عوام کا معاون رائٹ ٹو پبلک سروس!

(Akhtar Sardar Chaudhry, Kassowal)

یہ خبر اتنی اہمیت حاصل نہ کر پائی جتنی اہم خبر تھی ۔شاید اس کا تعلق عوام کے حقوق سے تھا ۔ہم جو ہمہ وقت عوام کے حقوق کا رونا روتے ہیں کہ انصاف نہیں مل رہا، انصاف سستافوری ہونا چاہیے اور یہ بھی کہ سرکاری آفیسر عوام کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ان کی شکایت سنتے نہیں ہیں ۔

آج پاکستان اپنی تاریخ کے سخت ترین دور سے گزر رہا ہے بلکہ ہر دور ہی سخت ترین رہا ہے۔اس وقت پاکستان میں ایک طرف دہشت گردی کا عفریت ہے ۔ایک طرف بے روزگاری، غربت ہے تو دوسری طرف کرپشن ،رشوت سے جمع کی ہوئی دولت سے سوئس بینک بھرے پڑے ہیں۔

ملک میں بد انتظامی کا راج ہے،ناانصافی کو انصاف سمجھا جاتا ہے اور بے اتفاقی پر اتفاق ہے اور فرقہ واریت ،لسانی،نسلی،تعصب اور اختلاف اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہاہے ۔عوام کے لیے جینا مشکل سے مشکل تر بنایاجا رہا ہے ۔اور وہ صبح دور نظر آتی ہے جس کے لیے ہمارے پرکھوں نے قربانیاں دی تھیں ۔بقول ساحر لدھیانوی ۔
مجبور بڑھاپا جب سْونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گا
معصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گا
حق مانگنے والوں کو جس دن سْولی نہ دکھائی جائے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی۔

ہم جانتے ہیں کہ معاشرہ انسانوں کے مل جل کر رہنے سہنے سے بنتا ہے۔اس مل جل کر رہنے سے اس میں مختلف قسم کے مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کے مسائل کو حل کرے۔ کیونکہ حکومت ان مشکلات اور مسائل کو حل کرنے کی ذمہ دار ہے ۔اس حکومت نے انتخابات سے قبل عوامی مسائل کے حل کا وعدہ کیا تھا ۔انتخابات کا دور گذر گیا ہے، اب حکام کوچاہیے کہ پوری تن دہی کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو حل کریں، ملک کے تمام ادارے حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور حکومت بھی سنجیدگی سے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے۔

اسی طرح میڈیا کو چاہیے کہ عوامی مسائل حل کرنے کے لئے عملی میدان میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششیں سامنے لائی جائیں۔ ان کوششوں میں سے ایک کوشش چند دن قبل گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے پنجاب رائٹ ٹو پبلک سروس کے مسودہ قانون 2019پر دستخط کر کے اسے پنجاب میں قائم کر دیا۔

خیال رہے اس سے قبل یہ قانون کے پی کے میں نافذ ہے ۔یہ ان قوانین میں سے ایک ہے جس سے کے پی کے کی عوام نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے بھر پورفائدہ اٹھایا۔اور پہلی مرتبہ کے پی کے کی عوام نے دوسری بار ایک ہی پارٹی کو ووٹ دے کر کامیاب کیا ہے ۔کے پی کے کی طرز پر عوامی شکایات کے حل کے لئے پنجاب رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن تشکیل قائم ہوگیا ہے۔اس بارے چند چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں ۔رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن پنجاب کا سربراہ چیف کمشنر ہوگا۔کمیشن کے اختیارات وہی ہوں گے جو سول کورٹ کے پاس ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں خاص طور پر پنجاب میں مخالفین کے خلاف جھوٹے پرچوں کا بہت رواج ہے ۔

لیکن رائٹ ٹو پبلک سروس کے تحت اب ایسا مشکل ہو جائے گا کیونکہ کمیشن جھوٹی شکایت پر پندرہ روز کے اندر پچاس ہزار روپے تک جرمانہ کر سکے گا۔اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیشن کے فیصلوں پر عدالتوں کو اختیار سماعت نہیں ہو گا۔اس سے قبل ہوتا یہ ہے کہ تھوڑا شاطر اور دولت مند شخص اچھا وکیل کر کے قانون کے شکنجے سے نکل جاتا تھا ایک اپیل دوسری اپیل اس طرح غریب آدمی زیادہ دیر ٹک نہیں سکتا تھا ۔اب ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔

ہمارے ہاں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ سرکاری آفیسر کام نہ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں۔اس بات میں پوری سچائی ہے ۔آپ کوئی ایک محکمہ نہیں دکھا سکتے جس میں رشوت کا بازار گرم نہ ہو ۔حالانکہ اوپر حدیث صلی اﷲ علیہ وسلم لکھ کر لگائی ہوتی ہے کہ رشوت دینے اور لینے والا جہنمی ہے ۔اس کے عین نیچے رشوت دی بھی جاتی ہے اور لی بھی جاتی ہے ۔یہ سب جائز کام کروانے کے لیے کیا جاتا ہے ۔حالانکہ عوام کے انہی جائز کاموں کے لیے یہ محکمے وجود میں آئے ہیں اور ان ہی کاموں کے کرنے کی یہ سرکاری ملازم تنخواہ لیتے ہیں ۔

لیکن اگر عوام نے حکومت کا بھر پور ساتھ دیا تو اس بیورکریسی کی یہ برسوں کی عادت بد پر اب بند باندھا جا سکتا ہے ۔ رائٹ ٹو پبلک سروس کے اس قانون کے تحت اب سرکاری دفتروں میں افسر ان کی کارکردگی مانیٹر ہو گی۔رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کامقصود معینہ مدت میں خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور معیار کو قائم رکھتے ہوئے خدمات کو شفاف انداز میں عوام تک پہنچانا ہے۔

حکومت پنجاب نے عوام کو مقررہ وقت میں عوامی خدمات مہیا کرنے کے لئے قانون نافذ کر دیا ہے ، اس قانون کے تحت صحت،زکوہ مقامی حکومتیں اور دیر محکمے عوام کو فوری شکایات کا ازالہ اور انصاف فراہم کر نے پابند ہو نگے ۔ محکمہ پولیس متعلقہ تھانوں میں ایف آئی ار کا اندارج فوری طورپرکرنے کا پابند ہوگا۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ٹائم فریم بھی دیا جائیگا، حل نہ کرنے پر کارروائی ہوگی۔ کسی شخص کا مسئلہ 30 روز تک حل کرنے کی ذمہ داری سرکاری افسر پر ہو گی۔اگر عوام اس قانون سے بھر پور فائدہ اٹھائے تو ان شا اﷲ ملک سے خاص طور پر پنجاب سے بہت سے مسائل کا خاتمہ ممکن ہے خاص کر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 320 Print Article Print
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 496 Articles with 274395 views »
Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More

Reviews & Comments

SERVICES HASIL KARNAY KA TAREEQA KIA HAI AUR KIA INKAY OFFICES HAR CITY MEIN HONGAY ..????
By: MUHAMMAD MUSHTAQ, Rawalpindi on Feb, 02 2019
Reply Reply
0 Like
Language: