محمدبن سلمان کا شاندار استقبال اور تاریخی معاہدے

(Umar Farooq, )

سعودی ولی عہدمحمدبن سلمان کے تاریخی دورہ پرپوری پاکستانی قوم خوشی سے جھوم اٹھی ہے ،قوم کاہرفردخوشی سے نہال ہے ،محمدبن سلمان کاجس طرح شانداراورتاریخی استقبال کیاگیاہے اس کی مثال نہیں ملتی ،سعودی ولی عہد کا طیارہ شاہی وی آئی پی بوئنگ 747 جمبو جیٹ جب پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے اسے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ پاک فضائیہ کے طیارے مہمان کے طیارے کے دائیں اور بائیں جانب فار میشن میں پرواز کرتے ہوئے انھیں راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس پر لائے۔اپریل 2017 میں ولی عہد کا درجہ ملنے کے بعد یہ محمد بن سلمان اپنے پہلے دورے پرجب نورخان ائیربیس پرپہنچے تووزیراعظم عمران خان ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ،کابینہ اراکین نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر بچوں نے سعودی ولی عہد کو پھول پیش کیے۔ بعد ازاں محمد بن سلمان کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی ، محمد بن سلمان کو 3 لئیرز باکس سیکیورٹی فراہم کی گئی راولپنڈی نور خان ائیربیس سے وزیراعظم ہاؤس تک باکس سیکیورٹی مشترکہ طور پر کمانڈ پاک فوج اور شاہی گارڈز کے سپرد تھی، فضائی نگرانی کے ساتھ ساتھ بلند عمارتوں پر اہلکار تعینات کیے گئے تھے،ولی عہد کی آمد کے موقع پر شاہی مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے جڑواں شہروں میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جگہ جگہ تہنیتی بل بورڈز آویزاں تھے جبکہ وی وی آئی پی روٹ پر پاکستانی اور سعودی پرچموں کی بہار تھی۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت پر شہزادہ محمد بن سلمان کا بڑا پورٹریٹ نصب کیا گیا تھا۔ جس کی لمبائی 120 فٹ اور چوڑائی 45 فٹ تھی۔ پورٹریٹ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ذاتی خرچے سے تیار کروایا تھا۔سعودی ولی عہد کی آمد سے قبل سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اسلام آباد پہنچے، ان کا استقبال وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا۔ سعودی وزیر خارجہ سے قبل شاہی ڈاکٹرز، سیکیورٹی اور دیگر عملے پر مشتمل 221 افراد پہلے ہی پاکستان آچکے تھے ۔

،وزیراعظم عمران خان نے گاڑی خود چلا کر سعودی ولی عہد کو وزیراعظم ہاوس پہنچایا ۔وزیراعظم ہاوس میں ولی عہد کے اعزاز میں گارڈ آف آنر دیا گیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اراکین کا تعارف کرایا اور ولی عہد نے بھی اپنی کابینہ کے اراکین سے عمران خان کو متعارف کرایا۔ انہوں نے وزیر اعظم ہاوس کے لان میں یادگاری پودا بھی لگایا۔بعد ازاں وزیراعظم اور ولی عہد کی مشترکہ صدارت میں سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔کونسل کا مقصد دو طرفہ تعاون کے کلیدی شعبوں میں تیز تر فیصلوں اور ان پر عملدرآمدکی بغور نگرانی کیلئے اعلی سطح کا ادارہ جاتی نظام وضع کرنا تھا۔کونسل کے تحت مخصوص شعبہ جات میں تعاون کا فریم ورک وضع کرنے اور متعلقہ وزراکو سفارشات پیش کرنے کیلئے وزارتی اور سینئر حکام کی سطحوں پرا سٹیرنگ کمیٹی اور جائنٹ ورکنگ گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں سپریم کونسل کا اجلاس ریاض اور اسلام آباد میں باری باری سالانہ بنیاد پر منعقد ہوگا۔

وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے 20ارب ڈالرز (تقریبا28کھرب روپے )مالیت کے 7 معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط کئے گئے،سب سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسٹینڈرڈائزیشن کے حوالے سے معاہدے پر سعودی وزیر ڈاکٹرماجدالقاسمی کے ساتھ دستخط کیے جس کے بعد کھیلوں کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے دستخط کئے ۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور وزیرخزانہ اسد عمر نے سعودی فنڈ ترقیات اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے۔ریفائنری اور پیٹروکیمیل میں تعاون معدنی وسائل کی ترقی کے حوالے سے مفاہمتی یاد داشت پر سعودی وزیر خالد الفالح اور وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے دستخط کیے.خالد الفالح اور وزیر توانائی عمر ایوب کے درمیان مفاہمتی یاد داشت پر دستخط ہوئے.

حکومت کی طرف سے ولی عہدکی آمدکے موقع پراپوزیشن جماعتوں کوشرکت کی دعوت نہ دے کرکم ظرفی کاثبوت دیااس کے باوجود تمام اپوزیشن جماعتوں نے ولی عہدکے دورے کاخیرمقدم کیاوزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہدنے باہمی تعاون کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسی تعاون کو جاری رکھیں گے، بالخصوص پاکستان کا عظیم قیادت کے ساتھ بہترین مستقبل ہے۔ محمد بن سلمان نے کہا کہ 'گزشتہ برس پاکستان کی ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) 5 فیصد سے زائد تھی۔ ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آج مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کردیا، پہلے مرحلے میں سعودی سرمایہ کاری کی مالیت 20 ارب ڈالر کی ہے اور پہلے مرحلے کے لیے یہ بہت بڑی رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے مہینے اور سال کے ساتھ سعودی سرمایہ کاری میں بڑے اعداد و شمار کے ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگی۔سعودی ولی عہد نے کہا کہ اس وقت ایک کروڑ 80 لاکھ سیاح سعودی عرب کا دورہ کر سکتے ہیں جبکہ ریاض کے پاس 5 کروڑ سیاحوں کو ملک میں داخلہ دینے کی صلاحیت موجود ہے۔آئندہ 15 سے زائد برسوں میں سعودی عرب کا ہدف 10 کروڑ سیاحوں کے دوروں کا ہے جو ہمارے لیے بہت آسان ہے کیونکہ سعودی عرب میں تاریخی ورثہ، قدرتی مناظر، عظیم لوگ، انفراسٹرکچر اور استحکام سمیت سب کچھ ہے اور اس حوالے سے سرمایہ کاری کے لیے مالی ذرائع اور مواقع بھی ہیں۔محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے امور پر کام کریں گے اور ہمیں یقین ہے کہ دونوں ممالک اس خطے کو شاندار مستقبل دیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے خطے(مشرق وسطی)پر یقین رکھتے ہیں اس لیے یہاں سرمایہ کررہے ہیں اور ایک دن عظیم مشرق وسطی بنے گا اور اس کے مشرق میں پاکستان ہوگا۔

عشائیے سے قبل وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے آج عظیم دن ہے، سعودی عرب ہمیشہ سے ہمارا دوست رہا ہے، اس نے ہمیشہ پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے اس لیے اسلام آباد ہمیشہ سعودی عرب کی قدر کرتا ہے۔ اب پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو نئے سطح پر لے کر جارہے ہیں جہاں سرمایہ کاری کے معاہدے دونوں ممالک کے لیے سود مند ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کو پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک)سے ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک تاب ناک مستقبل ہے جہاں سعودی عرب ہمارا شراکت دار ہے، انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگلے 10 برسوں میں پاکستان کی جی ڈی پی مزید بڑھے گی۔قبل ازیں عمران خان نے ولی عہد سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستانی حجاج کرام کو پاکستان میں امیگریشن کی سہولت فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ 3 ہزار پاکستانی معمولی جرائم کے باعث سعودی جیلوں میں قید ہیں، وہ غریب ہیں اور ان کے بچے اور اہل خانہ یہاں پاکستان میں انتہائی پریشان ہیں، میری سعودی عرب سے خصوصی درخواست ہے کہ وہ ان مقید پاکستانیوں کو اپنے لوگوں کی طرح سمجھیں کیونکہ ہم سعودیوں کو اپنا سمجھتے ہیں اور اسی طرح آپ بھی انہیں اپنا سمجھیں۔جس پر شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ میں آپ کو انکار نہیں کرسکتے اس حوالے سے جو ممکن ہوا کروں گا۔ ہم سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کیلئے ہرطرح کی ممکنہ سہولیات فراہم کرینگے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 110 Print Article Print
About the Author: Umar Farooq

Read More Articles by Umar Farooq: 47 Articles with 13423 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: