سرپرائز کے بعد

(Ilyas Muhammad Hussain, )

بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن کی گرفتاری پر بھارتیوں کی چیخیں نکل گئیں پاک فوج کی جانب سے دشمن کو کرارا جواب دینے پرپاکستان کے طول و عرض میں خوشی کی لہردوڑ گئی جس کا اظہار پاکستان بھریک جہتی کیلئے شہر شہرریلیاں اور جلوس نکالے گئے پاک بھارت حالیہ تنازعہ کے تناظر میں برطانوی میڈیا نے ہوش ربا انکشاف کیا ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا نریندر مودی جنگ کی منصوبہ بندی آٹھ ماہ سے کر رہے تھے، پاکستان کی سرحد کے قریب بھارتی حکومت کی جانب سے 14 ہزار بنکرز کی تعمیر پر کام جاری رہاجو گزشتہ برس جون میں شروع کیا گیا تھا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سرحدی علاقوں میں عوام کیلئے بنکرز کی تیاری پر 6 کروڑ ڈالر خرچ آئے گا۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اسٹیل اور کنکریٹ کے استعمال سے ہزاروں بنکرز بن چکیہیں، جبکہ بعض علاقوں میں کام جاری ہے بھارتی پراپیگنڈا کرنے والوں نے گیمنگ ویڈیو کو ایڈٹ کر کے اسے شیئر کیا، اور غیر ملکی ادارے نے اس کی تمام تفصیلات بھی جاری کردی ہیں۔طے میں امن کا دشمن بھارت پاکستانی سرحد کے قریب بنکرز تعمیر کرنے لگا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق 14 ہزار بنکرز کی تیاری میں 6 کروڑ ڈالر کا خرچہ آئے گا۔۔دوسری جانب پاکستان میں ایسے کسی منصوبے پر کام نہیں ہورہا، تاہم آئے روز بھارت سے بلا اشتعال فائرنگ کے باعث سرحدی علاقے کے لوگوں نے محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔ جبکہ برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں جو بم گرائے گئے وہ بھی اسرائیلی ساختہ تھے، اسرائیل اور بھارت مسلم مخالف اتحادی ہیں۔ حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی)حکومت مسلم مخالف اتحادی ہیں،بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کی سب سے بڑی منڈی بن چکا ہے، برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے بھارتی دعوے کا منہ چڑاتے ہوئے لکھا کہ 300 سے 400 دہشت گرد بعد میں پتھر اور درخت ثابت ہوئے۔انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ جو ہتھیار فلسطین اور شام میں استعمال ہو رہے ہیں، وہی بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ رابرٹ فسک نے کیا کہ بھارت کے 45 کمانڈوز کو اسرائیل میں ٹریننگ دی جاتی ہے بھارت اسرائیل کو صرف اس لیے پسند کرتا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔دوسری جانب اس وقت سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کے زیر حراست پائلٹ کی واپسی بھارت ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا۔اس وقت بھارت یکجان ہو گیا ہے اور بھارت میں ابھے نندن کو واپس لاؤ ٹاپ ٹوئٹر ٹرینڈ بن چکا ہے۔بھارتی وزیر خارج سشما سوراج کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان انڈین ایئرفورس کے تباہ ہونے والے طیارے میگ21 کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو فوری طور پر رہا کرے اور اس کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔وزیرِ اعلی دہلی اروند کجریوال نے ٹوئٹ میں لکھا کہ پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن کی بحفاظت وطن واپسی کے لئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں ہمیں امید ہے ابھے نندن بحفاظت گھر واپس آجائے گا۔ بھارتی قوم اپنے ملک کی سلامتی کے لئے یکجان رہے گی۔ زیادہ تر بھارتی شہریوں نے مودی سرکارکو سخت تنقیدکا نشانہ بنایاہے ایک ٹوئٹر صارف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہم سب ابھے نندن کے ساتھ ہیں۔ایک بھارتی سیاسی پارٹی کے صدر نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی حکومت ابھے نندنن کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔سابق بھارتی کھلاڑی آکاش چوپڑا نے بھی ٹوئٹ میں ابھے نندنن کی واپسی کی امید کی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ بھارتی فنکاربھی بھارتی پائلٹ کی وطن واپسی پر ٹاپ ٹوئٹ ٹرینڈ میں شامل ہو گئے۔سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو کا غیرملکی خبر رساں ادارے نے بھانڈا پھوڑ دیا جس میں کہا جارہا تھا کہ بھارتی لڑاکا طیاروں نے پاکستان کی حدود میں بمباری کی۔بھارتی شہریوں کی جانب سے اس جعلی ویڈیو کو تیزی سے وائرل کیا گیا جس میں ایک گھر پر لڑاکا طیاروں کو بمباری کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے نے ویڈیو کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا یہ بھارتی طیاروں کی بمباری کی ویڈیو نہیں بلکہ آرما ٹو گیم کی ویڈیو ہے جو یوٹیوب گیمنگ چینل 'ڈبل ڈوپلر' پر 5 جولائی 2015 کو جاری کی گئی تھی۔ بھارتی فضائی ،نیوی اور بری فوج کے سربراہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ کو مار گرایا تھا لیکن جب ان کے ہی میڈیا نے سوال پوچھا کہ اس کا ثبوت کیا ہے تو بھارتی ائیر فورس کے سربراہ جواب تو نہ دے سکے لیکن ادھر اْدھر کی باتیں کرتے ہوئے ایک خاص میزائل کا کوئی پرانا پرزہ دکھا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس آپریشن میں استعمال ہونے والا یہ میزائل صرف پاکستان کے ایف سولہ پر ہی لگا یا جا سکتا ہے اس طر ح ہم کہہ سکتے ہیں تباہ ہونے والا طیارہ پاکستان کا ایف سولہ ہی تھا۔بھارتی فوج کا پول اس وقت بھی کھل گیا جب بھارتی صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ بالاکوٹ میں بھارتی فورسز کی طرف سے کیے گئے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا کوئی ثبوت ہے تو اس کے جواب میں ائیر چیف بوکھلا گئے اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے اور یہ کہہ کر میڈیا سے جان چھڑائی کہ ثبوت سے متعلق ملک کی سیاسی قیادت ہی فیصلہ کرے گی کہ کب اور کیسے ان ثبوتوں کو سامنے لانا ہے۔پاک بھارت کشیدگی کی صورتحال میں پہلی بار بھارتی فوج کی جانب سے میڈیا کا سامنا کیا گیا ہے۔ بھارت کی تینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے نئی دلی میں مشترکہ پریس کانفرنس کی لیکن تینوں افواج مل کر بھی پاکستان میں دہشتگردوں کے کیمپ کے ثبوت فراہم نہ کرسکیں۔ تینوں افواج کے نمائندوں نے پہلے سے لکھے ہوئے مختصر بیانات میڈیا کو پڑھ کر سنائے اور فوٹو سیشن کے بعد چلتے بنے۔پریس کانفرنس میں سب سے پہلے ایئر فورس کے نمائندے ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے پہلے سے لکھا ہوا بیان پڑھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 27 فروری 2019 کو صبح 10 بجے انڈین ریڈار نے بڑی تعداد میں پاکستانی طیاروں کو بھارتی حدود میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔انہوں نے الزام دہرایا کہ انڈین ایئر فورس نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا ہے لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ بھارتی ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے تسلیم کیا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف ان کا مگ 21 تباہ کیا ہے بلکہ اس کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا جبکہ یہ بات خوش آئندہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زوردیاہے اور دنیا کو یہ بھی باور کرانا چاہاہے کہ امن کی کوششوں کو بھارت کمزوری نہ سمجھے کیونکہ پاکستان کوجب بیرونی خطرات کا سامنا ہوتاہے پوری قوم متحد ہوجاتی ہے اس لئے بھارت کوحد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے یہ اس کے اپنے مفادمیں ہے بھارت حدسے آگے گیا تو پاکستان کا اس کا یقینی جواب دے گا ایک جیسے ہتھیار دونوں کے پاس ہیں پاک فوج تو ہروقت جذبہ ٔ شہادت سے سرشاررہتی ہے اس لئے دشمن کو جنگ کی جانب سوچنا بھی نہیں چاہئے،ہمیں یقین ہے عالمی برادری اپنا کردار ادا کریگی بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے یہ کسی مسئلے کا حل نہیں جب بھی بھارت نے جارحیت کی حماقت کی اسے’’ سرپرائز‘‘ملتے رہیں گے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 230 Print Article Print
About the Author: Ilyas Muhammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Muhammad Hussain: 189 Articles with 49200 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: