رند کی توبہ

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

دلوں اور نیتوں کا حال تو اللہ جانتا ہے مگر بعض حقائق اتنے نمایاں ہوتے ہیں کہ انہیں جھٹلانا ممکن نہیں ہوتا ۔ شوبز کی دنیا میں ایک نیا فیشن یہ بھی چل نکلا ہے کہ خوب اچھی طرح ایک گندی اور ننگی زندگی گذار کے اور اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا ایک بھاری ریکارڈ انٹرنیٹ پر اپلوڈ کروا لینے کے بعد اچانک ہی خیال آتا ہے کہ یہ سب تو گناہ ہے اور اسلام میں منع ہے ۔ اچانک ہی خدا رسول کی یاد بھی ستانے لگتی ہے پھر ایک پریس کانفرنس کر کے توبہ کی جاتی ہے اور میڈیا کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اور پھر اپنی حرام کی کمائی سے عمرہ اور حج وغیرہ بھی کر لیا جاتا ہے ۔ پتہ نہیں انسانیت اور اخلاقیات کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے کیسے آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے ۔ فحاشی اور عریانی کی دلدل میں دھنستے ہوئے کیوں اپنا ایک مسلمان ہونا یاد نہیں رہتا ۔ صاف لگتا ہے کہ ذہن میں یہ بھی موجود ہوتا ہے کہ ابھی اپنی مرضی کر لو بعد میں اللہ سے معافی مانگ لیں گے وہ بڑا غفور الرحیم ہے ۔ اور ہر طرح کی من مانیاں کر لینے کے بعد تائب ہونے کا بخار چڑھتا ہے ۔ اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس نہ آئے ۔ خدا جب توفیق دے غنیمت ہے ۔ لیکن یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ ثابت قدمی پر قائم رہتے ہیں اور کچھ لوگ نئی راہ کی کٹھنائیوں سے گھبرا کر واپس پرانی راہ پر لوٹ جاتے ہیں ۔ یہاں کئی فیکٹر کار فرما نظر آتے ہیں ایک تو لوگ ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور قدم قدم پر انہیں اپنی تنقید کے نشانے پر رکھ لیتے ہیں اور انہیں ہر مقام پر معیار پر ایک پرفیکٹ مومن کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں خود جتنے مرضی بھٹکے ہوئے ہوں مگر اپنے دنیا دار گنہگار ہونے کا بھی ایڈوانٹیج اپنے پاس رکھتے ہوئے کسی بھی احتساب سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔ پھر اکثر ہی شوبز چھوڑنے والوں کو کوئی متبادل روزگار نہ میسر آنے کے سبب معاشی مسائل بھی درپیش ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ کو رنگ و نور کی دنیا سے زیادہ دیر دوری برداشت نہیں ہوتی ۔

اس سارے معاملے کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کوئی ساری زندگی سر سے دوپٹہ سرکنےنہ دینے کا عہد کر کے کچھ ہی عرصے بعد کسی نیم عریاں فیشن شو میں ناکافی لباس میں جلوہ افروز ہو جائے ۔ کوئی بھرے ہجوم میں قران ہاتھ میں لے کر اپنے پیشے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے اور صرف تین برسوں کے اندر اپنے فیصلے پر پچھتائے خود اپنے ان الفاظ سے صاف مکر جائے جن کا ثبوت وڈیوز کی صورت میں موجود ہے ۔ اور دوبارہ سے سٹیج پر ناچنا چھلانگیں لگانا شروع کردے ۔ جبکہ کسی کو بھی نہ تو معاشی مسائل کا سامنا ہے اور نہ ہی سماج کی طرف سے کسی حوصلہ شکنی کا ۔ انکے لئے اپنی باقی کی زندگی لغویات و فواحشات سے کنارہ کش ہو کے بسر کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ عمر کی نقدی میں ابھی جوانی و جوبن کے کچھ کھنکھتے ہوئے سنہری سکے باقی ہیں جب یہ خرچ ہو جائیں گے تو ایکبار پھر توڑی ہوئی توبہ کو دوہرایا جائے گا اور اس بار کوئی وعدہ شکنی نہ ہو گی ۔ اس طرح کی توبہ کا بھی اللہ کے ہاں کیا مقام ہے یہ تو وہی بہتر جانتا ہے اور وہ بڑا بےنیاز ہے ۔ کیا پتہ کب کون اسے پسند آ جائے ۔ اسی کے عفو و در گذر کے سہارے بے دھڑک لغزشوں سے کنارہ نہیں کرتے ۔ بات وہی ہے کہ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 16926 Print Article Print
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 108 Articles with 709510 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: