نیازی (۲)

(Asrar Ahmed Raja, London)

پنجاب کی حاکمیت ملی تونیازیوں نے بلوچوں کا قتل عام کیا اور فتح شیر جٹ کے حمایتوں کو بھی چن چن کرتہہ تیغ کیا۔ نیازیوں کی حکمرانی اور عوام الناس سے برتاؤ دیکھے ہوئے گکھڑوں نے اسلام شاہ سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اورنیازیوں کی کوئی مدد نہ کی۔ روالپنڈی اور جہلم کے درمیان علاقہ ڈومیلی میں اسلام شاہ اور ھیبت خان نیازی کے درمیان آخری جنگ ہوئی اور مد مقابل لشکر بہادری سے لڑے ۔ روایات میں ہے کہ ڈومیلی کے نواح میں پھیلے قبرستان اسی جنگ کے آثار ہیں۔ دریائے جہلم اور ڈومیلی کے درمیانی علاقہ میں اسلام شاہ نے خونر یز جنگ کے بعد ھیبت خان نیازی کو میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا ۔ھیبت خان نیازی مختصر دستہ لیکر دریائے کہان کے کناروں پر پھیلے جنگل میں روپوش ہو گیا ۔ اسلام شاہ نے سارے پنجاب سے نیازیوں کا صفایا کر دیا اور انہیں دریائے سندھ کے مغربی علاقوں کی طرف دھکیل دیا۔

ھیبت خان نیازی نے کشمیر کی راہ اختیار کی مگر بد قسمتی سے میرپور اور کوٹلی کے درمیانی علاقہ میں راجپوتوں کے ہتھے چڑھ گیا ۔ انعام کے لالچ میں راجپوتوں کے سردار نے ھیبت خان نیازی کا سرقلم کر وایا اور دہلی جاکر اسلام شاہ کو پیش کیا۔

بعض مورخین نے لکھا کہ نیازیوں کو حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ کے خلیفہ شیخ ابراہیم کی بددعا ہے ۔ ھیبت خان نے شیخ ابراہیم ؒ کو دھوکہ دیا اور بد عہدی کا مرتکب ہوا۔ فتح خان جٹ کے قتل اور بلوچوں کو برباد کرنے پر شیخ ابراہیم ؒ نے ھیبت خان نیازی کے عبرتناک انجام کی پیشین گوئی کی جو سچ ثابت ہوئی۔

ایسا ہی انجام خواص خان کا بھی ہوا۔ اسلام شاہ کے حکم پر اسے قلعہ روہتا س میں قتل کیا گیا ۔ خواص خان قلعہ روہتاس کے باہر اور دھڑ خواص پور ضلع جہلم میں دفن ہے۔

وہ مؤرخین جنہوں نے ھیبت خان نیازی کو فاتح کشمیر بنانے کی بھونڈی کوشش کی وہ بھول گئے کہ 1543ء میں ملتان فتح ہوا اور1544ء تک ھیبت خان شمالی سندھ کے بلوچوں سے نبردآزما رہا وہ پنجاب کی حکمرانی کے دوارن صرف ایک بار اپنے صوبے سے باہر نکلا اور رائے سین کے قلعے کے محاصرے میں شریک ہوا۔فتح خان جٹ کی طرح شیرشاہ نے پورن مل سے بھی امن کا معاہدہ کیا اور بے ہتھیارے پورن مل کو سارے خاندان سمیت ھیبت خان نیازی کے ہاتھوں قتل کروایا دیا۔دوسری بار وہ اسلام شاہ کے خلاف آیا اور1548؁ء میں کشمیری راجپوتوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔

چک تاریخ پر نظر ڈالیں پہلا چک سلطان غازی چک 1554؁ء میں برسر اقتدار ہوا اور1563؁ء تک حکمران رہا ۔یہ وہ زمانہ ہے جب ھیبت خان پنجاب میں اپنی گرفت مضبوط کر رہا تھا اور پے در پے بلوچوں کی سرکشی سے نبردآزما تھا۔ یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ ھیبت خان نے چکوں کو اقتدار دلانے میں کوئی کوشش یا سازش کی۔ امیر عبداﷲ روکڑی اور ڈاکٹر لیاقت نیازی کی کتاب تاریخ میانوالی اور محمد اقبال خان تاجہ خیل نیازی کی تاریخ نیازئی کے علاوہ گزٹ آف میانوالی 1915؁ء میں درج واقعات کی کثیر تعداد روایات پر مبنی ہے یا پھر تاریخ فرشتہ ، مخزن اور احمد یاد گار کی تحریروں سے مواد حاصل کیا گیا ہے ۔بیان کردہ مؤرخین کا تعلق نیازی قبیلے سے ہونے کی وجہ سے وہ اپنے اجداد کی غلطیاں اور مظالم بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے برعکس انگریز اور ہندو مؤرخین نے کسی حد تک توازن برقرار رکھا۔ جا دوناتھ سرکار، کا لکارنچن قانون گو اورڈی سی سرکار کی تاریخوں میں سچائی کا عنصر موجود ہے۔ قانون گونے تحقیق کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے اور اپنی غلطیاں بھی تسلیم کی ہیں۔

آئین اکبری1588؁ء کے مطابق نیازیوں نے ہمایوں اور اکبر سے دوستانہ تعلقات پیدا کر لیے پنجاب کے شمالی مغربی علاقوں میں نیازی پھر سے آباد ہوگئے ۔

اٹھارویں صدی میں حضرت شاہ ولی اﷲ نے نجیب الدولہ کی وساطت سے افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی کومرہٹوں اور جاٹوں کی سرکوبی کی دعوت دی۔ آپ نے لکھا کہ مرہٹوں کے خاتمے کے بعد قلعہ جات جاٹ پر حملہ کیا جائے اور خدا کی مدد و نصرت سے اس فتنے کا خاتمہ کر دیا جائے۔

افغان اور مریٹہ لشکر 14جنوری1761؁ء کے دن پانی پت کے میدان میں صف آرا ہوئے ۔دو دن کی خونریز لڑائی کے بعد مرہٹہ شکست کھا کر میدان سے بھاگے تو افغانون نے انہیں گھیر لیا۔16جنوری1761؁ء کا دن مرہٹوں کی بدترین شکست کادن تھا۔ نظام الملک آصف جاہ ، نواب نجیب الدولہ ، تاج محمد خان بلوچ اور حافظ رحمت خان کے علاوہ خان زمان خان نیازی کے دستوں نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا۔
انگریز ہندوستان آئے تودیگر پختون قبیلوں کی طرح نیازی بھی ملکہ معظم کی فوج کا حصہ بنے ۔پہلی اور دوسری افغان جنگ میں نیازی بھی برٹش آرمی میں شامل رہے ۔ پہلی اور دوسری عظیم جنگوں میں نیازی افسروں اور جوانون نے بہادری کے جوہر دکھلائے اور بڑا نام پیدا کیا۔ ترکوں کے خلاف جنگ میں کیپٹن ( جرنیل ) امیر عبداﷲ خان نیازی کو ٹائیگر نیازی کا خطاب ملا۔1857؁ء کی جنگ آزادی میں نیازیوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ بلوچوں نے رائے احمد کھرل سے مل کر جنگ آزادی لڑی اور لاہور پر قبضہ کر لیا۔ ملتان میں واقع موسیٰ پاک شہید کے متولی پیر صاحب گیلانی نے پشین گوئی کی کہ انہیں خواب میں اشارہ ہوا ہے کہ انگریز کی فتح ہوگی ۔ اس پشین گوئی کو سارے پنجاب اور سندھ کے علاقوں تک پھیلایا گیا ۔جس کے نتیجے میں پیر صاحب کے مریدین جن کی زیادہ تر تعداد جنوبی اور وسطی پنجاب میں تھی رائے احمد خان کھرل کا ساتھ چھوڑ دیا۔

پنجاب کے جاٹوں ،نیازیوں اور غیر راجپوت قبیلوں نے بھی جنگ آزادی سے علیحدگی اختیار کی ۔ پٹھانوں کے پیر جنرل نکلسن نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یہ افواہ پھیلائی کہ جو لوگ رائے احمد نواز کے راجپوت لشکر سے علیحدگی اختیار کرینگے انہیں سرکار کی طرف سے زمین اور اعلیٰ عہدے دئیے جائیں گے ۔جنگ آزای کی ناکامی پر انگریز حکومت نے وعدہ پور اکیا اور بہت سے جاگیر دار ، خان بہادر ، گدی نشین اورثمن دار پیدا کیے جن کی نسلیں آج بھی حکمران ہیں۔ (جاری)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 244 Print Article Print
About the Author: asrar ahmed raja

Read More Articles by asrar ahmed raja: 88 Articles with 42395 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: