مذاکرات کے فن سے نا آشنا ہیں،انہوں نے اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی بھی بات چیت کے ذریعے معاملات حل نہیں کئے،وہ ایک فن میں طاق ہیں اور وہ ہے بندوق کا استعمال۔انہوں نے ہمیشہ بندوق کی نالی کے ذریعے فتح حاصل کی ہے۔ امریکہ لامحدود عسکری طاقت رکھنے کے باوجود مذاکرات پر مجبور ہے تو اس کی وجہ افغانوں کا لازوال جذبہ حریت ہے۔

امریکہ برطانیہ،سووویت یونین یہاں جدید سے جدید تر ہتھیار استعمال کر کے تھک ہار چکے ہیں،لیکن وہ افغان عوام کے جذبہ حریت کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔دنیا کی عظیم سپریم پاور، تہذیبی طور پر غالب اور حاکم قوم افغانوں کے ساتھ مذاکرات کے ترلے لے رہی ہے۔ ہم ایک بار پھر اسی دور میں داخل ہو چکے ہیں کہ دشمن میدان سے بھاگنے کی تیاری کرچکاہے ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی لاتے ہوئے اپنے فوجیوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان سمیت تمام ممالک سے امریکی فوجوں کو واپس بلا لیں گے۔ پھر صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی فوجی مشیروں نے ان کا ذہن تبدیل کیا اور انہوں نے افغانستان میں امریکی فوجوں میں اضافہ کیا اور نیٹو اور دیگر اتحادیوں سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔مگرٹرمپ کوجلدہی احساس ہواکہ یہاں مزیدسرٹکرانے کافائدہ نہیں اورآدھی فوج فوری واپس بلانے کااعلان کیاہے ۔
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود ِپشیماں کا پشیماں ہونا

اس وقت افغانستان میں 14000 امریکی فوجی مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ نیٹو اور اتحادی ممالک کے تقریبا 8000 فوجی بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کا مرکزر کردار افغان فورسز کی تربیت اور مشاورت ہے۔ اس کے علاوہ ایک اچھی خاصی تعداد انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں بھی شامل ہے، جن میں فضائی حملے اور ڈرون حملے شامل ہیں۔2011-2012 میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب افغانستان میں 150000 کے قریب غیر ملکی فوجی طالبان کے خلاف جنگ میں شامل تھے۔ صدر اوبامہ کے دور میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا شروع ہوا اور 2014 تک امریکہ اور نیٹو نے افغانستان میں عسکری آپریشنز ختم کر دیے تھے اور امریکی افواج کی تعداد 10000 تک پہنچ گئی تھی۔اس کے بعد سے ہی افغان فورسز نے سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس وقت افغان فورسز کی تعداد 350000 ہے۔ 2014 کے بعد غیر ملکی افواج میں کمی کے ساتھ ساتھ طالبان نے بھرپورپیش قدمی کی اور اس انخلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں اضافہ کیا۔افغان فورسز نے طالبان کے خلاف کارروائیاں تو کیں لیکن انہیں شدید نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔ 2015 سے اب تک طالبان کے خلاف لڑائی میں 30000 افغان فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسی عرصے میں امریکی میڈیاکے مطابق 60 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔جبکہ طالبان کادعوی اس کے برعکس ہے -

امریکہ اس وقت مذاکرات کی بھیگ مانگ رہاہے جس بش نے پتھردورمیں دھکیلنے کی دھمکی تھی اسی امریکہ کاصدرآج جھنجلاہٹ کاشکارہے وہ پاکستان کودھمکیاں دے رہاہے کہ افغان طالبان کومذاکرات پرمجبورکرے ،یہ ثابت ہوگیاہے کہ یہاں سپرطاقتیں اپنے سرٹکراٹکراکرپاش پاش ہوتی رہیں گی مگرافغان بھی باقی رہیں گی اوراس کے کہساربھی اس کی سربلندی کی گواہی دیتے رہیں گی البتہ ایک چیزطے ہے کہ افغانستان ایشیا کا دل ہے اور یہ خطہ جب تک شورش کی زد میں ہو گا تب تک پورے ایشیا میں امن اور خوشحالی کی حالت مخدوش رہے گی۔
آسیا یک پیکر آب وگل است
ملت افغان درآں پیکر دل است
از کشاد او کشاد
آسیا از فساد او فساد آسیا

اقبال کی پیش گوئی سچی ثابت ہوئی اور افغانستان میں چار عشروں سے پیہم شورش کی وجہ سے آج پورے ایشیا کا امن دگرگوں ہے ۔یہ خطہ نائن الیون واقعے سے پہلے بھی اپنوں ، ہمسایوں اورغاصب قوتوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے آگ اگل رہا تھا اور نائن الیون کے بعد بھی یہاں پر آگ وکشت کا بھیانک کھیل بدستور جاری ہے ۔نائن الیون کا واقعہ آج سے سترہ برس پہلے امریکہ میں پیش آیاتھاجس کے بعد امریکہ کو افغانستان میں اپنی طاقت آزمائی اور پنجے گاڑنے کا بہانہ ملا ۔ ۔ اس عرصے میں بیت جانے والا ہر دن بے گناہ افغانوں کی شہادتوں کا بھی شاہد رہاہے اوران کے معاشی زوال، گھروں کی مسماری اور تنزلی کابھی ۔گوکہ اس طویل عرصے کے دوران گزرنے والا ہردن افغانوں کیلئے نائن الیون ثابت ہوتارہاہے ۔مگریہاں سے نکلنے کافیصلہ امریکہ اورجارح قوتوں نے کرناہے طالبان اورافغان عوام اپنافیصلہ کرچکے ہیں وہ ایک نقطے پرمتفق ہیں کہ امریکہ کویہاں سے ہرصورت جاناہوگا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Farooq

Read More Articles by Umar Farooq: 47 Articles with 18038 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2018 Views: 264

Comments

آپ کی رائے