کیا پاکستان کی بے مثال سفارت کاری سے بھارت خائف ہے ؟؟

(Idrees Jaami, )

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلو امہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز پر خود کش حملہ کے بعد وزیر اعظم مودی نے حسب معمول اپنی تمام تر انتظامی اور سیکیورٹی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا اور بغیر کسی تحقیقی ثبوت کے خود کش حملے کا زمہ دار پاکستان کو قرار دے دیا ہے ۔ مودی نے دھمکی دیتے وئے الزام لگایا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے پڑوسی ملک نے بڑی غلطی کی ہے جس کی انہیں کڑی سزا بھگتنی ہوگی ۔ بھارتی حکمراں جماعت سمیت تمام اہم سیاسی جماعتیں یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف عوامی جذبات کو ابھار کر پاکستان پر الزام اور تنقید کرکے وہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرسکتے ہیں ۔ پاکستان دشمنی اب بھی بھارت میں انتخابی نعرہ کے طور پر استعمال کی جارہی ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان کی نئی حکومت نے پاک بھارت تعلقات کی نئی شروعات کی طر ف قدم بڑھاتے ہوئے سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک گرد وارہ دربار صاحب کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بھارت سے کئی قدم آگے بڑھ کر راہ داری منصوبہ کھولنے پر کام جاری رکھا ہوا ہے ۔ پوری دنیا نے پاکستان کے اس اقدام کو مثبت اور خوش آئند قرار دیا لیکن بھارت کی طرف سے ہمیشہ کی طرح غیر مثبت جواب ہی سامنے آیا کیونکہ پاکستان مخالف بیانات پر سیاست کرنا مودی جی کا وطیرہ رہا ہے ۔ مودی سرکار کا ڈرامہ خود بھارت نواز ، فاروق عبداﷲ نے یہ کہتے ہوئے بے نقاب کردیا کہ پاکستان کو الزام نہ دیں ، یہ سب مقامی نوجوان کررہے ہیں جو بھارتی مظالم سے تنگ آگئے ہیں ۔ فاروق عبداﷲ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی ہیں وہ کہتے ہیں جب تک بات چیت کا راستہ اختیار نہیں کیا جاتا تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔

ضلع پلوامہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے اور پاکستان سعودی عرب کے درمیان 20ارب ڈالر کے معاہدے متوقع ہیں جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری آئے گی ۔ اس وقت حملہ کی منصوبہ بندی کرنا امن عدم استحکام پیدا کرنا ایک منظم سوچی سمجھی سازش کے سوا کچھ نہیں ۔ مزید بھارت کی بوکھلاہٹ کی وجہ سے یہ بھی ہے کہ پاکستان کی افغان امن مذاکرات میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بھارت کی مودی سرکار خائف ہے ۔ بھارت نواز افغان صدر اشرف غنی کی روز بروز گرتی ہوئی مقبولیت بھی بھارت کے لیے پریشانی سے کم نہیں کیونکہ بھارت کے افغان کٹھ پتلی حکومت سے مثالی تعلقات قائم ہیں ۔ کابل میں قائم بھارتی سفارتخانہ پاکستان کے خلاف فعال کردار ادا کرتا آرہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان کے فوجی افسران کو تربیت دی جارہی ہے ۔ طالبان کے خاتمے کے لیے مالی اور عسکری مدد کی جارہی تھی اور افغانستان کے راستے سے پاکستان میں دراندازی بھی کی جارہی تھی ۔ اس سے قبل حامد کرزئی افغانستان کے عبوری صدر بنے اور پھر 2004میں صدر منتخب ہوئے وہ تقریبا ً دس سال تک اقتدار میں رہے ان کے دور میں بھارت اور افغانستان کے درمیان مثالی تعلقات قائم رہے جبکہ دوسری طرف افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب سے خراب تر ہوتے گئے بلکہ پاکستان سمیت خطے کا امن روز بروز بگڑتا ہی چلا گیا ۔ بھارت افغان گٹھ جوڑ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کا افغان امن مذاکرات میں امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات پر بھارت اور افغان حکومت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے بھارت کا موقف ہے کہ افغانستان میں اس نے بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے لیکن اس پورے مذاکراتی عمل میں بھارت کو الگ رکھنا اور اعتماد میں نہ لینا خدشات اور تحفظات کو جنم دیتا ہے جبکہ افغان صدر اس بات سے نالاں ہیں کہ طالبان کے ساتھ جتنے بھی دور ہوئے ہیں انکا کوئی نمائندہ مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت خوف زدہ ہے کہ اگر طالبان امریکہ سے اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوگئے تو اسکی افغانستان میں سرمایہ کاری کو کئی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور جس طرح پاکستان ایک مرکزی کردار ادا کررہا ہے ۔ مستقبل میں وہ افغانستان کی سرزمین کو بھارت کے خلاف استعمال کرسکتا ہے ۔ بعض ذرائع ابلاغ انکشاف کررہے ہیں کہ طالبان نے کچھ ایسی شرائط اور مطالبات رکھے ہیں جن پر امریکی انتظامیہ تذبذب کا شکار ہے شرائط میں افغان حکومت کا خاتمہ ، اکثریتی صوبوں میں طالبان کے حمایت یافتہ گورنروں کا تقرر ، صدر یا چیف ایگزیکٹیو دونوں میں سے ایک طالبان کا ہوگا ، امریکی تحقیقاتی ادارے یو ایس انسٹیوٹ آف پیس سے منسلک جانی والش کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں کیونکہ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اس سے قبل ماہ جنوری میں سالانہ نیوز کا نفرنس میں بھارتی جنرل بپن راوت کو کہنا پڑا اگر افغانستان میں بھارت کی دلچسپی ہے ، اور یقینا ہے تو وہ افغانستان امن مذاکرات سے الگ نہیں رہ سکتا ہمیں کسی طرح سے اس مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے ، بھارت یہ جاننا چاہتا ہے کہ با ت چیت میں کیا ہورہا ہے ، اور جب تک آ پ مذاکراتی میز پر نہیں ہوں گے ، آپ نہیں جان سکتے کہ کیا ہورہا ہے ۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ بھارت اور بھارتی جرنیل اپنی اس خواہش کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں بھارت مودی سرکار کو علم ہونا چاہیے کہ افغان امن مذاکرات سے بھارتی بے دخلی کی شرط پاکستان کی نہیں بلکہ طالبان کی تھی کیونکہ طالبان کے نزدیک افغان صدر اشرف غنی سے زیادہ بھیانک کردار بھارت کا ہے ۔ طالبان تو افغان حکومت کو ہی تسلیم نہیں کرتے ۔ ان سے باوجود امریکی دباؤ کے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں تو مذاکراتی عمل میں بھارتی شمولیت کو کیسے شرف قبولیت بخشیں گے کیونکہ بھارت تو ان کے نزدیک کابل حکومت سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 328 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Idrees Jaami

Read More Articles by Idrees Jaami: 21 Articles with 4153 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: