صحت کی بہتر سہولیات حکومت کی ذمہ داری

(Akhtar Sardar Chaudhry, Kassowal)

صحت کی سہولت بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک تصور کی جاتی ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو علاج معالجے کی سستی اور معیاری سہولتیں فراہم کرے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 38کے الفاظ کے مطابق ’’ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب، جنس،ذات، عقیدہ اور نسل زندگی کی بنیادی ضرورتوں بشمول صحت اور علاج ومعالجہ کی سہولتوں کو یقینی بنائے‘‘لیکن پاکستان میں ریاست کی طرف سے سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا یہ ہی ایک شعبہ ہے ۔

پاکستان میں شعبہ صحت کا شمار ایسے شعبوں میں ہوتا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس کے کئی ایک پہلو ہیں ۔جن میں سب سے اہم پہلو کی جانب بہت ہی کم توجہ دی گئی ہے وہ ہے صحت کے لئے آگاہی مہم،جس کی اشد ضرورت ہے ۔مثلاََصحت مند کیسے رہا جا سکتا ہے۔بیماریوں سے بچاؤ کیسے ممکن ہے ۔ اس بارے ملک بھر میں مسلسل آگاہی کی ضرورت ہے ۔اس موضوع پر مزید گفتگو کرنے سے قبل حکومت کی جانب سے عوام خاص کر غرباََ کی صحت کے لیے سابقہ حکومت کی طرح ’’صحت انصاف کارڈ‘‘کی سکیم کے آغاز بارے کچھ گفتگو ہو جائے ۔جہاں حکومت کے اس احسن اقدام پر خوشی ہوئی وہاں مجھے اس پر بے حد افسوس ہوا کہ کل تک تحریک انصاف ایسے عوامی پروگرامز بارے سابقہ حکومت پر یہ اعتراض کرتی رہی کہ ان میں وزیر اعظم یا وزیر اعلی کی تصویر لگانے کا مقصد ذاتی پبلسٹی ہے اور اب یہ ہی کام خود کر رہی ہے ۔اسی طرح وفاقی حکومت نے وزیر اعظم نیشنل ہیلتھ پروگرام کا نام تبدیل کر کے‘‘صحت سہولت پروگرام ’’رکھا تھا جبکہ ہیلتھ کارڈ کانام تبدیل کر کے’’صحت انصاف کارڈ’’رکھا گیا ہے ۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے صحت انصاف کارڈ کا اجرا خوش آئند ہے ۔یہ منصوبہ اسلام آباد، پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے لیے ہے(خیبرپختونخوا میں اس کا اجرا پہلے ہی کیا جا چکا ہے) اس اسکیم کے تحت غریب خاندان 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک خرچ کرسکتا ہے۔ ایک ماہ کے اندر اندر پنجاب میں ایک کروڑ خاندانوں کو یہ کارڈ فراہم کیے جائیں گے، پہلے مرحلے میں 8 لاکھ غریبوں کا مفت علاج ہوگا جبکہ مجموعی طور پر 9 کروڑ پاکستانی علاج ومعالجے کی سہولیات سے مستفید ہوں گے۔گاؤں یا دیہات میں رہنے والوں کو مقامی یونین کونسل کارڈ دینے کی پابند ہوگی اوربڑے شہروں میں مقامی آفس بنائے جائیں گے جہاں سے کارڈ دو تصاویر اور ایک درخواست کے تحت 30 منٹ میں جاری کردیا جائے گا۔

اس سکیم کے ذریعے عوام کو مندرجہ ذیل سہولیات میسر ہوں گی ۔کارڈ ہولڈرز کو سالانہ سات لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔ڈیڑھ کروڑ خاندان یعنی آٹھ کروڑ شہریوں کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔جس میں بڑے امراض جیسا کہ اینجو پلاسٹی، برین سرجری اور کینسر سمیت دیگر امراض کا علاج بھی مفت ہو گا ۔سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت دی جائے گی ۔کارڈ ہولڈر ملک کے 150 سے زائد ہسپتالوں سے علاج کرواسکے گا ۔اس پروگرام کی نگرانی کے لئے ایک نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں قومی، صوبائی اور علاقائی ہیلتھ ڈپارٹمنٹس کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کارڈ ہولڈر کی حادثاتی موت کے نتیجے میں اُس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات کے لئے بھی 10ہزار روپے کی رقم اُس کے ورثاء کو ادا کی جائے گی۔

ہمارے ملک میں تقریبا ہر حکومت نے تعلیم اور صحت کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا ہے۔حکومت کا کیا کہنا صحت اور تعلیم کو عوام نے بھی کبھی اہمیت نہیں دی ۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو صحت کی بہتر سہولیات میسر نہیں۔ دیہی آبادی کا 40 فیصد حصہ صحت کی بنیادی ضروریات زندگی کی سہولتوں سے بھی محروم ہے۔اس کی سب سے اہم وجہ پاکستان میں پائی جانے والی فضائی آلودگی، ناقص خوراک یہ فیکٹر جتنا اہم ہے اتنا ہی اسے نظر انداز کیا جاتا ہے ۔، زہریلے سپرے والی سبزیاں،برائلر گوشت اورخراب پانی ،ناقص غذا کی طرح مضر صحت پانی کتنا نقصان دہ ہے اس سے ہم مکمل طور پر لاپرواہی برت رہے ہیں ۔

ہم ایک بے شرم قوم بن چکے ہیں دودھ جیسی غذا میں بھی ملاوٹ کرتے ہیں ،اسے خریدتے ہیں ،اپنے بچوں کو پلاتے ہیں ،یہ کتنا نقصان دہ ہے ہم سب جانتے ہیں اور کوئی احتجاج بھی نہیں کرتے ۔پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں آئے روز ایسی خبریں نمایاں انداز میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز مریضوں کو پرائیویٹ لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کا مشورہ دیتے ہیں، سرکاری ہسپتالوں سے بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود ہر اچھے ڈاکٹر کا ایک پرائیویٹ کلینک بھی لازمی ہو تا ہے۔

اس کے باوجود حکومت نے کبھی ان کو کوئی سزا نہیں دی ۔سارا مسئلہ ہی عدل نہ ہونے کا ہے ۔اگر ان منافع خوروں،سود خوروں،ملاوٹ خوروں ،حرام خوروں کو سزائیں ملیں تو کس کی جرائت ہو دوسروں کی صحت سے کھیلنے کی ۔لیکن افسوس ایسا کچھ ہونے کی زیادہ امید بھی نہیں ہے ۔کیونکہ انصاف دینے والے تو خود ان جرائم میں ملوث ہیں ۔ ایسے ضمیر فروش لوگوں کو مسلمان کہنا لفظ ’’مسلمان‘‘ کی توہین ہے۔ یہی وہ ظالم ہیں جن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔

تحریک انصاف نے انصاف کے نام پر ووٹ حاصل کیے ہیں ابھی چند دن قبل وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے تعلیم و صحت کے محکموں کی کار کردگی چیک کر نے اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے خود بھی میدان میں نکلنے کا فیصلہ کر لیاہے، خودان دونوں محکموں کے اچانک دورے کریں گے۔ انہوں نے مختلف شہروں میں عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی میں آنیوالی مشکلات اور انکا بروقت ازالہ نہ ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کی کار کردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔اگر وزیر اعلی اپنی کہی ان باتوں پر عمل کر لیں تو وہ صبح طلوع ہو جائے گی جس کا خواب برسوں سے عوام دیکھ رہی ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 273 Print Article Print
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 496 Articles with 273358 views »
Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More

Reviews & Comments

Language: