بلاتفریق احتساب سے پہلے اپنا جائزہ بھی ضروری ہے !

(Muhammad Akram Awan, )

انسان نے تہذیب ،تمدن اور ترقی کی منازل طے کرکے دنیا میں ہر سہولت، آسائش اور آسانی پیدا کردی ہے، مگرآخرت کو یکسربھلادیا، کہ ایک دن اﷲ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔علم، مال و دولت عطاء کی گئی ہرنعمت کا حساب دینا ہے ۔دولت اﷲ تعالیٰ کی دین اور امانت ہے ۔اسلام نے جہاں جائز اور حلال طریقے سے کمائی کا حکم دیاہے ،وہیں انسان کو اپنے نفس کی تربیت کا بھی کہاگیا ہے۔معاشرتی ناہمواری، بے جا لالچ ، دولت کی حوص،خودغرضی، تنگ نظری ،عداوت، ناحق غصّہ،معاشرے میں عدم توازن اوربگاڑ پیدا کرنے پرسخت وعیدبھی سنائی گئی ہے۔نبی کریم ﷺ کے فرمان کامفہوم ہے"تم دُنیا کی قوموں پردولت سے غالب نہیں آسکتے،دولت دوسروں کے پاس زیادہ ہے۔تعداد میں تم دُنیاپرغالب نہیں آسکتے،اہل باطل کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہی ہے اوررہے گی،تم اگردُنیا کی قوموں پرغالب آوٗگے تواخلاق محمدﷺسے غالب آوٗ گے،کردارسے غالب آوٗگے ،دین کو لے کراُٹھوکے توغالب آوٗگے،اس لئے سب سے بڑھ کرتمہارے پاس حجت دین ہے۔اس سے بڑھ کرکوئی حجت نہیں۔"

مگر ہمارا حال یہ ہے کہ آج دن رات ہرکسی کا بس ایک ہی تذکرہ ہے۔دُنیا،دُنیا کاعیش وآرام، دنیاکی زیادہ سے زیادہ کامیابی اور حصولِ دُنیا۔یہاں تک کہ دُنیاداروں کے سامنے اﷲ ،اُس کے رسولؐ اوراحکامات الٰہی کادرس دینے والابھی طلبگار ِدُنیا کا عملی نمونہ بن گیا ہے یعنی خطیب ومخاطب دونوں کی اصل طلب و چاہت اورترجیح آخرت کی جوابدہی کے بجائے صرف حصولِ دُنیا بن کررہ گئی ہے۔آج کے دُنیا دار علماء اپنا کردار بھول گئے ہیں،جن کا کام عوام کی اصلاح ،دُنیا کی بجائے آخرت کی فکروطلب پیداکرنا،مخلوق کا تعلق خالق سے استوار کرنا، اپنے ساتھ دوسروں کوبھی ہمیشہ کی کامیابی راہ پرگامزن کرنا۔ شیخ سعدی رحمۃ اﷲ علیہ کی ایک حکایت ہیـ"ایک درویش خانقاہ کوچھوڑ کرمدرسہ میں چلا گیا۔ میں نے پوچھاکہ"تونے عالم اوردرویش میں کیا فرق دیکھاکہ تم نے زاہدوں کامسلک چھوڑ کراس کوچہ میں قدم رکھا ہے"۔اس نے جواب دیا"درویش صرف اپنی گدڑی کولہروں سے بچاتا ہے(یعنی اپنی ذات کوبچاتا ہے) اورعالم یہ چاہتا ہے کہ اپنے ساتھ ڈوبتوں کوبھی بچائے"۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جس چیزکا تذکرہ عام ہوگا وہی چیزاوراُسی کا حصول ہی ہمارایقین و ایمان اورمقصد بن جائے گا۔ موجودہ دورمیں ہرانسان کی اولین ترجیح،دُنیاوی زندگی،دُنیاکے عارضی فوائد تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔جس سے ہمارے معاشرے میں عدم توازن ،ناہمواری بڑھنے سے پورا سماج بے رحم دہشتگردی، ظلم وجبر،بے راہ روی،تشدداور ابتری کا شکار ہے۔اﷲ کی ذات اقدس پر ایمان ویقین،موت،آخرت اورجوابدہی کا توکہیں تذکرہ ہی نہیں۔اگر کہیں اﷲ اور اُس کے رسول ﷺ کاتذکرہ ہے تو اُسے بھی ہم نے حصول ِدُنیا کا ذریعہ بنا لیا۔

یہ دُنیا عارضی،یہاں کا قیام ،یہاں کا عیش وآرام، غربت، تکلیف، بیماری، صحت ،جوانی،بڑھاپاسب عارضی ہیں۔قبرہرانسان کوروزانہ ستر مرتبہ آواز دیتی ہے اور انسان کے اعمال کے مطابق اُسے کہتی ہے کہ تو بہت جلد میرے پاس آنے والا ہے ، جب میرے پاس آئے گاتو میرا سلوک بھی دیکھ لے گا۔ اے انسان توساری زندگی اﷲ کی نافرمانی کرتارہ ،اُس کا کوئی امر نہ مان مگریہ امرتوہرایک کو ماننا پڑے گا۔ترجمہ-: "وہ اﷲ ہی توہے جس نے تم کومٹی سے پیداکیاپھرمرنے کا ایک وقت مقررکردیا۔ اورایک مدت اس کے ہاں اورمقررہے۔مگرتم لوگ ہوکہ شک میں پڑے ہوئے ہو۔" (سورۃ الانعام ،آیت 2)

ملک روم کا ایک بادشاہ ایک دفعہ دُشمن کی یورش سے سخت شکستہ دل اورپریشان ہوگیا۔اس نے ایک دانا کے سامنے اپنی پریشانیوں کاتذکرہ کیا اورکہا کہ" دُشمن نے ایک قلعہ اورشہرکے علاوہ کوئی چیزمیرے پاس نہیں چھوڑی میں نے بہت کوشش کی کہ کھوئے ہوئے علاقے دُشمن سے چھین لوں لیکن افسوس کہ میری کوئی تدبیرکارگرنہ ہوئی۔اب دن رات مجھے یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ میرے بعدمیرے فرزند کا کیاحال ہوگا"۔
دانا نے برہم ہوکرکہا"آپ اپنی فکرکیجئے جوآپ کے بعد آئے گاوہ اپنی فکرخودکرے گا۔آپ اپنی عمرکا بہترین حصہ گزارچکے ہیں اب توآخرت کی فکرکرنے کا وقت ہے۔ملک ودولت سب فانی ہے۔ہاں جونیک نام چھوڑمرااس نے ابدی زندگی حاصل کرلی"۔

صحابہ کرام رضوان اﷲ علیم اجمعین کودُنیاکے عارضی ہونے اور قیامت کے اجرکا اتنا یقین تھا کہ آخرت کے مقابلہ میں دُنیا کاآرام سکون تو کیا ، دُنیاوی آزمائش اور تکلیف بھی اِن حضرات کے سامنے کوئی اہمیت اوروقعت نہیں رکھتی تھی۔ صحابی رسول ﷺ،حضرت ابوسفیانؓ کی ایک آنکھ اﷲ کی راہ میں جہاد کے دوران ضائع ہوگئی۔جس پر رسول ﷺ نے فرمایا جس کامفہوم ہے کہ اگراﷲ سے دُعا کی جائے تویقینا تمہاری آنکھ بالکل تندرست ہوجائے جیسے پہلے تھی،پھرآخرت کے اجر کاتذکرہ فرمایاگیا توصحابی رسول ﷺ نے دُنیاوی راحت اور آرام کے بدلہ میں آخرت کے اجر کوترجیح دی۔اسی طرح کسی اورموقع پر دوسری آنکھ بھی اﷲ کی راہ میں ضائع ہوگئی ۔ انہوں نے اپنی بقیہ زندگی بینائی کے بغیرگزار دی اور دُنیاکی تکلیف پرآخرت کے اجروثواب اور ابدی فائدہ کوترجیح دی۔خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺکے ارشادات مبارکہ پرصحابہ کرام کایقین اتنا قوی اور مضبوط تھا کہ یہ حضرات فرمایا کرتے کہ جنت اور جہنم کو ان کے سامنے کھول کر پیش کردیاجائے توبھی ان کے ایمان میں ذرا برابر بھی فرق نہ آئے۔صحابہ کرام ؓوالا ایمان ویقین ہی اصل معیار اورمطلوب ہے۔

ہم سمجھتے ہیں جہنم توبنی ہی سیاستدانوں اورحکمران طبقہ کے لئے ہے،اسی طرح غریب اورمتوسط طبقہ سوچتاہے کہ شاید صرف امراء ہی جہنم کے حقدار ٹھہرائے جائیں گے۔ایسا ہرگزنہیں بلکہ ہرایک انسان کو اﷲ کے سامنے حاضراور جوابدہ ہونا ہے۔لہٰذااس بات کومقدم رکھتے ہوئے اپنی اولادکی پرورش،کام کاج،کاروبار،معاملات،ملازمت اوراپنے اختیارات کااستعمال کریں۔ترجیحات ِدُنیا میں آخرت کوہرگزنہ بھولیں بلکہ آخرت ہی کو اولین ترجیح بنانا ہو گا تبھی بات بنے گی۔بادشاہ ، وزیر ،عالم ،پڑھے لکھے،ان پڑھ وجاہل،دُنیادار، امیر ، غریب ، مردو عورت، بوڑھے ، جوان ہرانسان کابلاتفریق حسب نسب اوررنگ ونسل کڑااحتساب ہوگا،نیک اعمال کے علاوہ کوئی سفارش کام نہیں آئے گی ،کوئی این آر او یا رعایت نہیں ملے گی۔اُس حتمی اوربلاتفریق احتساب سے پہلے ہرانسان کااپناجائزہ اوراصلاح بے حد ضروری ہے اور یہ اِسی دُنیا اوراِسی زندگی میں ممکن ہے،اس کے لئے علیحدہ سے وقت یا مہلت نہیں دی جائیگی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 99 Articles with 44678 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Dec, 2018 Views: 347

Comments

آپ کی رائے