انتہا پسندی خطرے میں

(Khaleek Kohistani, Karachi)
ہمیں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو پہچاننا ہوگا انکو تمام مذاہب،دین اور قومیتوں سے دور لیجا کر پھیکنا پڑیگا کیونکہ امریکا کےاسکول میں فائرنگ، گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی شہادت، سبین محمود اور مشعال خان کا قتل،بھارت میں گائے ماتا کیلئے مسلمانوں کا قتل عام اور میانمار میں قتل وغارت کسی ایک دین اور قوم کے افعال نہیں۔ انتہا پسندی پوری دنیا کا مسئلہ ہے، ہمیں سرحدوں کے امتیاز سے بالاتر ہوکر ایک جان ہوکے دنیا کو انتہا پسندی سے پاک کرنے کیلئے کام کرنا چاہئیے تاکے دنیا کو نقصان کم ہو اور دنیا شہید ذوالفقار علی بھٹو ،شہیدبینظیر بھٹو، شہید عبداللہ مراد اور شہیدسلمان تاثیر جیسے لوگوں سے محروم نہ ہو

دنیا کے تمام بڑے استاد موسی، عیسی، ابراہیم، اور محمد ص کی تمام تعلیمات صرف ایک بات کیطرف اشارہ کرتی ہیں اورخدابھی یہ چاہتا ہے کے "ہم سب آپس میں امن سے رہیں،ہم خداسے محبت کریں اور آپس میں ایک دوسرے سےمحبت کریں"، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری امریکا میں پوری دنیا سے 1200 لیڈران سے گفتگو کرتے ہوئ۔

71 سال پاکستان کی عمرمیں کبھی بھی عوام نے ریاست اور حکومت کو ایک ساتھ چلتے ہوئے نا دیکھا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس خلاہ کو پرُ کرنے کیلئے ایک عوامی پارٹی بنائی ورنہ عوام سے ووٹ اور حکومتی اداروں کا حق صرفآئین میں تھا اسکے باوجود عوام سے یہ حق غضب کیا جاچکا تھا، لوگوں کو جیالوں کو، سندھیوں کومارتے گئے، لٹکاتےگئے، قید کرتے رہے، اسلام زبردستی مسلط کرتے رہے،ہر کسی عمل کے پیچھے ،ہر سازش کے ماسٹر مائنڈ جو صرفوردی میں ہوتے تھے پھر بعد میں انکے یونیفارمز کواقتدار کی ہوس بھی لگ گئی، بھٹو صاحب نے پاکستان اور پاکستانیوں کو شناخت دی، پاسپورٹ دیا، ووٹ کا حق دیا، حکومتی اداروں تک عام عوام کی رسائی دی، دنیا کا سب سے منفرد نعرہ کسی بھی جماعت کیلئے تعارف کروایا جو کے،"روٹی ،کپڑا اور مکان"۔ تھا۔

بدقسمتی سے پاکستان کے سیاستدانوں کو لٹیرےاور کرپشن جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔پاکستان کو بننے سے اب تک لوٹ کے صرف سیاستدانوں نے کھایا ہے، میں ہر اس شخص سے جو یہ سوچ رکھتا ہے سوال کرنا چاہتا ہوں کے عوامی حکومت کتنے سال متواتر رہی ہے؟ اور کتنے سال مارشل لاء کے نام پر جرنیلوں نے پاکستان کو لوٹا ہے۔ ؟ سوچنا یہ ہے کے پاکستان کو لوٹا کسنے؟

سیاستدانوں نے یا سیاستدانوں کو سیاست سے دور کرنے والوں نے؟

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جرنیلوں کی کابینہ سے بغاوت کرکے ایک منفرد آئیڈیا دیا عمل دیا، راستہ دیا، خواب دیا اور ایک انقلابی جماعت پیپلزپارٹی کو وجود دیا، جس نے ملک میں موجود تمام انتہا پسندی اور مشتعل افراد کی قبروں میں آخری کیل کا کام کیا۔ قائد عوام نے پاکستان کو "آئین پاکستان " کا ایسا تحفہ دیا جو پاکستان میں آخر دم تک رہنے والوں کی نسلوں پر احسان ہوگا۔ قائد عوام نے جو نعرہ لگایا وہ پوری طرح سے انبیاء کرام کی تعلیمات پر پورا اترتا ہے، "سب کا پاکستان اور سب انسان برابر " یہ جملہ کسی کو برداشت ہوا اور کسی نے جھوٹے کیس میں پھنسا کر پاکستان پر احسان در احسان کرنیوالے کو راتوں رات پھانسی دیکر رات کے اندھیرے میں عظیم لیڈر کو دفنادیا، وہ حاکم وقت چاہتا تھا کے بھٹو کا نام تک نا رہے، وہ چاہتا تھا کے بھٹو کا نام لینے والا کوئی نا ہو، اسنے جال بچھایا، المرتضی بنائی اور بھٹو کے دونوں فرزندوں شاہنواز بھٹو اور مرتضی بھٹو کو شہید کروایا،لیکن آج تاریخ اس انتہا پسند جرنیل پر دور بیٹھ کر ہنستی ہے کیونکہ آج بھی بھٹو زندہ ہے اور بھٹو کو مٹانے والامردود کہلاتاہے۔

چئیرمین بلاول ،بھٹو خاندان کے واحد چشم و چراغ ہیں، جو دنیا میں کم عمری میں ہونے کے باوجود جمہوریت ، اعتدال پسند اور خوشحال پاکستان کا خواب لیکر پاکستان کامثبت نظریہ دنیا کو دکھاتے پھرتے ہیں جو شہید رانی بے نظیر بھٹو کا خواب تھا۔ جو اب چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، سابق صدر آصف علی زرداری، بی بی بختاور اور بی بی آصفہ پورا کرینگے۔

انتہا پسندی نے ہمارے اقدار، سیاست اور معیشت کو تباہ کیا ہے، اس سے بچنے اور ملک کو انتہا پسندی سے دور لیجانے کیلئے دنیا میں موجود ہر شخص کو اپنے اقدار پر نظر ثانی کرنی ہوگی ، ہمیں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو پہچاننا ہوگا انکو تمام مذاہب،دین اور قومیتوں سے دور لیجا کر پھیکنا پڑیگا کیونکہ امریکا کےاسکول میں فائرنگ، گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی شہادت، سبین محمود اور مشعال خان کا قتل،بھارت میں گائے ماتا کیلئے مسلمانوں کا قتل عام اور میانمار میں قتل وغارت کسی ایک دین اور قوم کے افعال نہیں۔ انتہا پسندی پوری دنیا کا مسئلہ ہے، ہمیں سرحدوں کے امتیاز سے بالاتر ہوکر ایک جان ہوکے دنیا کو انتہا پسندی سے پاک کرنے کیلئے کام کرنا چاہئیے تاکے دنیا کو نقصان کم ہو اور دنیا شہید ذوالفقار علی بھٹو ،شہیدبینظیر بھٹو، شہید عبداللہ مراد اور شہیدسلمان تاثیر جیسے لوگوں سے محروم نہ ہو۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 80 Print Article Print
About the Author: Khaleek Kohistani

Read More Articles by Khaleek Kohistani: 6 Articles with 1996 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: