سابق سینیٹر سید فیصل رضاعابدی کی گرفتاری،رہائی اور سیاست میں واپسی

(Osama Siddique, )

فیصل رضا عابدی کا تعارف کروانے کا قائل نہیں ہوں پورا پاکستان جانتاہے فیصل رضا عابدی ہمیشہ سے اپنے ایک مؤقف پر قائم رہے ہیں کہ آئین پاکستان کو اگر سابق صدر اور چیف آف آرمی سٹاف جناب پرویز مشرف نے معطل کیا تھا تو PCO کے تحت حلف لینے والے تمام ججز بھی اسی طرح مجرم ہیں جیسے کہ پرویز مشرف ،لیکن خیر ایک ویب چینل (نیاپاکستان) کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے جناب چیف جسٹس آف پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکے وہ کیس یاد کروائے جن پر انہوں نے سوموٹو لیا مگر کیس کا فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا جن میں چند آپکے سامنے رکھتا ہوں ۔K-Electric پر 800 ارب روپے کی کرپشن اور کھلی بدمعاشی کی بات کی،کہ اس چیف جسٹس نے ایکشن لیا اور کیس غائب؟200 کمپنیز کی ادویات جعلی نکلی جب سوموٹو لیا تھا تو ادویات ضبط کرنے کے بعد ،پورے پاکستان کے عوام کی صحت سے کھیلنے والے ان کمپنیز کے مالکان کی گرفتاریاں کیوں نہیں کی گئیں ؟کیونکہ اگر لائف سیونگ ڈرگ ہی جعلی ہیں تو وہ کھلا قتل عام ہے،PIA پر نوٹس لیا اسکا کیا بنا؟PTCL پر 800 ملین ڈالرٹیکس کا کیس ہے جو اسنے ادا نہیں کیے،3G,4G نے 1.1 بلین ڈالر کا ٹیکس دینا ہے وہ کہاں ہے؟نجی ٹی وی چینلز نے اربوں روپے کا ٹیکس ادا کرنا تھا جو آج تک ادا نہیں کیا مگر اس پر چیف صاحب اس لیے خاموش ہیں کیونکہ وہ چینلز چیف صاحب کو امیرالمونین بنا کر پیش کرتے ہیں اور سارا دن جسٹس ثاقب نثار کی تعریفیں کرتے ہیں اس لیے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا ،پانامہ پر جو فیصلہ دیا ہے وہ آپکے سامنے ہے اس میں اقامہ کو لے آئے حالانکہ نواز شریف پہلے ہی نا اہل تھے PLD-2000 اٹھائیں اور پڑھ لیں ،ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کا الیکشن میں حصہ لینا پوری قوم کے ساتھ خود ایک بہت بڑا مذاق ہے۔یہ وہ ساری باتیں اور سوالات تھے جو ایک ویڈیو کیمرہ کے ذریعے سے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب سے پوچھے گئے جسکے ردعمل میں توہین عدالت کا کیس ترجمان سپریم کورٹ کی مدعیت میں مقدمہ کی شکل میں درج کیا گیا اور 10oct2018 کو اسلام آباد تھانہ سیکٹریٹ کی پولیس نے عدالت کے باہر سے گرفتار کیا جس میں SHO شبیر سنولی اور SP سٹی جناب عامر نیازی صاحب وہاں پر موجود تھے ۔

کیس چلتا رہا جس دوران انکے گھر میں بھی بیشتر مسائل جنم لیتے رہے باپ کو ہارٹ اٹیک آیا اور وہ بستر مرگ پر پڑے رہے،گھر میں خوشی بھی آئی انکے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن وہ اس خوشی کے موقع پر سات بٹا سات کے ایک سیل میں قید تھے جسکے بعد انہوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی بھی مانگی مگر انکے بقول 75 دن بعد بائیس دسمبر کو انکی رہائی ہوئی ،رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرنے کے دوران کہا کہ اب میرے پاس دو ہی آپشن موجود میں یا تو میں سیاست میں واپس آجاؤ ں یا مملکت پاکستان کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں سیٹل ہو جاؤں ۔

فیصل رضا عابدی کی سیاسی زندگی کو اگر دیکھا جائے تو انہوں نے انجمن تاجران کمیٹی کی صدارت سے لے کر پاکستان پیپلز پارٹی تک ہمیشہ زندہ انسان کی طرح غریب عوام کے حق میں آواز اٹھائی اور جدھر جدھر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی نظر آئی اس مائینڈ سیٹ کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہوتے دکھائی دیئے ،غرباء کے گھر نا جائز تجاوزات کی زد میں لا کر اگر حکومت کی طرف سے گرائے گئے تو اس پر بھی بولتا صرف فیصل عابدی کو دیکھا ، مردم شماری میں جن پاکستانیوں سے ووٹ دینے کا حق چھینا گیا اس پر آواز عابدی صاحب نے اٹھائی، ریاست پاکستان کی بقاء کے لیے اگر کوئی ڈٹ کر بولا تو وہ فیصل رضا عابدی تھا ،افواج پاکستان کی عزت اور وردی میں موجود پولیس والے کی عزت اگر کسی سیاست دان نے کی تو وہ واقعی فیصل رضا عابدی تھا،مگر وہ سیاست دان جو ملک کا پیسہ بلا کسی خوف و ہراس لو ٹ کر کھاتے رہے انکو آج تک عدالت میں ہتکڑی لگا کر پیش ہوتا کم از کم میں نے اپنی زندگی میں نہی دیکھا،بہر کیف افسوس اس بات پر کہ توہین عدالت کے مجرم فیصل رضا عابدی کو ہتکڑی لگا کر پیش کرتے پورے پاکستان نے دیکھا۔مگر اب ہو سکتا ہے جیسے کچھ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ عمران خان صاحب پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام کو اپنے نزدیک زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بارے میں کچھ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ یہ سیاست میں انٹری ماریں گے اور صدر کا عہدہ حاصل کرنے کا عزم رکھتے ہیں ایسے ہی سید فیصل رضا عابدی لگتا ہے کچھ ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے جس طرح وہ ٹی وی ٹاک شوز میں سیاست میں واپس نہ آنے کی قسمیں کھایا کرتے تھے مگر دل میں خواہش اب کس طرز کی سیاست کی تھی وہ فیصل رضا عابدی خود ہی بتا سکتے ہیں ،لیکن جیل کاٹ کر عوام کے دلوں میں انکی طرف سے رحم ضرور اپنا گھر بنا گیا ہوگا اور اسی لیے سیاست کرنے کی سوچ رہے ہیں ۔جسکا ثبوت کچھ دنوں بعد وہ اپنی پریس کانفرنس میں پیش کرنے کی کوشش کریں گیااور امید ہے کہ سیاست میں واپس آنے کے بعد ہم انسے یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ جو قول مولا علؑی کا تھا ’’سیاست میں اگر جھوٹ اور منافقت نہ ہوتی تو علی بڑا سیاست دان ہوتا‘‘ یہ قول فیصل رضاعابدی پر کتنا پورا اترتا ہے؟ کیونکہ اپنی باتوں میں باقی سیاست دانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس قول کا سہارہ فیصل رضا عابدی بہت لیا کرتے تھے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Osama Siddique

Read More Articles by Osama Siddique: 35 Articles with 14189 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jan, 2019 Views: 361

Comments

آپ کی رائے