ضیاء صاحب کاش آپ پروفیسر فریڈرک بنتے

(Malak Gohar Iqbal Khan Ramakhel, )

ہائے، میں سٹیوجابز ہوں، میری عمر 12سال ہے اور میں ہائی سکول میں پڑھتا ہوں۔ میں ایک فریکوئنسی کاؤنٹر بنانا چاہتا ہوں کیا آپ مجھے کچھ سپیئر پارٹس دیں گے۔ مسٹر ہیولیٹ فون پر یہ بات سن کر ہنس پڑے اور نہ صرف یہ کہ اس نے سپیئر پارٹس دیدیئے بلکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اس ذہین بچےکو اپنی کمپنی میں نوکری بھی دیدی۔ عزیزانِ من عموماً 12سال کی عمر میں ہمارے بچے آئسکریم کھانے کے شوقین،کھیلنے کھودنے میں مستغرق،یا زیادہ سے زیادہ کاغذ پنسل کے ذریعے الٹے سیدھے کارٹون یا گھر وغیرہ بناتے اور مٹاتے ہیں۔ لیکن یہ وہ مہان سٹیو جابز ہی تھے جنہوں نے اتنی کم عمر میں فریکوئنسی کاؤنٹر بنانے کی کوشش کی۔ اور اس کے لیے مدد بھی کسی راستے چلتے شخص سے نہیں بلکہ مشہور زمانہ فرم (ایچ پی) کے بانی مسٹر ہیولیٹ سے مانگی۔ جب مانگنے والا سٹیو جابز جیسا بچہ تھا تو مسٹر ہیولیٹ نے بھی اسے دینے میں فراخدلی دکھائی۔ اور یوں سٹیو جابز پر دنیائے علم و فن کے دروازے کھل گئے اور کمپیوٹر کے صنعت کی دنیا میں اپنا پہلا قدم رکھدیا۔ چنانچہ اپنی گاڑی بیچ کر سٹیو جابز نے ایپل کمپنی قائم کی اور 1976 میں دنیا کا پہلا پرسنل کمپیوٹر متعارف کرایا۔ چلتے چلتے ایپل کو 1980 میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی جس نے سٹیو جابز کو کروڑ پتی بنا دیا۔ اسی طرحآئی میک نے جسے 1998میں پیش کیا گیا ایپل کی قسمت بدل دی۔ سٹیو جابز نے آئی بی ایم اور موٹرولا کے ساتھ اشتراک کرکے پاور بک لیپ ٹاپس کے لیے چپس بنائے۔ سٹیو جابز نے آئی پوڈ سیریز کو نینو اور ویڈیو ورژن کے ساتھ بڑھایا جس کی بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوئی۔ اور بلآخر 2007 میں سٹیو جابز نے اکیسویں صدی کے شاہکار یعنی ایپل کا پہلا سمارٹ فون پیش کیا۔ اس نئے فون کو خریدنے کے لیے لوگوں کا ہجوم رات بھر انتظار کرتا رہا۔ ایپل کے آئی فون،آئی پیڈ ٹیبلیٹ نے ٹچ سکرین کمپیوٹرز کی مارکیٹ میں انقلاب برپا کر دیا۔ کیونکہ ایپل کے تمام پراڈکٹس کی ڈیزائننگ اعلیٰ درجے کے تھی، اس کی بناوٹ قابلِ رشک تھی اور کام کرنے کی صلاحیت تو قابلِ دید تھی۔ سٹیو جابز کا ماننا تھا کہ ایک پراڈکٹ بنانے کے لیے لازمی ہے کہ اسے نہ صرف شکل سے خوبصورت نظر آنا چاہیے بلکہ اس کا کام اور پرفارمینس بہترین ہونی چاہئے۔ اور انہی اصولوں کی بدولت سٹیو جابز نے ایپل کو دنیا کا نمبرون برانڈ بنا دیا۔ جس کا جادو دیکھتے ہی دیکھتے سلیکان ویلی سے اٹھ کر پوری دنیا پر چھا گیا۔ عزیزانِ من یہ سلیکان ویلی ہی تھی جس کے پلیٹ فارم نے سٹیو جابز کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کئے یعنی یہاں پر ایک جدید فکر پہلے ہی سے موجود تھی جسے سٹیو جابز نے بہت اچھی طرح سمجھ کر آگے بڑھایا۔ اور اگر سلیکان ویلی کی بات کی جائے تواس کے بنانے میں سٹین فورڈ یونیورسٹی کا کردار سب سے اہم ہے۔ جس کے پروفیسرز،گریجویٹس اور طلباء نے ملکر ایک نئی دنیا کا دروازہ کھول دیا۔ جس میں سٹیو جابز جیسے لوگوں نے حیران کن طور پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ 1950۔60 کے عشرے میں پروفیسر فریڈرک جو کہ شعبہ انجینئرنگ کا ڈین تھا اس نے اپنے طلباء اور پروفیسروں کی توجہ کا رخ کمپیوٹر کی صنعت کی طرف موڑ دیا۔ اسی راستے نے ایک دن ان کو انٹرنیٹ کی راہ پر گامزن کردیا۔ اور آج سلیکان ویلی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی صنعت میں تمام دنیا میں ایک انقلاب برپا کر چکی ہے۔ مشہور زمانہ فرم"ایچ پی"کے بانی مسٹر ہیولیٹ اور مسٹر پیکارڈ سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ہی گریجویٹ اور پروفیسر فریڈرک کے شاگرد تھے۔ آج سان فرانسسکو کے سلیکان ویلی میں ایپل،ڈیل،انٹیل،گوگل، یاہو اور وکی پیڈیا جیسے عالمی شہرت کی حامل کمپیوٹر بنانے والی فرموں کے ہیڈ آفس موجود ہے۔ یعنی سان فرانسسکو نے دنیا کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے راستے پر ڈال دیا اور آج امریکہ کی 3/1 سرمایہ کاری اسی علاقے میں کمپیوٹر کی صنعت سے ہی وابستہ ہیں۔ عزیزانِ من۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی کو مسٹر فریڈرک جیسا پروفیسر مل گیا، پروفیسر فریڈرک کو ہیولیٹ اور پیکارڈ جیسے شاگرد مل گئے،مسٹر ہیولیٹ کو سٹیو جابز جیسا ذہین بچہ مل گیا جس نے سلیکان ویلی کے سر پر ایپل کا تاج رکھ کر اسے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے دنیا کا بادشاہ بنا دیا۔ عزیزانِ من۔ یہ باتیں جان کر شاید بہت سے لوگوں کو یہ خیال آیا ہوگا کہ ہمارے ملک میں سٹین فورڈ کے معیار کی کوئی یونیورسٹی کیوں نہیں ہے؟ مسٹر فریڈرک جیسا پروفیسر یا سٹیو جابز جیسا ذہین بچہ پیدا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک قوم نہیں ہے بلکہ ایک ہجوم ہے۔ جو ایک دوسرے کے کچھ کام نہیں آرہے ہیں۔ اگر ہم میں کوئی شخص زیادہ قابل اور ذہین ہو تو ہم اس کے حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے الٹا اس کے پیروں پر کلہاڑا مارتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے ہمیں تو کیا ہمارے ذہنوں کو بھی غلام بنایا گیا ہے۔ یعنی ہمارے نفسیات کو ایک لونڈی کی طرح قید میں رکھا گیا ہے جس وقت بھی جس کو چاہے ہمارے نفسیات پر اثر انداز کردیا جاتا ہے۔ اسی چیز کو ایک آسان مثال میں یوں سمجھ لیں کہ کھبی کرکٹ کے ایک کھلاڑی کو اتنا پروموٹ کر دیا جاتا ہے کہ صبح وشام ٹیلی ویژن اور اخبارات میں اس کا ہی تذکرہ ہوتا ہے۔ جیسے اس نے کوئی پانی پت کا میدان جیتا ہو۔ جس کے نتیجے میں ملک کا بچہ بچہ کرکٹر بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ اور اس کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے۔ پھر وہ کھلاڑی پارلیمنٹ میں آکر سیاست سے کھیلتا ہے۔ جو باہر ملکوں کے تاجروں کو اکٹھا کرکے کہتا ہے کہ میرے ملک میں کرپشن عروج پر ہے لہذا آپ لوگ آئیں اور انویسٹ کرلیں تاکہ آپ کا بھی بیڑہ غرق ہو جائے۔ اور جب بھی کبھی ہم میں ارفع کریم جیسے بچے پیدا ہوئے جس نے صرف 9 برس کی عمر میں مائیکروسافٹ پروفیشنل ہونے کا اعزاز حاصل کیا، جس نے سلیکان ویلی کے مقابلے میں ڈی جی خان ویلی بنانے کا عزم کرلیا تھا،جس کی سوچ آنے والے نسل کی سوچ بننے جارہی تھی،جواس قوم کے بچوں کے لیے رول ماڈل بن رہی تھی اچانک اس ترقی کے سوچ کو ملالہ کی سوچ سے یو ٹرن دیا گیا۔ اور پورے شدومد کے ساتھ دنیا کی اسٹیج پر یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ پاکستانی قوم اپنے بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھتی ہیں۔ اور اس آواز کو کچھ اس انداز میں پیش کیا گیا جس پر ملک کے طول و عرض کے سارے لوگوں نے بیک زبان ہوکر لبیک کہا۔ جس کے نتیجے میں ارفع کریم رندھاوا کی ترقی کا سوچ نئی نسل کے ذہنوں سے کوچ کر گیا۔ اور بات واپس وہی پر آکر رک گئی کہ ہم نے آج بھی تعلیم کے حصول کے لیے صرف آواز اٹھانا ہے یعنی ہم نے ترقی کے طرف لپکنا نہیں ہے۔ عزیزانِ من۔ اگر محترمہ ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے آواز اُٹھائی ہے تو کیا اس سے پہلے پاکستانی لڑکیاں ان پڑھ تھی؟کیا اس ملک میں لڑکیاں ڈاکٹر، انجینیئر، سائنٹسٹ، جج اور وکیل نہیں بنی تھی؟ کیا اس ملک کیبیٹیاں آرمی اور ائیر فورس کی آفیسرز نہیں رہی تھی؟اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہوسکتا ہے کہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو ہمارے ملک سے ہی تھی۔ آپ کوئی ایک ادارہ بتاسکتے ہے جہاں پر لڑکیوں کی ملازمت پر پابندی ہو۔ محترمہ ملالہ تو ایک نفسیاتی باڑ ہے جس کے لگانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ پاکستانی بچوں کی سوچ اس سے آگے نہ جائے بلکہ محترمہ ملالہ کے پیچھے جائے۔ اور یہ نوبل پرائز تو ملالہ کو شاید اسی وجہ سے دیا گیا ہے کہ اس نے عالمی سطح پر پاکستانی قوم کی بے عزتی کی ہے۔ کہ پاکستانی قوم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بحیثیت مجموعی ہماری خواندگی کی شرح کم ہے جسمیں لڑکے اور لڑکیاں برابر ہے۔ اور محترم ضیاء الدین صاحب کو تو قدرت کی طرف سے ایک اچھا موقع ملا تھا۔ لیکن اس موقع کو اس نے اپنے اور اپنی بیٹی کی شہرت حاصل کرنے میں ضائع کیا۔ اور ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں دیا۔ اگر وہ اس دو دن کی شہرت کے بجائے ملک و قوم کی فکر کرتے اور خود پروفیسر فریڈرک کی طرح بن جاتے اور اپنے ادارے کو سٹین فورڈ کے معیار کا ادارہ بنا دیتے اور اپنے بچوں کو مسٹر ہیولیٹ، مسٹر پیکارڈ، اور سٹیو جابز کی طرح ٹیکنالوجی کی تعلیم دیتے اور سوات ویلی کو پاکستان کی سلیکان ویلی بنادیتے تو آج ان کی شہرت بھی لازوال ہوتی اور اس ملک کی 3/1 سرمایہ کاری اسی صنعت میں اسی علاقے میں انویسٹ ہوتی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 83 Print Article Print
About the Author: Malak Gohar Iqbal Khan Ramakhel

Read More Articles by Malak Gohar Iqbal Khan Ramakhel: 10 Articles with 1999 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: