روک سکو تو روک لو

(Ibne Adam, )
’مختصرکہانی‘‘(سولفظی)

وہ بے چارہ غریب تھا۔عمرساٹھ سال کے قریب تھی۔ٹوٹاپھوٹااس کاکرائے کاگھرتھا۔کھانے والوں کی تعدادآٹھ تھی اورکمانے والاوہ ایک۔وہ خودبھی مریض تھااورگھرمیں بھی تین کومرض لاحق تھا۔وہ روزانہ شالیمارچوک میں امرودوں کی ریڑھی لگاتا۔کبھی شام کے کھانے کے پیسے ہوجاتے توکبھی فاقے کرنے پڑتے۔آج بھی وہ گاہکوں کا انتظار کر رہا تھا مگر گاہکوں سے پہلے تبدیلی آنکلی۔امرودسڑک کنارے بکھرگئے۔بکھرتے امروددیکھ کراس کی سانسیں بھی بکھرگئیں۔تبدیلی ایسی آئی کہ پہلے امرودسڑک پرگرے ، پھرباپ اورپھرساراگھرانہ سڑک پرآگیا۔تبدیلی کی آندھی نے سب کچھ خس وخاشاک کی طرح اُڑاڈالا۔تبدیلی نے حسرتوں ، امیدوں ، آہوں اوربدعاؤں کوٹرک میں لوڈ کیااورپھراگلے شکارپرنکل گئی۔غیب سے صدابلندہوئی روک سکوتوروک لو……!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibne Adam
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jan, 2019 Views: 278

Comments

آپ کی رائے