جموں اور انڈیا میں کشمیریوں پر حملے

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

جموں اور انڈیا میں کشمیریوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کا ہندو جنونیوں کو حکومتی سرپرستی میں نادر موقع مل گیا ہے۔ ریاست کی گورنر حکومت کو بھی جموں سے مسلمانوں کا صفایا کرنے کا موقعہاتھ آیا ہے۔انڈیا نے پہلے ہی بنگلہ دیش کے 10لاکھ سے زیادہ ہندو بھارتی ریاستوں میں بسانے کے بجائے متنازعہ جموں خطے میں بسا دیئے ۔لیکن چند ہزار برما کے مسلم مہاجرین کو جموں میں برداشت نہیں کیا جا رہا ہے۔پلوامہ حملے کے بعد جہاں بھارتی آئی ایم جی ریلائنس نے پی ایس ایل کا بائیکاٹ کر دیااور بھارتی فلم انڈسٹری نے پاکستانی اداکاروں کے بائیکاٹ کااعلان کیا، وہیں جموں میں منگل کو پانچویں روز بھی کرفیو جاری رہا۔ کرفیو 15 فروری کو لگایا گیا۔ 14فروری کو جب جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی نیم فوجی دستوں کی کانوائے پر فدائی حملہ ہوا۔ اس وقت یہ کانوائے جموں سے کشمیر جا رہی تھی۔ ہائی وے پر دھماکہ ہو گیا۔ اس کے فوری بعد جموں میں منظم انداز میں مسلمانوں پر شرپسند ہندو گروپوں نے حملے کئے۔ ریذیڈنسی روڈم چوک شہیداں اور اس کے عقب میں واقع گجر نگر محلہ پر ان شرپسندوں نے دھاوا بول کر درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ کئی رہائی گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ ان کا نشانہ کشمیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں بنیں۔ کرایہ کے مکانوں، ہوسٹلوں پر بھی حملے کئے گئے۔ وادی کشمیر کے ہزاروں مسافر جموں میں درماندہ تھے۔ کیوں کہ 300کلو میٹر لمبی سرینگر جموں ہائی وے برف کی وجہ سے بند تھی۔ وادی کشمیر کے جو لوگ انڈیا کی ریاستوں میں تعلیم اور روزگار یا کاروبار کے لئے جاتے ہیں ، ان کے لئے جموں ٹرنزٹ کیمپ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جموں شہر کبھی سیالکوٹ کا جڑواں شہر کہلاتا تھا۔ یہاں سے دریائے توی بہتا ہے۔ 1947تک یہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ قیام پاکستان کی خوشی میں یہاں مسلمانوں نے اپنے مکانوں پر پاکستانی پرچم لہرائے اور پاکستان جانے کی خوشی میں جھومنے لگے۔

92سالہ بزرگ صحافی اور دانشور قیوم قریشی مرحوم نے چشم دید واقعہ یوں بیان کیا، ’’ اس زخم کی کہانی کا آغاز جمعرات6 نومبر 1947 ء کو صبح تقریباً دس بجے جموں شہر کے چار ہزار سے زیادہ مسلمانوں سے بھرے ہوئی بسوں اور ٹرکوں کی پولیس لائنز جموں سے روانگی کے ساتھ ہوا ان لوگوں کو یہ جھانسہ دیا گیا تھا کہ انہیں ٹرکوں اور بسوں کے ذریعے سوچیت گڑھ پہنچا دیا جائے گا، جو سیالکوٹ اور جموں کے درمیان سرحدی قصبہ ہے۔ یہ اس طرح کا دوسرا قافلہ تھا جو جموں سے روانہ ہوا تھا اس سے ایک دن پہلے یعنی بدھ 5 نومبر 1947 ء کو بھی سیالکوٹ پہنچانے کے جھانسے کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا، اس قافلے کا کیا حشر ہوا تھا وہ ایک الگ داستان ہے۔ پہلے قافلے میں تو میں شامل نہیں ہوسکا تھا لیکن دوسرے دن میں نے کسی نہ کسی طرح ایک بس کی چھت پر جگہ حاصل کرلی اور پھر وہ پورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا جو قافلے کے مسافروں کے قتل عام کی صورت میں ڈوگرہ اور بھارتی فوجیوں اور ہندوؤں اور سکھوں نے رچایا تھا اور جموں میں بشناہ جانے والی سڑک پر نہر کے کنارے صبح گیارہ بجے سے تین بجے سہ پہر تک جاری رکھا تھا۔‘‘

جس خطے کی فضائیں اﷲ اکبر کی صداؤں سے معطر ہوتی تھیں وہ آج مندروں کا شہر کہلاتا ہے، بھجن اور گھنٹیوں کی چیخ و پکارپر زمین بھی رو رہی ہے۔ قیام پاکستان کی بڑی سزاکشمیر بالخصوص جموں کے مسلمانوں کو ملی۔چند دنوں میں3لاکھ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا۔سٹیٹس مین ا خبار کے ایڈیٹر آئن سٹیفن کی کتاب’’ ہارنڈ مون‘‘Horned Moon،کشمیر ٹائمز کے مدراسی ایڈیٹرجی کے ریڈی اور لنڈن ٹائمز نے تصدیق کی کہ اکتوبراور نومبر1947ء کو جموں اور اس کے نواح میں اڑھائی لاکھ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔مغربی مصنف آلسٹر لیمب نے اپنی کتاب ’’ان کمپلیٹ پارٹیشن‘‘ Incomplete Partitionمیں لکھا کہ ہندو شرپسندوں کی لوٹ مار کے دوران بستیوں، بازاروں اور350 مساجد کو آگ لگا دی گئی۔ جموں ضلع میں 1941 ء میں مسلمان کل آبادی کا 60 فیصد تھے اور 1961ء میں وہ صرف 10 فیصد رہ گئے۔پلوامہ حملے کے بعد جموں میں مسلمانوں کے خلاف منظم حملے اسی ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

6نومبر1947ء کو ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ، مہارانی تارا دیوی،ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل اور سابق وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کی آشیر واد اوروزیر اعظم جواہر لال نہرو کی ہدایت پرمسلمانوں کو گاڑیوں میں سیالکوٹ پہنچانے کے بہانے شہید کیا گیا۔ تقسیم کے اصولوں کے منافی باؤنڈری کمیشن کے ریڈ کلف کی بددیانتی سے ہندوستان کو کشمیر تک زمینی راستہ دینے کے لئے پنجاب کے مسلم اکژیتی علاقہ گورداسپور کو پاکستان کا حصہ نہ بننے دیا گیا۔اور اسے بھارت کو دے کر کشمیر تک راہداری دی گئی۔مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ4 ؍ نومبر 1947ء کو ہندوستانی وزیر داخلہ سردار ولبھابھائے پٹیل، وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ اور مہاراجہ پٹیالہ سردار دیوندر سنگھ نے جموں میں مہاراجہ کی مشاورت سے تیار کیا تھا۔راوی کہتا ہے کہ مسلمانوں کے قتل عام سے چناب کا سب سے بڑا معاون دریا’’ توی‘‘ خون سے بھر گیا۔جموں کے گلی کوچوں سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ جموں ڈویژن سے نسلی صفائی میں جن سنگھیوں کو استعمال کیا گیا۔اس سے قبل ڈوگرہ فورسزنے پوری ریاست کے مسلمانوں کا قافیۂ حیات تنگ کررکھا تھا۔ قبائل کشمیر میں داخل ہوئے تو ڈوگرہ راجہ 25؍ اکتوبر 1947ء کو مقبوضہ وادی سے فرار ہوگیا۔ سرینگر سے جموں پہنچ کر رانی تارا دیوی نے سر کے بال بکھیر دیئے۔ چیخ و پکار کی کہ مسلمان غلاموں نے کشمیر ہم سے چھین لیا۔ ہندوؤں کو مسلمانوں پر حملے کرنے کی ترغیب دی اور اسلحہ تقسیم کیا ۔ منادی کرادی کہ مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے ہر ہندو آزاد ہے۔ تارا دیوی نے ڈوگرہ سرداروں کا اجلاس طلب کیا جس میں فیصلہ کیا کہ تمام مسلمان افسروں کو نوکریوں سے برطرف کر دیا جائے اور کوئی مسلمان افسر کسی ذمہ دار عہدے پر فائز نہ رہے۔کہا جاتا ہے کہ 30؍ اکتوبر 1947ء تک پورے جموں میں ایک بھی مسلمان افسر کسی اہم اورذمہ دار عہدے پر فائز نہ تھا۔ مہاراجہ پٹیالہ نے شرپسندوں کی کمک جموں داخل کی ۔ قتل عام اورلوٹ مار کے بعد ہی مسلمانوں نے جموں سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مسلمانوں کو فوجیوں کی حفاظت میں لاریوں میں پاکستانی سرحد پر آر ایس پورہ، ارنیہ، ڈگیانہ علاقوں میں اندھا دھند گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ عورتوں کو علیٰحدہ کرکے ان کے برہنہ جلوس نکالے گئے۔انہیں اغواء کیا گیا ۔جن کا آج تک کوئی پتہ نہ چل سکا۔سیکڑوں عصمتیں بچانے کے لئے دریا میں کود گئیں ۔جس طرح ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کے موقعہ پر درندگی کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح جموں کے مسلمانوں پرقیامت ٹوٹ پڑی۔مسلمانوں کے قتل عام میں پنجاب کے راجواڑوں، پٹیالہ، کپور تھلہ، فرید کوٹ اور نواحی علاقوں کے مہاراجوں نے بھی حصہ لیا۔ یہ عید الاضحی کا موقع تھا جب ہندو دہشت گردوں نے ایک نعرہ کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی وہ کہہ رہے تھے کہ عید کو مسلے قربانی کرتے تھے اب آج کی عید پر ہم ان کی قربانی کریں گے۔ مسلمانوں کے قتل عام سے قبل پورے جموں میں کرفیو لگایا گیا۔ سیوک سنگھ، مہاسبھا اور اکالی دل کے جتھوں نے ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرنے کا عہد کررکھا تھا۔ چاروں اطراف سے جے ہند اورمت سری اکال کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کے علاقوں میں انتظامیہ نے اعلان کیا کہ پاکستان نے مسلمانوں کیلئے گاڑیاں بھیجی ہیں، اس لئے لوگ سیالکوٹ جانے کیلئے پولیس لائنز میں جمع ہو جائیں۔ اس وقت پولیس لائنز جموں توی میں تھا، جہاں بسوں پر پاکستانی جھنڈے لگا دیئے گئے تھے۔شیخ عبداﷲ اپنی خود نوشت آتشِ چنار میں لکھتے ہیں کہ 5؍ نومبر 1947ء کو جموں شہر میں ڈھنڈورہ پٹوایا گیا کہ مسلمان پولیس لائنز میں حاضر ہو جائیں تاکہ انہیں پاکستان بھیجا جاسکے۔ مسلمان بچوں اور عورتوں کے ساتھ حاضر ہوگئے۔انہیں چالیس ٹرکوں کے قافلے میں سوار کیا گیا۔ ہر ٹرک میں 60 افراد سوار تھے۔ انہیں سانبہ کے قریب ایک پہاڑی کے نزدیک اتارا گیا جہاں مشین گنیں نصب تھیں۔ جوان عورتوں کو الگ کرکے باقی تمام جوانوں، بچوں اور بوڑھوں کو آن کی آن میں گولیوں سے اڑا دیا گیا ۔یہی سلوک کئی قافلوں کے ساتھ ہوا۔ جس طرح پٹیالہ، فرید کوٹ اور کپور تھلہ میں مسلمانوں کا مکمل صفایا کیا گیااسی طرح جموں سے مسلمانوں کا صفایا کرنا مقصود تھا۔کشمیر پر 27اکتوبر1947کوبھارتی فوجی قبضے سے قبل ڈوگرہ فوجیوں نے 20؍ اکتوبر 47ء کو اکھنور میں مسلمانوں کو پاکستان لے جانے کیلئے جمع کیا او ر انہیں شہید کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اکھنور پل سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ 23؍ اکتوبر کو جموں کے آر ایس پورہ شاہراہ پر جمع 25 ہزار مسلمانوں پر ڈوگرہ اور پٹیالہ فورسز نے اندھا دھند گولیاں چلاکر شہید کیا۔ آر ایس پورہ تحصیل میں مسلمانوں کے 26دیہات تھے۔ آج وہاں چند گھر ہی نظر آتے ہیں۔

جموں شہر کی آبادی 1941ء کی مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار تھی جو 20 سال بعد 1961ء میں کم ہوکر صرف 50 ہزار رہ گئی۔مسلمانوں کی نسل کشی میں دہشت گرد تنظیموں آر ایس ایس، ہندو مہا سبھا اور دیگر فرقہ پرست جماعتیں پیش پیش رہیں۔ یہ وہی فرقہ پرست تھے جنہوں نے مارچ 1947ء میں لدھیانہ، جالندھر،امرتسر، کپورتھلہ، پٹیالہ،فرید کوٹ،پانی پت، کرنال، گوڑگاؤں وغیرہ میں مسلمانوں پر حملے کئے اور یہی لوگ تھے جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوکر مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کٹھوعہ، سانبہ، ادھمپور، بھمبر، نوشہرہ، ہیرانگر، رام گڑھ، آر ایس پورہ، ارنیہ، سچیت گڑھ، جموں ، بٹوت حتیٰ کہ مظفر آباد میں بھی ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ مہاراجہ نے ان دہشت گردوں کی خوب آؤ بھگت کی۔ اس نے وزیر اعظم پنڈت رام چند کاک کو برطرف کر کے مہارانی تارا دیوی کے قریبی رشتہ دار ٹھاکر جنک سنگھ کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ مہاراجہ نے اپریل 47ء کو راولاکوٹ کے دورہ کے موقع پر جب جنگ عظیم دوم کے ہزاروں مسلمان فوجیوں کا نظارہ کیا تو واپسی پر فوری طور پر غیر مسلم راجپوت اور ڈوگرہ فوج کے یونٹ قائم کئے۔ راجہ نے اپنے سسُرالی علاقہ کانگڑہ (رانی تارا دیوی کا علاقہ) اور اس کے قرب وجوار کلو، چمبہ،گڑھوال وغیرہ سے بھی ہندو فوجی بھرتی کئے۔ ان فوجیوں کو سرینگر اور جموں میں تعینات کیا گیا۔ مہارانی تارا دیوی نے باؤنڈری کمیشن کے ممبر مہر چند مہاجن جیسے مسلم دشمن غیر ریاستی شخص کو کشمیر کا وزیراعظم بنایا۔ مہاجن کو لارڈ موؤنٹ بیٹن اور کانگریس ہائی کمان تک رسائی حاصل تھی۔ مہاجن نے اپنی کتاب’’Back Looking‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ مہارانی نے ان کے ساتھ لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں مشاورت کی۔ وہ اپنے علیل بیٹے کرن سنگھ کے علاج کے لئے لاہور آئی ہوئی تھی جو ایک بہانہ تھا۔ بعد ازاں مہر چند مہاجن کو چیف جسٹس آف انڈیا بنایا گیا۔

71سال گزرنے کے باوجود جموں کے ہندو دہشت گردوں کی ذہنیت نہیں بدلی ہے۔ امر ناتھ شرائن بورڈ کے خلاف تحریک کے ردعمل میں جموں کے انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی۔ وادی کے مسلمانوں نے ہندوؤں کا ہمیشہ احترام کیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات کے باوجود وادی میں ہندوؤں کے خلاف کوئی ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ کشمیری مسلمان صرف اپنے حقوق کے لئے برسرپیکار ہیں جبکہ ہندو انتہا پسند جب بھی موقع ملے مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ آج بھی جموں ڈویژن میں بھارت کی جانب سے قائم ویلج دیفنس کمیٹیوں میں شامل ہندو انتہا پسند چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔پنچ اور سرپنچ مقامی مسائل کی جانب متوجہ ہونے کے بجائے بھارتی فورسز کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ 1947ء کومسلمانوں کی نسل کشی اور انخلاء کے باوجود ضلع ڈوڈہ ، کشتواڑ ، پونچھ اور راجوری میں80فیصد مسلم آبادی ہے جبکہ ریاسی ، ادھمپور، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت کے طو رپر موجو دہیں۔اگرکشمیر کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تو 1947کی طرح مسلمانوں کی ایک بار پھر نسل کشی کا خدشہ پیدا ہو گا۔آج جموں کو ایک الگ بھارتی ریاست اور لداخ کو دہلی کا زیر انتظام علاقہ بنانے کے لئے ہندو انتہا پسندسرگرم ہیں۔دوسری طرف جموں خطے سے ہجرت کرنے والے پاکستان میں کراچی سے کوہالہ تک لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔انہیں دوہری شہریت حاصل ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں مقیم پاکستان کے لئے 6نشستیں مختص ہیں۔

پلوامہ حملے کے بعد جموں سمیت بھارت میں کشمیریوں پر حملے تیز ہو رہے ہیں۔ تعلیم، روزگار، کاروبار، ملازمت کے لئے بھارت کی ریاستوں میں موجود کشمیریوں کو ہوٹلوں، ہوسٹلوں، گیسٹ ہائسز، کرایہ کے گھروں سے نکالا دیا گیا ہے۔ کشمیریوں پر بغاوت اور غداری کے مقدمے قائم کئے جا رہے ہیں۔ انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی ادارے کشمیری طلباء و طالبات کو یونیورسٹیو،ں کالجوں اور ہوسٹلوں سے نکال رہے ہیں۔ سیکڑوں طلباء واپس وادی پہنچ گئے ہیں۔ لا تعداد کو ٹرینوں اور کوچوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جموں میں کرفیو کے باوجود کشمیریوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ یہ سب فورسز کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ فورسز کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو بارود اور بندوق ، پیلٹ سے شہید اور معذور اندھا کرتے ہیں مگر جموں میں انہیں فورسز نے مسلمانوں کی املاک کو تباہ کرنے والے ہندومظاہرین پر ایک گولی، لاٹھی، ٹیئر گس شیل ، پیلٹ فائر نہیں کیا۔ آج پورا انڈیا اور اس کے شدت پسند نہتے کشمیریوں کو چن چن کر تشانہ بنا رہے ہیں اور کشمیریوں سے امن اور دوستی کی امید رکھتے ہیں۔ کشمیریوں کی حمایت کرنے پر پاکستان بھی ان کے نشانے پر ہے۔ امن پسند دنیا نے اس صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا تو جموں اور بھارت میں کشمیریوں اور مسلمانوں کی منظم نسل کشی تیز ہو سکتی ہے جس سے کشمیر میں تشدد تشویشناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 163 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 468 Articles with 146220 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: