پاک انڈیا تنازعات

(Afrah Imran, Karachi)

اس دنیا میں وہ قوم ذیادہ ترقی کر پاتی ہے جو امن کو فوقیت دیتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب امریکہ نے جاپان کو شکست دی اس کے بعد جاپان نے اپنی ساری توجہ تعلیم اور مہارت حاصل کرنے میں لگادی اور اپنے ٹیکنالوجی کا معیار اونچا کرنے میں لگے رہے اور آج وہ اتنے آگے نکل چکے ہیں۔ انھوں نے اس شکست کا بدلہ جنگی صورت میں نہیں لیا بلکہ اپنے اچھے معیار کے بل بوتے پر لیا اور آج وہ ہر جگہ چھا گیا ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلے بھی برسوں سے چلے آرہے ہیں۔ ان کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ 'مسئلہ کشمیر' ہے۔ اس وقت پاکستان اور انڈیا کے درمیان تین بڑی جنگیں ہوچکی ہیں اور اس میں لاکھوں لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں، پیسے کا ضیاع بھی ہوا اور وقت جس کا ایک، ایک لمحہ کسی انسان اور قوم کی ترقی کے لئے اتنا ضروری ہوتا ہے وہ بھی برباد ہوا اور دیکھا جائے تو دونوں اقوام کے افراد میں ایک دوسرے کے لئے نفرت بھی بھری ہوئی ہے۔ کیا یہ نفرت رکھنا اور تنازعہ کو حل کرنے کے بجائے اس پر ڈٹے رہنا کیا یہ کسی مسئلہ کا حل ہے؟ کیا اس سے کوئی ملک یا قوم ترقی حاصل کرسکتی ہے؟ نہیں نا۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ دونوں ممالک سبات کے ساتھ ان مسائل کا حل نکالیں اور اپنا وقت، اپنی قوت اور اپنا پیسہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کردیں، تعلیم کے اچھے معیار کے لئے وقف کردیں اور معیار بلند کرنے میں توجہ دیں۔
ایک اہم بات جو میں بتانا چاہوں گی،

امریکہ اور کناڈا کی سرحد پر دونوں کے جھنڈے ساتھ لہرا رہے ہیں اور ساتھ میں ایک بورڈ لگا ہوا ہے۔ جس پر لکھا ہوا ہے
' ایک ہی ماں کی اولاد۔ '

آپ غور کریں تو اس جملے میں ایک گہری بات چھپی ہوئی ہے اور اس گہری بات پر غور و فکر کرنا اور اس پر عمل کرنا پوری دنیا میں بسنے والے ممالک اور اقوام کے لئے بہت ضروری ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات استوار ہونے میں ہی دونوں ملکوں کی بہتری ہے۔ اشتعال، غصہ، لڑائی یہ کسی بھی انسان کی ذہنی سطح سے شروع ہوتا ہے اور بڑھتے بڑھتے یہ جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے چاہے وہ کسی دو افراد کے درمیان ہو یا کسی اقوام یا ملکوں کے درمیان جو بہت بڑا نقصان برپا کر دیتی ہے۔ اس کے لئے امن بہت ضروری ہے۔ اور یہ امن جب ہی ذہن میں پیدا ہونا شروع ہو گا جب ذہنوں کی تربیت کی جاۓ گی۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اشتعال، غصہ اور جنگوں سے اعراض کریں اور اپنے ملک کے تعلیم اور مہارت کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کریں اور ذہنوں کی تربیت میں اپنے آپ کو وقف کردیں اور ملک کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے آپ کو وقف کردینا ہی ذندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afrah Imran

Read More Articles by Afrah Imran: 2 Articles with 1501 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Dec, 2018 Views: 179

Comments

آپ کی رائے