ہاتھ نہ ملانا صاحب

(Babar Alyas, Chichawatni)

‏عثمان بزدار عثمان بزدار عثمان بزدار
پورا شوشل میڈیا ایک ہی نام سے بھرا ہواہے لگتا ہے ابھی تک کوئی40 کے قریب ٹاک شو بھی عثمان بزدار صاحب پر ہوۓ ہیں مطلب اگر کل عثمان بزدار صاحب آرام سےگھر بیٹھے ہوتے تو میڈیا اور سوشل میڈیا والےفارغ ہوتے؟
دعا دو میڈیا والوں، تمہیں چورن ملا بیچنے کو؟
‏‎ایسا محسوس ھوتا ھے کہ ٹاسک ملا ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے...پر الحمدللہ قوم اب ان سب کرداروں کو پہچان چکی ہے
پاکستان واحد ملک ھے جس ‏‎ایسی چھوٹی باتیں چھوٹے بڑے لوگوں کو نظر آتی ہیں
‏‎یہ ہمارے ملک کے صحافی بھاٸی اور تجزیہ نگار بھی ہر نان ایشو کو ایشو بنا دیتے ہیں۔کیا یہ اتنی بڑی بات تھی کہ اس پہ بات اور پروگرام کیے جاتے؟لیکن یہ پاکستان ھے
کہتے ہیں کہ نہ ‏محبت میں تجزیہ ہوتا ہے اور نہ نفرت میں۔ کچھ نے کہااور مانتے بھی ہیں کہ خوبیاں ہی خوبیاں ہیں بزدار صاحب میں تو دوسری طرف کچھ اہل علم ؤ دانش کیڑے ڈالنے اور نکالنے پہ تلے ہیں ۔اگر صاحب وطن ہاتھ ملانا بھول گیا تو کیا ہوا ,کیا قیامت آگی کہ ٹی وی پروگرام تک ھو گۓ اگر یہ اہل علم ؤ وطن ایک پل کے لیے یہ تصور کر لیں کہ یہ نالائقی نہیں بلکہ یہ غیر حاضر دماغی ہے۔
میری‏‎قوم اور میڈیا دانشوروں کا معیار دیکھو صرف ہاتھ نہ ملانے پر گھنٹوں ٹی وی پر آ کر بحث کر رہے ہیں جیسے یہ قوم تعلیم, بھوک , انصاف دینے میں کامیاب ہو گئی ھے, سارے مسائل ختم ہو گئے ہیں, واہ رے میرے دانشور
کہتے ہیں کہ ‏‎جس شخص کا گرو کھر دماغ ہو اس کے چیلوں سے بھی وہی امید کی جاسکتی ھے لہذا یہ دانشور حضرات کا بھی حال ایسا ہی ھے کیونکہ انکو تو پیسے کی ضرورت ھے
‏‎ہاتھ ملا لیا تھا یا نہیں لوگوں نے افسانے بنانے شروع کر دئیے کیا اس سے کوئی فائدہ تو نہیں حاصل کر رہا؟

میں یہاں ایک راۓ دینا چاہتا ھوں کہ ‏‎جس طرح ٹرمپ کا ہر طرح مذاق اڑایا گیا تھا کہ کم عقل ہے سیاست کی سمجھ نہیں ملک کیسے چلائے گا لوگوں کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ صدر ہے تمھارا آج وہی ٹرمپ سب سے بہتر ثابت ہو رہا انکی نظر میں انکے ملک کے لیے لہذا اگر بزدار صاحب بھی ٹرمپ کی مثال کو سامنے رکھیں اور اپنا کام کئے جائیں تو شاید پنجاب کے لیے بھی آگے چل کر بہتری کا باعث بن جاہیں..
اہل صحافت سمجھ لیں ‏کسی کو بدنام کرنے کا سبب مت بنیں جو مل نا سکا اس کو اللہ کی رضا جانیں اور بہتر کی امید رکھیں.
میری راۓ ھے اہل علم ‏‎ لوگ انہیں کام کرنے دیں۔ کیا آپ حضرات نے صحافت ایک دن میں سیکھی؟ تجربہ 2 دن میں حاصل کیا ؟
‏مثبت سـوچ اور صحیح رُخ کا تعین اور اسکےذریعے شروع کیا جـانے والا سفـر دیر یا سـویرمنزل پر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے، اسکے برعکس جتنی مـرضی دوڑ لگا لی جائے، وہ نقصـان اوربربادی پر ہی ختم ہوتا ھے.
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 248 Print Article Print
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas: 166 Articles with 51798 views »
I am a teacher. I am very fond of studying different issues in the world... View More

Reviews & Comments

Language: