بھارت میں ہندو بالادستی اور اقلیتیں غیر محفوظ

(Mehr Basharat Siddiqui, )

 پلوامہ حملہ حقیقت میں بھارتی افواج کے مظالم کا ردر عمل ہے بھائیوں کے سامنے بہنوں اور ماؤں کے سامنے ان کے جوان بیٹوں کی عزتیں پامال اور لاشے اٹھیں گے کے جواب میں پھول نہیں پیش کیے جائیں گے ۔ بھارت کے ظلم و بر بریت نے وہاں کے نوجوانوں کو ماروو یا مر جاؤ جیسے انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے مودی کی انتہا پسند پالیسیاں خطہ میں جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہیں بھارت نے جنگ مسلط کرنے کی حماقت کی توپاکستان کی سر زمین بھارتی فوج کا شمشان گھاٹ بن جائے گی کسی بھی بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستان کا ہر پیر و جوان بھارتی فوج کے سامنے فولاد کی دیوار ثابت ہو گا بھارتی جرنلوں کے مطابق اگر مقبوضہ کشمیر میں 200مجاہدین بر سرے پیکار ہیں تو بھارتی فوج ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تو وہ پاکستانی قوم کا مقابلہ کیسے کرے گی ۔پلوامہ حملہ وہاں کے مقامی نوجوانوں نے بھارتی مظالم سے تنگ آکر کیا ۔ اس کی کڑیاں پاکستان سے ملانا درست نہیں ۔ اگر بھارت نے جنگ مسلط کر نے کی کوشش تو یہ جنگ پورے خطے سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے بھارتی فوج کے ظلم اور بر بریت سے تنگ آکر وہاں کا نوجوان بندوق اٹھانے پر مجبور ہوا اور اب وہاں کی خواتین بھی اس جنگ میں شامل ہو چکی ہیں ظلم اور بر بریت سے کسی مسئلہ کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ اس کے جواب میں مزاحمت جنم لیتی ہے ۔پلوامہ واقعہ نے بھارتی انتہاپسندی بالخصوص ہندوتوا نظریے کو بے نقاب کر دیا، اگرچہ بھارت سیکولرازم کا دعویدار ہے مگر وہاں اصل میں ہندوتوا ہے،بھارت کے تمام قوانین ہندوتوا قوتوں کو سپورٹ کرتے ہیں، ہندوتوا دراصل انتہاپسند ہندو ڈاکٹرائن ہے ،بھارت کشمیر میں دہشت گردی کر رہا ہے۔ بھارت کشمیر کو مسلم ہندو ایشو کے طور پر اجاگر کر رہا ہے،پلوامہ کے واقعہ کے بعد کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی جائیداد تباہ کی جا رہی ہے، اب بھارت نے ہندوتوا نظریے کو اپنایا ہے اس کے تحت اقلیتوں پر مظالم کئے جا رہے ہیں عالمی برادری کو صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے، رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو حق خوداراد یت دیا جائے۔ ایسٹ تیمور کی طرح کشمیر کے سلسلے میں قراردادوں پر عملدرآمد کر کے کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے۔ پلوامہ حملے کے بعد کشمیر کی مسلمانوں پر حملے اور ان کی جائیداد تباہ کی جا رہی ہے۔ بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو بھارت کی سہ فریقی امریکہ اسرائیل، بھارت الائنس تھا۔ جب مودی حکومت قائم ہوئی تو ہندوتوا کو اجاگر کیا گیا، مودی نے ہندوتوا کو اجاگر کیا، ہندوتوا کے کئی ایسے پہلو ہیں جس سے بھارت متاثر ہو رہا ہے۔ ابھی ذات کے ہندو قدرتی ذات کے ہندوؤں پر مظالم کرتے ہیں۔بھارت کے تمام قوانین ہندوتوا قوتوں کو سپورٹ کرتے ہیں،بھارت میں ایکشن بھی اسی نظریے کا شعار ہیں ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے، آسٹریلیا کے مشن کو چلایا گیا تھا ہندوتوا دراصل انتہاپسند ہندو ڈاکٹرائن ہے۔ اس نظریے کے تحت گولڈن ٹمپل پر بابری مسجد پر حملہ ہوا تھا۔ بھارت بھر میں بیف کے ایشو پر مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔ بھارت کشمیر میں دہشت گردی کر رہا ہے۔ بھارت کشمیر کو مسلم ہندو ایشو کے طور پر اجاگر کر رہا ہے حالانکہ یہ حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔بھارت کی کوشش ہے کہ جموں کو الگ کرایا جائے۔ کشمیر عالمی مسئلہ ہے، کشمیر متنازعہ علاقے ہے، سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت اس کا فیصلہ ہوتا۔ کشمیر میں پلوامہ میں مقامی نوجوان نے حملہ کیا جسے فوج نے ظلم کا نشانہ بنایا تھا بھارتی فوج کشمیریوں کو پیلٹ گن سے اندھا بنا رہی ہے،نوجوانوں کو جیپوں سے باندھ کر شہر میں گھمایا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کی گواہی اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں بھی دی گئی ہے۔ جو کام اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے۔ وہی بھارت کشمیر میں کر رہا ہے۔ ایسٹ تیمور اور کشمیر کی یو این قرارداد ایک جیسی ہے مگر کشمیر کی قرارداد پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ پاکستان کشمیر کی تحریک کی سیاسی سفارتی اخلاقی حمایت کر رہا ہے، بھارت کشمیر میں وار کرائم کر رہا ہے،بھارت کشمیر میں عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، بھارت کی عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں،پلوامہ کے واقعے کے بعد کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی جائیداد تباہ کی جا رہی ہے، اب بھارت نے ہندوتوا نظریے کو اپنایا ہے اس کے تحت اقلیتوں پر مظالم کئے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔ دوطرفہ تناظر میں بھارت ہمارا پڑوسی ہے۔ معاشی، سماجی، کلچرل تعلقات ہیں،کئی دہائیوں سے بھارت کے ساتھ تصادم کی صورتحال ہے۔ علاقائی تناظر میں بھارت بلاشبہ ایک بڑا ملک ہے۔ علاقائی سیاست ہی اہم کردار ہے ،بھارت کے پڑوسیوں سے تعلقات علاقائی سیاست پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی بھارت کا اہم رول ہے ،آبادی کے حوالے سے بھارت بڑا ملک ہے۔ عالمی امور میں بھارت اہم رول ادا کر رہا ہے، عالمی تعلقات میں بھارت کی پالیسیز، بھارت کی صورتحال اہم ہے۔ مسلم آبادی کئی مسلمان ممالک سے زیادہ ہے،بھارت کئی دہائیوں سے او آئی سی کے پلیٹ فارم کی رکنیت کی خواہش رکھنا ہے، بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں نئے انتخابات کے تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا اب پھر ہندتوا کی جماعت برسراقتدار آئے گی،گذشتہ پانچ سال میں اس نظریے پر بھارت میں حکومت قائم رہی ،انتہاء پسندوں کو حکومت نے مکمل آزادی دی،گذشتہ پانچ سال کی صورتحال بھارت کے سیکولر ملک ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔پلوامہ حادثے سے پڑوسی ملک نے پاکستان کے خلاف محاذ کھڑا کر رہا ہے۔ بھارت کے اندر کشمیر،میزورام، ناگالینڈ میں شورش ہے بھارت کے اندر کئی طرح کے تضادات ہیں۔''ہندوتوا ''ان میں سے ایک ہے۔بھارتی آئین کے تحت بھارت سیکولر ملک ہے مگر ان دنوں بھارت میں ''ہندوتوا ''کی پالیسی جاری ہے۔''ہندوتوا ''کے تحت جماعتیں ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔''ہندوتوا ''بھارتی مذہبی اصطلاح ہے اس کا مطلب ہے ہندو مذہب کی بالا دستی ہے۔بھارت میں ہندوبالادستی کی وجہ سے مسلمان،عیسائی اور دوسری اقلتیں مظالم کا شکار ہیں۔ہندوتوا نظریے کی امین بی جے پی ہے اس کی کئی ذیلی تنظیمیں جس طرح آر ایس ایس بجرنگ دَل وغیرہ ہیں۔ہندوتوانظریے پر عملدرآمد کے لیے ہندو انتہاء پسند تنظیموں نے ٹرینگ کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں ناگ پور میں اس طرح کے کیمپ قائم ہیں۔وشواہندوپریشد ایسی تنظیم ہے جو بھارت میں قیادت کے لیے ہندو قیادت فراہم کرتی ہے اگرچہ بھارتی آئین کے تحت بھارت سیکولر ملک ہے مگر عملاً ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ہندو راشٹرہ ہے۔بھارت میں اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں ہیں۔بھارت میں اس وقت دراصل بھارتی انتہاء پسند قوتیں حکمران ہیں ان کی وجہ سے اقلیتیں خطرے کا شکار ہے ان کا ایجنڈا ہے کہ بھارتی آئین کے تحت ہندو کو مذہب چھوڑنے پر پابندی ہونی چاہیے 70 ء کی دہائی میں بھارت میں روایتی ہندوازم کو بڑھاوا دیا گیا،بھارتی انتہاء پسند قوتیں آئین کے آرٹیکل 370 ختم کر کے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے370 اور 35 اے کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔بی جے پی کے دور حکومت میں انتہاء پسندی اداروں میں رچ بس گئی ہے بھارت دراصل دہشت گرد سٹیٹ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوان اپنے خون سے نئی تاریخ رقم کررہے ہیں ان نوجوانوں کا خون رنگ لائے گا اور کشمیر آزاد ہوگا۔ پلوامہ میں دھماکہ بھارت کا خود ساختہ اور مودی کی اپنی گرئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی بھونڈی سازش ہے بھارتی وزیر اعظم مودی اپنی انتخابی شکست کے پیش نظر ایسا واقعہ رونما کروا کر اپنی ساکھ کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ بھارت نے پلوامہ واقعہ جیسی سازش پاکستان پر مسلط کرنے کی کوشش کی تو پاکستانی عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہے اور بھارت کو مْنہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی مسلسل ناکامیوں اور تحریک آزادی کشمیر کو دبانے میں بری طرح ناکامی کے بعد پاکستان پر اس کا الزام لگانا مودی کی چال ہے جس سے وہ جنگی جنون پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔مودی سرکار کچھ بھی کرلے اب کشمیر کی آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا اور کشمیری عوام کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 156 Print Article Print
About the Author: Mehr Basharat Siddiqui

Read More Articles by Mehr Basharat Siddiqui: 18 Articles with 3742 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: