ہوش کے ناخن

(Shafiq Malik, Chakwal)

 لیڈرو ں کے لیڈر،ولیوں کے ولی اور راہنماؤں کے راہنما اﷲ کے آخری رسول ﷺ نے فرمایا کہ کبھی بھی اپنے دشمن سے ٹکرانے کی تمنا نہ کرنا اور اﷲ سے عافیت مانگتے رہو البتہ اگر تم پر جنگ مسلط کر دی جائے تو پھر استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہر کرنا اور پیٹھ نہ دکھانا یاد رکھنا جنت تلواروں کے سائے میں ہے،گذشتہ ڈیڑھ ہفتے سے برصغیر پاک وہند کے جو حالات بنے ہوئے ہیں اس کو اگر غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک اوسط عقل رکھنے والا شخص بھی سمجھ اور پرکھ سکتا ہے حالات کو اس نہج تک پہنچانے میں نوے فی صد ہاتھ کس ملک اور قوم کا ہے،سنا تھا کہ اپنے ذاتی مفاد اور الیکشن جیتنے کے لیے تیسری دنیا کے حکمران سفاکی کی آخری حد تک کراس کر جاتے ہیں مگر یہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی حکمران الیکشن جیتنے کے لیے اپنی فورس کے جوانوں کی بلی بھی دے سکتا ہے اور اس کے بعد بد کردار جوان بیوہ کی طرح بال کھول کر گلی میں نکل کر ہمسائے کو اپنے خاوند کے قتل کا ذمہ دار ٹھرانا شروع کر دیتا ہے،پلوامہ حملے کے بعد یہی کچھ بھارت سرکار نے شروع کر رکھا ہے ،اسے پتہ ہی نہیں کہ اس کے پڑوس میں وہ لوگ رہتے ہیں جن کا ماننا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، جن کے آقا و مولا ﷺ نے بے گناہ لوگ تو کیا جانوروں اور درختوں کے بھی قتل عام سے منع فرمایا ہے،اور زندہ انسان تو درکنار ہمیں تو مردے کی بھی حرمت کا سبق دیا گیا ہے جو لوگ ایک ڈیڈ باڈی کی بے حرمتی نہیں کر سکتے ان سے کیسے یہ توقع کر لی گئی کہ وہ چالیس پچاس خاندان اجاڑ دیں گے، پہلا ہی حملہ ہے جس نے بھارت کو باؤلا کر دیا ہے اسے علم ہونا چاہیے پاکستان جس بھیانک اور کربنا ک دہشت گردی کے دور سے گذرا اس میں اس کے اپنوں کے ساتھ انڈین سرکار کا بھی بہت بڑا حصہ ہے ،تاہم وہ یہ بھول گیا کہ جو فوج چھپے دشمن کو دنوں مہینوں میں صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے وہ سامنے نظر آنیولاے کا کیا حال کر ے گی عملی نمونہ تو دیکھ ہی لیا ہو گا ،آپ پر ایک خود کش حملہ ہو ا تو آپ آپے میں نہیں رہے ہمیں دیکھیے آپ جیسے پڑوسیوں کی وجہ سے ہماری قوم نے کیا کیا دکھ اور عذاب نہی جھیلے ہمارا کوئی بازار محفوظ تھا نہ ہسپتال، عدالتوں بارز اور فوجی میس تک میں خود کش دھماے ہوئے مگر ہم نے کاروائی فقط ذمہ داروں تک محدود رکھی،اگر کسی کو یاد ہو تو یہ وہی مودی سرکار ہیں نے جو انڈین گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اس وقت بھی جناب نے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے خون رنگے تھے،مگر اب کی بار شاید بھول گئے وہ انڈین نہتے اور کمزور مسلمان تھے ،درندے کے منہ کو جب ایک بار خون لگ جاتا ہے تو عموما اس وقت تک اسے چین نہیں آٹا جب تک وہ دوسرے کسی انسان کو نگل نہیں لیتا اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک اسے گولی نہیں ما ر دی جاتی ،مودی کے منہ کو بھی گجرات سے خون لگا ہوا تھا جس کے لیے اس نے نئے شکار کی تلاش میں پاکستان کی طرف منہ کرنے کی غلطی کر لی مگر درندہ صاحب کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ادھر وہ لوگ رہتے ہیں جن کا بچہ بچہ شہادت کی تمنا رکھتا اور غزوہ ہند کا منتظر ہے ،ادھر کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو موت سے ڈر رہا ہو اور خصوصا مودی کی دھمکیوں تو کسی نے گلی محلے میں پھرتے آواراہ گرد کتے جتنی بھی اہمیت نہیں دی، پوری قوم چٹان کی طرح اپنی فوج کے پیچھے کھڑی نظر آئی ،حیرت کی بات یہ کہ مودی سرکار کی طر ف لوگ بہانے کر کے فوج سے چھٹی لیکر بھاگنے کے چکر میں تھے اور ادھر بوڑھے اور ریٹائرڈ فوجیوں کے علاوہ عام افراد بھی منتیں کر کے کہ جناب آرمی چیف صاحب میں شکاری ہوں میں تیز دوڑتا ہوں میں اچھا ڈرائیور ہوں میں اچھا باکسر ہوں میں اچھا کک ہوں میں اچھا اتھلیٹ ہوں میں اچھا گارڈ ہوں میں اچھا ڈاکٹر ہوں،میرے ابا جی آرمی میں تھے،میں نے کالج میں این سی سی کی ٹریننگ لی تھی مجھے پاک آرمی اپنے ساتھ لڑائی میں شامل کریں ،ہر کوئی اسی جذبے سے سرشار کہ اور کچھ نہ ہو سکا تو اپنے جوانوں کی خدمت ہی کر لیں گے،وہاں صرف عوام لڑنا چاپتی ہے مگر فوج لڑائی سے دور بھاگتی ہے یہاں پوری قوم ہی فوج ہے اور آپ کو ایک خوشگوار اور شاندار حیرت ہوئی ہو گی کہ اس مسئلے پر یہ قوم متحد و متفق ہے دنیا کی کوئی طاقت شاید پی ٹی آئی ،پی پی پی ا ور ن لیگ کو کسی ایک نقطے پر متحد نہ کر سکتی مگر اس ایشو پر کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور ایک دم سے سب نے خود بخود ہی لبیک کہہ دیاہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کو تیار ہے ،ایسی قوم سے مودی جیسا ڈرپوک انسان کیا مقابلہ کرے گا جس کی پوری قوم میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے میڈیا باؤلا ہوا پھرتا ہے جبکہ اپنے ہاں کسی کو رتی برابر پرواہ نہیں،ادھر ساری قوم پی ایس ایل اور روز مرہ حیات کی مصروفیات میں گم ہے وجہ صاف طاہر ہے کہ اﷲ کی مدد و نصرت کے بعد قوم کو اپنی فوج پر مکمل اعتماد ہے جو ان کے دفاع کے لیے ہر دم تیار ہے ایسا ہی اعتماد افواج کو اپنی قوم پر ہے کہ یہ قوم بھی ان کے شانہ بشانہ ہے ایک بار پھر فوجی گاڑیوں کو گذرتے اور جگہ جگہ ان پر گل پاشی کے مناظر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں جو اپنے جوانوں سے محبت کا واضح اظہار ہے ایک طرف کی مائیں حکومت کو گالیاں دے رہی ہیں کہ ہمارے بچوں کو کیوں مروا رہے ہو جبکہ دوسری طرف کی مائیں حکومت کو آفر کر رہی ہیں ہ میرا ایک بیٹا گھر میں ویلا ہے اسے بھی محاذ ہر بھیجو ایسی قوم سے مودی کیا دنیا کی کوئی بھی طاغوتی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنگ تباہی ہے بربادی ہے اور ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ ایسی نوبت نہ آئے مگر دوسری طرف بنیا سرکار جس مکاری اور عیاری سے ناکام چالیں چل رہا ہے وہ خدا نخواسطہ کہیں دونوں ملکوں کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہ لے جائیں اگر ایسا ہوا تو بھی نقصان سراسر انہی کا ہے مسلمان دنیا میں اور بہت ہیں مگر ہندو صرف ہندوستان میں ہی ہیں کم از کم دنیا سے ایک برائی تو ختم ہو جائے گی اسی بہانے،دو دن قبل انڈیا نے جو پلاننگ کر لی تھی اور جس کا اظہار وزیر اعظم نے اپنی اسمبلی کی تقریر میں کیا کہ انڈیا ہوائی حملے کی ناکامی کے بعد میزائل حملے کی پلاننگ کر رہاتھا اور انہوں نے پاکستان میں تین جگہوں کو ٹارگٹ کر کے حملے کا پکا اراد ہ کر لیا تھا مگر ادھر سے انڈیا کی بارہ جگہوں کو ٹارگٹ کر کے ان کے گرد سرخ دائرہ لگا کر بھارت سرکار کو ایک بڑے برادر ملک کے ذریعے پیغام دیاگیا کہ ایک شوق پورا کر لیا انڈیا والوں نے جہاز بھیج کر یہ بھی کر دیکھے ہم کسی صورت بھی لحاظ نہیں کریں گے اور ایک میزائل کے جواب میں تین میزائل آئیں گے انہوں نے تین جگہ کو ٹارگٹ کیا تو ہم بارہ جگہوں کو ٹارگٹ کریں گے ایک کا جواب تین کی شرح سے دیا جائے گا اور سلسلہ چل پڑا تو جاری رہے گا اور ہوسکتا ہے کہ آخر میں کچھ بھی باقی نہ بچے ،میسنجر نے فورا من و عن یہ پیغام مودی سرکار تک پہنچایا اس پیغام نے ان کی ریڑ ھ ہڈی میں بہتا خون جما دیاسشما شوراج جی کو فوراً ٹی وی پر اعلان کرنا پڑا کہ نہیں نہیں ہم تو اچھے بچے ہیں ہم نے تو کبھی جنگ کا سوچا بھی نہیں نہ سوچیں گے پاکستان ہمارا ہمسایہ ہے ہم اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں جتنا ہو گیا اب بس،یہ فیصلہ دانشماندانہ ہے اسی میں ان کی بہتری بھی ہے ورنہ جن مہلک ہتھیاروں کے یہ دونوں ممالک مالک ہیں ان کاستعمال نہ صرف اس خطے بلکہ باقی دنیا پر بھی وہ بھیانک اثرات چھوڑے گا جس کا کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا،پوری دنیا کو تباہ کرنے کے لیے صرف 44ایٹم بمو ں کی ضروررت ہے صرف پاکستان کے پاس اس سے کئی گنا زیادہ کی تعداد میں یہ موجود ہیں،ایٹم بم وہ تباہی و تباہ کاری ساتھ لاتا ہے کہ نہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ آنے والی نسلیں اور فصلیں بھی تباہ ہو جاتی ہیں،یہ بیماری موت معذوری بھوک افلاس اور قحط سالی کا ایسا بیج بوتا ہے کہ صدیوں جس کی فصل پھل پھول اور انڈے بچے دیتی رہتی ہے،اگر کسی کو بہت ہی شوق ہے تو ویت نام ،پولینڈ،جرمنی یابہتر ہے ایک آدھ چکر جاپان کا لگا کر دیکھ لے کہ جنگیں کیا کیا گل کھلاتی ہیں،دونوں ممالک کو اپنی تمام تر توانائیاں خطے سے غربت جہالت اور امن و خوشحالی کے لیے صرف کرنی چاہییں،کوئی ،بھی ذی شعور شخص کسی بھی صورت جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا نہ ہی کرنی چاہیئے ،جو لوگ جنگ سے دور رہنے کی بات کرتے ہیں ان پر غداری اور منافقت کے فتوے بھی نہیں لگنے چاہیے ، یہی عقل اور دانش کا تقاضا ہے کیوں کہ دنیا کے سب سے بڑے اور عظیم ترین عقلمند انسان کا فرمان ہے کہ ،،،دشمن سے ٹکرانے کی کبھی بھی تمنا نہ کرو اﷲ سے عافیت مانگو البتہ تم پر جنگ مسلط کر دی جائے تو ثابت قدم رہنا یاد رکھنا جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 136 Print Article Print

Reviews & Comments

Language: