بنگلا دیش ڈکٹیٹرشپ کی جانب گامزن

(Sami Ullah Malik, )

20 دسمبر2018ء کو بنگلا دیش میں 11 ویں قومی انتخابات منعقد ہوئے۔ متنازع انتخابی نتائج کے مطابق شیخ حسینہ کی حکمراں جماعت ’’عوامی لیگ‘‘نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس جماعت نے300میں سے288 نشستیں اور 90 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ حزبِ اختلاف کی جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی نے محض7 نشستیں حاصل کیں۔انتخابی نتائج نے عوامی لیگ کے مسلسل تیسرے دورحکومت کویقینی بنادیا،انتخابی نتائج کے اعلان کے فوری بعد ہی بین الاقوامی اورمقامی تجزیہ کاروں نے انتخابات کوغیرمنصفانہ قراردیا۔انتخابات کے دوران ووٹروں کودھمکانے کے الزامات بڑے پیمانے پرعائدکیے گئے۔
بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن نے شیخ حسینہ واجد کوفاتح قراردے دیاہے تاہم حزب اختلاف نے انتخابات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور ساتھ ہی نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔تاہم بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے دیکھا کہ ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی بیلٹ بکس بھرکرپولنگ سٹیشنوں میں لائے جارہے ہیں۔حزبِ اختلاف کے رہنماکمال حسین نے کہا:ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان مضحکہ خیز نتائج کوفوری طورپر کالعدم قراردے۔ہم ایک غیر جانبدار حکومت کے زیرِ اہتمام نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس نے ملک بھر سے دھاندلی کے الزامات سنے ہیں اور وہ ان کی تحقیقات کرے گالیکن انتخابات کومہینہ بھرسے زائدہوگیالیکن ابھی تک الیکشن کمیشن نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

پولنگ کے دوران پر تشدد واقعات میں آخری اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 17ہو گئی ہے جبکہ ان واقعات میں کئی درجن پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلا دیش نیشنل پارٹی کے ایک مرکزی امیدوار کو چاقوں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا تھا۔رائٹرز نے پولیس حکام سے بات کر کے خبر دی کہ حزب اختلاف کے امیداور صلاح الدین احمد پر حملے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ رائٹرز نے اپنے نامہ نگاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ان انتخابات میں پولنگ کا تناسب کم رہنے کا ریکارڈقائم ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان حالات میں انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی کامیابی کے قوی امکانات کی پشین گوئی پہلے ہی کردی گئی تھی۔انتخابات کے دوران بظاہرتشدد کے خدشات کے پیش نظر ملک گیر پیمانے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور تقریبا چھ لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے طول و عرض میں تعینات کیاگیا تھالیکن غیرجانبدارمیڈیانے اس سارے انتظام کوایک بہت بڑی سیاسی وانتظامی چال قراردیتے ہوئے خودحسینہ واجدکے انتخابات میں درپردہ دھاندلی کاشاخسانہ قراردیاہے ۔
عوامی لیگ نے متوقع طورپرانتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات مستردکردیے۔ان کاکہناتھاکہ ہماری شاندارفتح کے بعد حزب اختلاف کے پاس الزامات لگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ حسینہ واجد کی حکومت نے دعویٰ کیاکہ گزشتہ دورحکومت میں شاندارکارکردگی کی وجہ سے ہی زبردست انتخابی فتح حاصل ہوئی،جبکہ حکمراں جماعت کے رہنماؤں نے انتخابات میں تشدد کا ذمہ دار حزب اختلاف کوقرار دیا۔بنگلا دیش میں جمہوریت کاخاتمہ اہمیت رکھتاہے۔ بنگلا دیش اگرچہ بھارت کے مقابلے میں بہت چھوٹاہے لیکن پھربھی آبادی کے لحاظ سے اس کا شماردنیا کے آٹھ بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔بنیادی طورپرملک کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے،دنیابھرکے مسلمانوں کا 10 فیصد یہاں رہائش پذیرہے۔یہ ملک1971ء میں’’سیکولرجمہوریہ‘‘ کے طورپرقائم کیاگیا پھر فوجی اورجمہوری حکومتوں کی غلط اقداما ت کی وجہ سے مذہبی ملک میں تبدیل ہوتاچلاگیا۔ مذہبی رہنماؤں نے آبادی کے اہم حصے کواپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی۔2010ء میں سپریم کور ٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے’’سیکولرازم‘‘کو ملک کے آئین کے اہم ترین جز کے طورپربحال کردیا، تاہم پھربھی اسلام کوسرکاری مذہب کادرجہ دیاگیا۔ یہ فیصلہ ضروری تھا کیوںکہ ضیاء الرحمٰن اور محمد ارشاد کی فوجی حکومت کے دورمیں آئین سے سیکولرازم کوختم کردیاگیا تھا۔

گزشتہ دہائیوں کے اثرات کی وجہ سے ملک میں کئی اسلامی انتہاپسند تنظیموں نے جنم لیاجس میں ’’جماعت المجاہدین بنگلا دیش‘‘،’’حرکت الجہاد الاسلامی‘‘اور’’شہادت الحکما‘‘شامل ہیں، اس طرح کے انتہاپسند عناصرآزادی کے بعدسے ہی بنگلا دیش کے سیاسی کلچرکاحصہ رہے ہیں۔ بنگلا دیش کی آبادی کاکچھ حصہ مذہبی وجوہات کے بنا پرپاکستان سے علیحدگی کامخالف رہا۔ یہ طبقہ سیاست کے مرکزی دھارے میں کبھی جگہ نہیں بناسکا،اس کوملک کاسیکولرآئین بھی پسند نہیں تھا۔

گزشتہ کچھ عرصے میں1971ء میں پاکستانی فوج کاساتھ دینے والوں کوپھانسی دی گئی،اس بحران نے بھی مذہب پسندوں کومزید متحرک کردیا۔مذہبی تنظیموں کے ابھرنے میں سعودی عرب سے آنے والے پیسے اورنظریات کابھی اہم کردارہے،جس کی وجہ سے مسجدوں اورمدرسوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیااورمزیدمذہبی رہنماؤں نے جنم لیا۔خلیجی ممالک سے واپس آنے والے بنگلا دیشیوں کے مذہب پسند نظریات نے بھی معاشرے کو متاثر کیا۔

اسلام پسندی کے پھیلاؤ میں ملک میں سیکولر حکومت کی بدعنوانی اور گندی سیاست کے خلاف جذبات نے بھی اہم کرداراداکیا۔لوگوں کا خیال تھا کہ مذہبی جماعتیں زیادہ ایمان دارثابت ہو سکتی ہیں اوریہ سچ بھی ثابت ہوا۔ان میں کچھ تنظیموں پرمحض اس شک کی بناء پرپابندی عائد کردی گئی کہ یہ تنظیمیں اقلیتوں،ملحدوں، سیاسی مخالفین اورخاص طور پر ملک میں کم ہوتی ہندو آبادی کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ یہ حسینہ واجدکے مربی ہندووں کاپروپیگنڈہ کے سواکچھ بھی نہیں۔

2016ء میں جماعت المجاہدین نے ڈھاکا میں ایک بیکری پربڑادہشتگرد حملہ کیا،ملک اورحکمراں جماعت کی سیکیورٹی کیلئے بڑاخطرہ بننے کے باوجودسیاسی نقصان کے پیش نظرعوامی لیگ نے مذہبی گروہوں کے خاتمے کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں بنائی۔ انہوں نے اپنے مذہبی ووٹ بینک کوترجیح دی،حکومت نے انتہاپسندوں کا شکاربننے والے افرادکے تحفظ کیلئے بھی کم ہی دلچسپی دکھائی۔ گزشتہ برسوں کے دوران کئی سیکولرکارکنان اوربلاگرقتل کردئیے گئے۔2016ء میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے دوافرادکوڈھاکامیں گھرمیں گھس کرقتل کر دیاگیا۔فروری2015ء میں بنگلا دیشی امریکی بلاگراوجیت کوڈھاکا میں بیچ سڑک پرتیزدھارآلے کے ذریعے قتل کردیاگیااوراس کی بیوی شدیدزخمی ہوگئی۔یہ صرف دارالحکومت میں ہوئے واقعات کا ذکرہے۔

سہلٹ میں2015ء میں ایک اورسیکولربلاگر’’آننت رائے‘‘کوقتل کردیاگیا،ان میں سے کسی کے بھی قاتل کوگرفتارنہیں کیاجاسکااورنہ ہی ان پرکوئی مقدمہ چلایا جاسکا۔ بدترین صورتحال یہ تھی کہ انتخابی مہم کے آخری ہفتے بھی حزب اختلاف کودھمکانے کی مہم اپنے عروج پر تھی اوردیگر اقدامات سے حکومت کاآمرانہ رویہ ظاہرہورہا تھا۔

فروری 2018ء میں اپوزیشن جماعت بی این پی کی رہنما خالدہ ضیاء کو دھوکا دہی کے مقدمے میں جیل بھیج دیاگیا،خالدہ ضیاکے سیاسی منظرنامے سے ہٹ جانے سے بی این پی کوانتخابات میں نقصان ہوا۔بی این پی دیگراپوزیشن جماعتوں کے ساتھ’’ جیٹیا اوکیا فرنٹ‘‘کاحصہ تھی،یہ اتحاد حکومت سے اجازت نہ ملنے پر انتخابات کے دوران سیاسی ریلیوں کاانعقاد بھی نہیں کرسکا۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے بھی حالات سے سمجھوتا کرلیاتھا۔

چیف الیکشن کمشنراوران کے ماتحت عملے کے درمیان انتخابات کی شفافیت پراختلافات عوام کے سامنے آگئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے عملے نے الیکٹرانکس ووٹر مشین کے استعمال پر اختلاف کیا اورکمیشن کے کئی اجلاسوں کابائیکاٹ کیا،انہوں نے متعددباراختلافی نوٹ بھی جمع کرائے۔حکومت کی حزب اختلاف کے ساتھ دشمنی صرف اس جمہوری عمل کے دوران نہیں تھی۔ انتخابات سے قبل بھی حکومت نے عوامی اختلاف رائے کودبانے کیلئے طاقت کااستعمال کیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال فوٹوگرافر اورسیاسی کارکن شاہد العام کواحتجاجی طالب علموں کی حمایت کرنے پرجیل بھیجنے کا فیصلہ ہے، طالبعلم ڈھاکہ میں بس حادثے میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ شاہدکوانفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ایکٹ2013ء کے کالے قانون کے تحت گرفتارکیا گیا ،اس ایکٹ میں بغیروارنٹ گرفتاری کی اجازت ہے اورضمانت پرپابندی۔ جب کہ اس ایکٹ کے تحت سزایافتہ افراد کے قید کی مدت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔آخرکار شاہد کو بلاجواز100 دن قید کاٹنے کے بعد نومبر 2018ء میں رہا کردیاگیا۔ شاہد کی رہائی کیلئے طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پرآوازبلند کی گئی، لیکن اب بھی سزا کی صورت میں شاہد کو14 سال قید بھگتنی پڑسکتی ہے۔

عوامی لیگ کی متنازعہ انتخابی فتح بنگلا دیش کیلئے بری خبر ہے۔ اس سے جمہوری چہرے والے آمرانہ سیاسی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی، لیکن پڑوسیوں سمیت دیگر ممالک کیلئے اس کے نتائج اہم ہوں گے۔ اس سے آمرانہ رویہ رکھنے والے مقبول رہنماؤں کو آسانی ہوگی۔ یہ رہنمامعاشی ترقی اوربہترانتظامی ماڈل دینے کے بدلے جمہوری آزادی کم کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔اس سے اسلامی دنیا میں جمہوریت کے پنپنے کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

چین اور بھارت کی جانب سے جمہوریت کی بحالی کیلئے اقدامات کیے جانے کے امکانات نہیں۔ بیجنگ ماضی کی طرح اب بھی ملک میں اپنے سفارتی اور معاشی اثرات کو بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔ وہ بنگلا دیش کی اندرونی سیاست کے حوالے سے کوئی بھی تکلیف دہ سوال نہیں اٹھائے گاکیوںکہ چین کوجمہوریت کے فروغ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مودی نے بنگلا دیش میں جاری انتخابی عمل پرتنقید تک کرناگوارانہیں کیابلکہ وہ توحسینہ واجد کوانتخابی کامیابی پر مبارکباد دینے والے چند ابتدائی عالمی رہنماؤں میں شامل تھے۔

بنگلا دیش میں بھارت کیلئے چین کے بڑھتے اثرات کو روکنا اورانتہاپسندی پر قابو پانے کیلئے تعاون حاصل کرنا اہم ہے۔ جنوبی ایشیا کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی ساری توجہ افغانستان میں مستقبل کے امریکی کردار تک محدود ہے۔ بنگلا دیش اور اس خطے میں ہونے والی سیاسی پیش رفت پر ٹرمپ انتظامیہ نے کم ہی توجہ د ی ہے۔ اس لیے ان انتخابات کے حوالے سے واشنگٹن کی جانب سے اقدامات کیے جانے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں جمہوریت خطرات میں گھری ہوئی ہے، ایسے میں بنگلا دیش کی حکومت کا انتہائی متازع انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آنا پورے خطے کو شدید متاثر کرے گا۔ اس سے پاکستان، سری لنکا اور بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیا میں ریاستی جبر میں اضافہ ہوگا۔ اس خطے میں جمہوریت پہلے ہی عدم استحکام کاشکار ہے۔ بڑھتی ہوئی آمریت بنگلا دیش میں بڑے سیاسی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہےکیوںکہ اختلاف کرنے کے جائز راستوں کوتیزی سے بند کیاجارہا ہے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 213 Print Article Print
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 266 Articles with 59425 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: