مودی کا جنگی جنون اور لوک سبھا الیکشن

(Idrees Jaami, )

تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود بھی بھارت اپنی ضد پر قائم ہے ، پاک بھارت اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا ناسور کم نہیں بلکہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔ دنیا کی دانش چلارہی ہے کہ جنگ نہیں امن ، اشتعال نہیں مذاکرات ، مگر مودی کا ہمنوا بھارتی میڈیا چلا رہا ہے کہ امن نہیں جنگ ،مار دو ، گرا دو ، نیست و نابود کردو ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اجے گوداور تھی کا کہنا ہے کہ بی جے پی یعنی مودی کی جماعت اس کشیدہ ماحول کو ختم نہیں ہونے دے گی اور وہ چاہے گی کہ لوک سبھا کے الیکشن تک داخلی سلامتی کا موضوع اسی طرح گرم رہے ۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی طرف سے کھلی جارحیت کے باوجود پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں خطاب میں واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا امن کے فروغ کی خاطر دو قدم آگے بڑھتے ہوئے بھارتی پائلٹ کو رہا کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک بار پھر بھارتی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ بر صغیر کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں امن ہو اور مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں ۔ عمران خان نے دونوں ملکوں میں جاری کشیدگی کا سبب یہ بتایا کہ جاری کشیدگی کا سبب بھارت میں چند ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات ہیں ۔ عمران خان کا پاک بھارت کشیدگی پر بیانیہ درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ مودی جی سرکار کا پانچ سالہ دور اقتدار ختم ہونے کو ہے لوک سبھا الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کو ہے ۔ پانچ سالہ کارکردگی کی بنا پر الیکشن میں عوام کا سامنا مودی کے لیے بہت ہی مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ دوسری طرف اپوزیشن کے اتحاد نے مودی کی نیندیں حرام کررکھی ہیں ۔ پہلے رام مندر کا ایشو گرمانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں لیکن مودی اور انکی جماعت بی جے پی نے محسوس کیا کہ رام مندر کے سہارے ان کی سیاسی نیا پار نہیں لگنے والی ۔ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیں گڑھ کے حالیہ الیکشن میں ان کی واضح ہار نے ظاہر کردیا تھا کہ نہ رام مندر اور نہ ہی کوئی اور ایشو کام کررہا ہے تو لے دے کہ سرحد پر تناؤ جنگی جنون اور پاگل پن بیانیہ ہی ان کو ان کی جماعت بی جے پی کو الیکشن میں جیت سے ہمکنار کرسکتی تھی ۔ اس لیے بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ لوک سبھا الیکشن سے قبل جنگ کا جنون پیدا ہوگا یا پیدا کیا جائے گا اور مودی کے لیے الیکشن جیتنا آسان ہوجائے گا ۔ تجزیہ کاروں کے تجزئیے بالکل درست ہیں کیونکہ اس سے قبل امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب سے قبل جی جے پی فرقہ وارانہ فسادات کا سہارا لے سکتی ہے ، یہ رپورٹ ڈان کوٹس نے امریکہ کی سینیٹ سلیکٹ کمیٹی آن انٹیلی جنس میں عالمی خطروں پر جور پورٹ پیش کی ہے اس میں بھارت کے حوالے سے کہا ہے کہ نریندر مودی کے دور اقتدار میں بی جے پی کی پالیسیوں کے سبب بی جے پی کی زیر اقتدار کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور آئندہ چند مہینوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات پائے جاتے ہیں ۔ اس رپورٹ میں یہ ذکر بھی کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے بعض لیڈران فرقہ وارانہ منافرت والے بیانات دیتے رہتے ہیں تاکہ یہاں کی اکثریت میں ان کی پارٹی کا ووٹ بنک بنا رہے ۔ امریکی خفیہ محکمہ کی پیش کردہ رپورٹ میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشدیگی اور تناؤ میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ مزید رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوستان میں پارلیمانی الیکشن سے قبل اگر وزیر اعظم مودی کی پارٹی بی جے پی ہندو را شٹر یہ پر زیادہ زور ڈالتی ہے تو بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد بھرکھنے کا بہت زیادہ امکان ہے ۔ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ کے سبب ہندوستانی مسلم خود کو الگ تھلگ محسوس کرسکتے ہیں اور اس سے ہندوستان میں اسلامی شدت پسند تنظیموں کو اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے ۔مذکورہ رپورٹ کو مختصر کرکے طوالت سے بچانا مقصود ہے ۔ رپورٹ کی اہمیت دی جائے یا مسترد کردیا جائے یہ آپ پر منحصر ہے یہ بات قرین قیاس ضرور ہے کہ عام انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ خطوط پر ایسی صف بندی ضرورہوئی ہے جس کا فائدہ حکمران جماعت بی جے پی کو ہوا اس لیے کہ حکمرانی کے لیے یہ جماعت کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور اگر مودی کو لاشوں کے ڈھیر پر بھی اقتدار ملنے کی امید پیدا ہوجائے تو وہ لاشوں کے انبار لگانے سے بھی گریز کرنے والا نہیں ہے ۔ بھارت کی اکیس اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ جنگی صورتحال کا ذمہ دار بھی مودی سرکار کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو فوج کی قربانیوں پر گھٹیا سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ اس ملک میں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ بالاکوٹ میں کتنے دہشت گرد مارے گئے ؟ حقیقت میں بھارتی فضائیہ نے بم کہاں گرائے ؟ وہ نشانے پر گرے تھے ؟ انہوں نے کہاکہ جوانوں کی زندگی انتخابی سیاست سے زیاد ہ قیمتی ہے ۔ ممتا بنر جی نے عالمی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ہوائی حملے کے بعد بتایا گیا کہ 300سے 500تک دہشت گرد مارے گئے ہیں حالانکہ میں نے کئی عالمی میڈیا رپورٹس اور خبریں پڑھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کوئی ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی ۔ نوجوت سنگھ سدھو نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’جس جنگ میں بادشاہ کی جان کو خطرہ نہ ہو، اس کو جنگ نہیں سیاست کہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ناکام حکومتیں جنگ کا سہارا لیتی ہیں آپ سیاسی مقاصد کے لیے اور کتنے بے قصور لوگوں اور جوانوں کی قربانی لوگے ‘‘-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 270 Print Article Print
About the Author: Idrees Jaami

Read More Articles by Idrees Jaami: 14 Articles with 1958 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: