جو محو رقص تھی نجانے اب ہے کس قفس میں؟

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

سوشل میڈیا پر ایک وڈیو ہے جس پر کئی ملین ویوز لگے ہوئے ہیں اور اس میں ایک بہت حسین اور معصوم صورت نوجوان لڑکی کسی شادی وغیرہ کے موقع پر مکمل ساتر لباس پہنے سر پر دوپٹہ لئے ہوئے ایک پشتو لوک دھن پر رقص کر رہی ہے ۔ اس کی نظریں نیچے کو ہی جھکی ہوئی ہیں اس نے ایکبار بھی پلکیں اٹھا کر اوپر نہیں دیکھا ۔ اس کے ارد گرد صرف عورتیں اور چھوٹے بچے ہیں اور وہ سب چاروں طرف گھیرا ڈالے ہوئے اس کا رقص دیکھ رہے ہیں ۔ کسی مرد کا وہاں نام و نشان تک نہیں ہے آس پاس کا ماحول خالص دیہاتی اور قدرے غریبانہ سا ہے اور وہاں موجود سب لوگ کیمرے کی موجودگی سے قطعی بےخبر معلوم ہوتے ہیں ۔

صاف معلوم ہو رہا ہے کہ کسی بےغیرت خبیث گندے انڈے نے یہ وڈیو چُھپ کے بنائی ہے اور پھر انٹر نیٹ پر ڈال دی ۔ اور ایسی قبیح حرکت اس فیملی کا کوئی بدخواہ اور حاسد ہی کر سکتا ہے جس نے ایک لمحے کے لئے بھی اس لڑکی کی عزت اور زندگی کے بارے میں نہیں سوچا ۔ جب یہ وڈیو نظر سے گذری تو دل میں پہلا خیال یہی آیا کہ پتہ نہیں یہ بچی ابھی زندہ بھی ہے یا نہیں؟ یا کسی مردے سے بھی بدتر زندگی گذار رہی ہے ۔ کیونکہ اس کا تعلق بھی اسی ماحول اور قبیل سے نظر آتا ہے جس میں چار لڑکیوں کو مبینہ طور پر ایک لڑکے کے رقص پر صرف تالیاں بجانے کے جرم میں قتل کر دیا گیا تھا اور اس ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک سرپھرے کو بھی چند روز قبل کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا ہے ۔ وہاں خواتین کو موبائل فون رکھنا تو کیا اٹینڈ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ۔ ایسے ماحول اور معاشرت سے تعلق رکھنے والے لوگ چاہے جہاں بھی رہتے ہوں انہیں چاہیئے کہ گھر میں ہونے والی کسی تقریب میں اگر کوئی بچی ناچ رہی ہے یا سب مل کر گا بجا رہی ہیں تو اس بات پر کڑی نظر رکھیں کہ کوئی چپکے چپکے ان کی وڈیو تو نہیں بنا رہا؟

اگر کسی کو ایسا کرتا ہؤا پائیں تو پکڑ کر اس کا منہ اور فون دونوں توڑ دیں ۔ ہاں اگر وڈیو مرضی سے اور اعلانیہ بن رہی ہے تو فون کو فروخت کرتے ہوئے اچھی طرح سے جان لیں کہ ڈیلیٹ شدہ تصویریں اور وڈیوز واپس آ جاتی ہیں ۔ کیونکہ انٹر نیٹ پر بہت سی اور بھی ایسی وڈیوز اور پکس موجود ہیں جن کو دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی اور نے دھوکے سے ڈالی ہیں ۔ اس لئے فون میں کوئی ایسی چیز نہ ڈالیں جو بعد میں آپ کو پریشانی میں ڈالنے کا سبب بنے ۔ (رعنا تبسم پاشا)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 168 Articles with 1015313 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Mar, 2019 Views: 4423

Comments

آپ کی رائے