قوم کا حافظہ

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

انسان اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات ، واقعات اور باتوں کو ذہن کے چھوٹے چھوٹے اَن گنت خلیوں ( اعصابیوں ) میں محفوظ رکھتا ہے جس کو حافظہ کہتے ہیں۔ اس کے برعکس محفوظ نہ کر سکنے کو ’ بھول جانا ‘ کہتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق کسی چیز کو سیکھنے کی اہلیت ، اس کو یاد رکھنے کی صلاحیت اور پھر موقع محل کے مطابق اس کو استعمال کرنے کی قدرت کانام حافظہ ہے۔ انسانی ذہن کی یہ خوبی ہے کہ ہر واقعہ اس پر کچھ نہ کچھ نقوش چھوڑ جاتا ہے اور اگر زندگی میں دوبارہ ایسا موقعہ پیش آئے تو پُرانی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں، یعنی ماضی یاد آجاتا ہے اور گزرے واقعات آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر امجد درخت پر چڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر کر زخمی ہوگیا۔ اَب جب بھی امجد اس درخت کے پاس سے گزرے گا تو اس کے ذہن وہ حادثہ تازہ ہوجائے گا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اگر کوئی اور شخص اپنے درخت سے گرنے کا حادثہ بیان کرے گا تو اس پر بھی امجد کے ذہن میں درخت سے گرنے کے حادثے کی یاد تازہ ہوسکتی ہے۔ اگر انسانی ذہن میں نقوش کو محفوظ کرنے کی یہ خوبی نہ پائی جاتی تو حزب اختلاف کی جماعتیں حکمرانوں کو ان کے وعدے یاد دلانا ، استاد کا کمرۂ جماعت میں پڑھانا ، ڈاکٹر کا مریض کے لئے نسخہ تحریر کرنا، صحافیوں کے لئے خبریں اور کالم لکھنا اور طالب علم کے لئے امتحان میں پرچہ دینا کتنا مشکل اور دشوار کام ہوتا۔ ماہرین تعلیم انسانی ذہن کی اس خوبی سے بھر پور استفادہ اُٹھاتے ہیں اور اس کی مدد سے نہ صرف بچوں کی تعلیمی نشوونما کرتے ہیں بلکہ اُن کی جذباتی ، معاشرتی اور اخلاقی پہلوؤں سے تربیت بھی کرتے ہیں۔ جب کہ ہمارے سیاست دان اس کے لئے مکافات عمل کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پس حافظہ ہمارے ان پُرانے تجربات ، واقعات اور حادثات کی یاد آوری کا نام ہے جن کا ہم بذات ِ خود تجربہ کرچکے ہوتے ہیں۔

فرد کے حافظے کے علاوہ قوم اور میڈیا کا بھی حافظہ ہوتا ہے۔ مؤخرالذکر پرنٹ ، الیکٹرانک یا سوشل ہوسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر شرپسند صارفین اور ان کے حافظے کے خلاف اگلے ہفتے میں کریک ڈاؤن کی نوید سنائی جارہی ہے۔ شاید میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے ذریعے اس حافظے کو پابند ِ سلاسل کیا جائے گا۔ جہاں تک اول الذکر کا تعلق ہے تو جب بھی انتخابات کی بات ہوگی تو قوم کے حافظہ میں ۲۰۰۲ کے انتخابات اور ایم ایم ااے کی کامیابی یاد آتی ہوگی جنہوں نے سادہ طرزِ زندگی اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے وعدے کئے تھے۔ ایک وہ بیرونِ ملک دورہ بھی یاد آتا ہو گا جب حکومتی وزراء نے مہنگے ہوٹلوں میں قیام کے بجائے مساجد میں راتیں بسر کی تھیں۔ قوم کے حافظے میں ہوگا کہ اس وقت حکومتی اراکین نے لگژری گاڑیوں اور پروٹوکول کے بغیر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کئے تھے لیکن پھر چند ماہ بعد۔۔۔قوم کو راجہ پرویز اشرف کے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے اعلانات بھی حافظہ کی مرہون منت یاد آتے ہوں گے اور قوم کے حافظہ میں ۲۰۱۳ کے انتخابات کی یادیں بھی ہوں گی جب پاکستان تحریک ِانصاف کی صوبائی حکومت نے وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس سے یونیورسٹی اور لائبریری بنانے کے وعدے کئے تھے لیکن پانچ سال گزرے گئے اور۔۔۔ قوم اور وزیراعظم عمران خان کے حافظے میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کا دورہ بھی ابھی تروتازہ ہوگا جب انہوں نے ڈرائیور بن کر اُن کی گاڑی چلائی تھی اور عوام نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اَب سعودی ولی عہد کی آمد آمد ہے تو کیا وزیراعظم ان کے ڈرائیور بھی بننا پسند فرمائیں گے کیوں کہ حافظہ وہ ببَلا ہے جو اُن کو نورخان ائیر بیس پر پُرانا واقعہ یاد دلائے گی۔ وزیر اعظم بنی گالا میں قیام کرتے ہیں اور قوم کے حافظہ میں یہ بات ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس سے یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا جاچکا ہے تو کیا معزز مہمانان گرامی کو مستقبل کی یونیورسٹی کی عمارت میں ٹھہرایا جائے گا؟ قوم کے حافظے میں ایک ڈیڑھ سال پُرانی وہ ساری باتیں ہوں گی جب پاکستان تحریک انصاف نے راحیل شریف کو اسلامی ممالک کی فوج کا سربراہ بنانے کی مخالفت کی تھی اور آج۔۔۔ بے شک آپ سوشل میڈیا کے حافظے کو تالا ڈال دیں یا ڈیلیٹ کر دیں لیکن قوم کا حافظہ آپ ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔
یاد ماضی عذاب ہے یا ربّ
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 191 Print Article Print
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 164 Articles with 77128 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: