پسندیدہ جہاد

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
ہم معاشرے میں گہری دفن کرپشن کی جڑوں کو اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ ہر دس ، پندرہ سال بعد کرپشن کا درخت کاٹ کر اپنے جذبات کو قابل تحسین بنا سکیں

کرکٹ کا کھیل کھیلنے کے لیے پچ بہت محنت سے تیا ر کی جاتی ہے، تیار ہو جانے کے بعد اپنی ٹیم کھیلتی ہے مگر ایسا بھی ہوتا ہے اپنی تیار کردہ پچ پر مخالف کو کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے۔جب مخالف کو کھیلنے کا موقع دے رہے ہوتے ہیں تو بھی مد نظر اس کی شکست ہی ہوتی ہے۔

سیاست کی پچ پر، اس ملک میں طویل ترین میچ ،کرپشن کے نام پر چل رہا ہے۔میرے نوجوانی کے دنوں میں شہر میں ٹانگے ہوئے کرتے تھے۔ ٹانگوں کے کوچوان گھوڑے کو چابک سے اور سواریوں کو اپنی زبان سے قابو میں رکھے کرتے تھے البتہ ایک سرکاری محکمہ ایسا بھی تھا جس کے اہلکار کوچوانوں کو قابو میں رکھتے تھے۔ حکومت نے اس کا نام محکمہ انسداد بے رحمی رکھا ہوا تھا مگر اس محکمے کے اہلکاروں کو بے رحمی والے کے نام سے جانا جاتا تھا۔کوچوان کی آمدن اس قابل تو ہوتی نہیں تھی کہ خدا کی عائد کردہ زکواۃ ادا کرے مگر بے رحمی والے انسپکٹر کو اپنی آمدن کا حصہ دینا نہیں بھولتا تھا۔

ایک وقت تھا،جنگلات کی حفاظت کے نام پر بکری پالنا جرم قرار دیا گیا۔حتیٰ کہ دیہات میں بھی بکری پالنے والا مجرم ٹھہرایا جاتا تھا۔ قانون کی زد میں آنے سے اکثر لوگ بچ جاتے مگر گاوں کی مسجد کاپیش امام ہمیشہ حوالات کی ہوا کھاتا کیونکہ اسے موٹے پیٹ والوں کو کھلانے سے ایک وہ حدیث نبوی روکتی جس میں کھانے اور کھلانے والے دونوں ایک جیسے بتائے جاتے ہیں۔

حکومتوں کے فیصلے دور رس نتائج کے حامل ہوا کرتے ہیں۔ پاکستان اپنے خاندانی سسٹم پر بہت نازاں ہوا کرتا تھا ۔ اور مشترکہ خاندانی نظام کو بچانے کے لیے چولہا ٹیکس نافذ کیا گیا تاکہ خاندان کے لوگ اپنا ہانڈی چولہا علیحدہ علیحدہ نہ کر لیں۔ ایک خاندان گھر میں ایک ہی چولہا رکھ سکتا تھا۔ دوسرا چولہا رکھنے کے لیے حکومت سے اجازت لینا پڑتی تھی۔ حکومت نے تو قانون سازی ہی خاندانی اتفاق و اتحاد کے لیے کی تھی البتہ جن گھروں میں شادی کے بعد خانہ آبادی ہو جاتی ان گھرانوں اور حکومت کے مابین تعلقات خراب ہو جاتے البتہ پولیس والے ان تعلقات کے سدہار میں نمایاں کردار ادا کیا کرتے تھے۔

قیام پاکستان سے پہلے ہی علاقے میں ذرائع آمد روفت کے طور پر گھوڑے کی جگہ بائیسکل نے لینا شروع کر دی تھی۔ سائیکلوں کی چوری روکنے اور چوری شدہ سائیکلوں کی برآمدگی کے لیے ضلع کی سطح پر ایک رجسٹر ترتیب دیا جاتا تھااور ہر چوری ہونے والی سائیکل کا نمبر اس رجسٹر مین درج کر لیا جاتا تھا۔ جب یہ رجسٹر کافی پرانا اور بھاری ہو جاتا تو اسے کسی بھی چوراہے پر رکھ کر سائیکل سواروں کی سواریوں کے نمبر اس رجسٹر سے ملائے جاتے۔ جو عام طور پر نہیں ملا کرتے تھے۔ البتہ یہ منظر عام ہوتے کہ اہل رجسٹر اور اس کے درجنوں اہلکار ہر آنے والی کی سائیکل کو پکڑ لیتے اور سائیکل کی رسید پیش کرنے کا مطالبہ کرتے۔ الزام لگا کر بار ثبوت ملزم پر ڈالنا اسی زمانے کی اختراع ہے

یہ ابتداء تھی، معاشرے میں کرپشن نظر آنا شروع ہو گئی تو میرٹ کے نام پر تھانوں اور پٹوار خانوں میں با اعتماد افراد کی تعیناتی کا ڈول ڈالا گیا۔ معاشرے میں دیہاڑی دار آٹھ گھنٹے کی مزدوری پر کام کرتا تھا مگر کرپشن کے باعث اسے دیہاڑی کی بجائے ٹھیکہ دینے کا چلن چل نکلا۔ تھانے اور پٹوار خانے بھی بکنا شروع ہو گئے۔ محکوموں کو یقین ہو گیا کہ کرپشن کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ وکیل نہ کرو جج ہی کر لوکی اصطلاع ایجاد ہو چکی تھی۔ رشوت اور حرام کمائی کو لگام دینے کی بجائے مک مکا روائت بن گئی۔ نوسو چوہے کھا کر عمرہ کرنے کا فیشن چل نکلا۔ اور ایسا چلا کہ معاشرہ اس متفق ہو گیا کہ کنویں میں پڑا مردار بے شک نہ نکالوحسب فرمان پانی کے ڈول نکال لو۔ مردار ملا پینے والا پانی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔معالجین گلی محلوں میں پھیل گئے ۔ لیبارٹریوں کا میلہ لگ گیا۔ میلے میں جلیبیاں تلنے والے بھی پہنچ گئے ۔معلوم ہوا تیل ملاوٹ زدہ ہے۔۔۔

اکہتر سالوں کی محرومیوں، تلخ تجربات، جلوسوں اور ہنگاموں کے بعد ہم طے کر چکے ہیں جلوس نہیں نکالیں گے البتہ ریلیاں نکالنا شرف انسانیت ہے۔ہنگاموں سے ہم نے منہ موڑ لیا ہے مگردھرنے وقت کی ضرورت ہیں۔اجتماعی زندگی میں ہم اپنے گروہ کا حصہ ہیں تو انفرادی زندگی کو محفوظ بنانے کے گر بھی ہمیں آگئے ہیں ہم اپنے نومولود کے سرہانے اس کے باپ کو بطور چوکیدار کھڑا کرتے ہیں،بچہ دن میں ایک بار تو اس کی حفاظت کے ذمہ دار دوبار سکول جاتے ہیں۔ بچے کو ٹیوشن اس لیے پڑہاتے ہیں کہ علم کے حصول کا حصہ ہے، ایک وقت تھا علم بڑی دولت ہوا کرتی تھی اب دولت ساری تعلیم میں سمٹ آئی ہے۔ہر سرٹیفیکیٹ اور ڈگری کی قیمت ہے ۔

ہم دنیا کے نمبرایک جفاکش ہیں۔ گھر کو چمکاکر رکھتے ہیں۔ گھر کا کوڑا گلی کے راسے نکاسی کے نالے میں جاتا ہے۔ اللہ باران رحمت برساتا ہے تو نالا بھی صاف ہو جاتا ہے۔ البتہ دس سال بعد جب بند ہو جاتا ہے اور اس کے متوازی نیا نالا تعمیر کرلیتے ہیں۔ہم جان چکے ہیں سارا معاشرہ کرپٹ ہوجکا ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ کرپشن ختم ہوالبتہ ہم چاہتے ہیں اس کی ابتداء حریفوں سے ہو۔

جمعہ والے دن منبر پر بیٹھے خطیبوں، نصابی کتابوں میں درج داستانوں، سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی روائتوں، جذباتی ناولوں اور سوشل میڈیا پر پھیلی اپنی کامیابیوں کا مان ہمیں مجبور کرتا ہے کہ کچھ کر کے دکھائیں۔ کرنے والے سارے کام تو مکمل ہو چکے اب اعادہ ہی ممکن ہے ۔ بھٹو نامی شخص نے اگرچہ نیا پاکستان دسمبر1971 میں بنا لیا تھا دوبارہ دہرانے کا خیال نوجوانوں کو پسند آیا مگر کچھ ریٹائرڈ قسم کے بزرگوں کے من پر بھاری رہا ۔ البتہ کرپشن کے خلاف جہاد ایک بار پھر شروع کیا گیا تو اس پر ہمیشہ کی طرح نئے اور پرانے لوگ کافی مطمن ہیں۔ یہ تجربہ ہر بار عوام میں ایک نیا جذبہ پھونکتا ہے۔ اور سرور کا اصل سبب لفظ جہاد ہے۔ پاکستان میں کرپشن واحد برائی ہے جس کے خلاف عمل کے لیے نوجوان، جوان اور ریٹائرڈ لوگ سب ہی خوش دلی سے جہاد کرتے ہیں۔

ہم معاشرے میں گہری دفن کرپشن کی جڑوں کو اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ ہر دس ، پندرہ سال بعد کرپشن کا درخت کاٹ کر اپنے جذبات کو قابل تحسین بنا سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 58722 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Dec, 2018 Views: 288

Comments

آپ کی رائے