خان صاحبان اور تعلیمی بحران

(Prof Liaquat Ali Mughal, Kehroor Pakka)

عجیب افسوس ناک اور دکھ بھرے مناظر تھے کہ مملکت خداداد پاکستان کے معماران قوم اپنے جائز حقوق کیلئے سراپا احتجاج تھے پنجاب بھر میں ڈویژن ضلع اور تحصیل کی سطح پر معماران قوم ہاتھوں میں کتبے بینرز اور پینا فلیکس لئے کبھی کسی وزیر، کسی ایم این اے ایم پی اے یا کسی بھی بڑی سیاسی شخصیت کے دفتر کے سامنے، ان کی رہائشگاہوں کے آس پاس ان کے سیکرٹریٹ کے گرد نواح میں نعرے بلند کرتے اوور دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں یہ اساتذہ وہ تعلیم یافتہ افراد ہیں جو نئی نسل کی آبیاری کررہے ہیں ان کے قلوب و اذہان میں ملک و قوم کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ بھر رہے ہیں ان کو معاشرے کیلئے کارآمد بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں حکومتی تعلیمی اخراجات کا دس گنا بوجھ کم کرکے گورنمنٹ سیکٹر سے بہتر انداز میں نونہالان وطن کو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے دن رات کوشاں ہیں تربیت کی چکی سے گزا کر انہیں باوقار اور سنجیدہ شہری بنانے میں جتے ہوئے ہیں نامساعد حالات قلیل وسائل اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی بے جاپابندیوں اور مطالبات کے باوجود تعلیمی نتائج سے اپنے وجود کو ثابت کررہے ہیں اور باور کرارہے ہیں کہ اگر ہمیں بہتر اندازمیں حکومت کی مالی و اخلاقی سپورٹ مل جائے تو حکومت کیلئے سفید ہاتھی بنے گورنمنٹ کے تعلیمی سیکٹرکے مقابلے میں پہلے سے بھی زیادہ شاندار نتائج دیں گے لیکن افسوس صد افسوس کہ ان کے عملی اقدامات ، علمی نتائج اور مثالی تعان کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا جارہا ہے اور مختلف قسم کی تعلیم کش لایعنی پابندیوں میں جکڑ کر نہ صرف ان اساتذہ کا معاشی قتل کیا جارہا ہے بلکہ تعلیم کے متلاشی و متمنی غریب طلبا و طالبات سے ا ن کے بنیادی حقوق بھی چھیننے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔

اس وقت پیف کے تحت پرائیویٹ سکولوں میں پنجاب بھر میں35 لاکھ سے زائد نرسری سے لیکر میٹرک تک کے غریب و نادار طلباوطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں اور اس مد میں قبل ازیں16 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جو کہ اب گھٹ کر فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر12 ارب کردیئے گئے ہیں،کے باوجود تعلیمی ضروریات کو انتہائی بہتر اور منظم انداز میں پورا کیا جارہا ہے جبکہ سرکاری سکولوں کے طلبا وطالبات کو پڑھانے کیلئے260 ارب روپے کی خطیر لاگت خرچ کی جارہی ہے جس سے سوا کروڑ کے لگ بھگ طلبا وطالبات کو زیور تعلیم سے بہرہ مند کیا جارہا ہے اعدادو شمار ثابت کرتے ہیں کہ پیف پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں سرکاری اخراجات دوسو گنا زیادہ ہے260ارب اور12 ارب میں بہت بڑا اورنمایاں فرق ہے جبکہ سرکاری سکولوں کا انفراسٹرکچر الگ ہے اسی طرح اگربات کی جائے پیف کے تحت چلنے والے پرائیویٹ سکولوں کی تو ان میں فی بچہ اوسطا600 روپے ماہانہ میں پڑھایا جارہا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں یہ لاگت کم و بیش 3000 روپے بنتی ہے اور سب سے اہم بات نتائج ہیں جس میں پرائیویٹ سیکٹر ہر لحاظ سے آگے اور نمایاں ہے۔

اب بات ہوجائے حکومت کے پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ ان نمائندوں کی جو بیوروکریسی کی انگلیوں پر چڑھ کر پیف سکولوں کو دیئے جانے والے بارہ ارب روپوں کو بھی ہضم کرنے کے چکر میں سرگرداں وپیچاں ہیں حکومت نے پیف سکولوں پر نئے داخلوں کی پابندی لگادی ہے اور سکولوں کو کیپ بھی کردیا گیا ہے کہ موجودہ فنڈز سے کسی بھی صورت زائد پے منٹ نہیں کی جائے گی جس کا واضح مقصد و مطمع یہی دکھائی دیتا ہے کہ پیف سکولوں کو آہستہ آہستہ مسائل کا شکار بناکر بند کرنے کی طرف دھکیلا جائے لیکن بیوروکریسی اور سرکاری مافیا اس کے خوفناک نتائج سے بے خبر ہیں یا پھر کبوتر کی مانند آنکھ بندکرکے سب اچھا کی رپورٹ پر عمل پیرا ہیں کیونکہ پیف سکولز کی بندش یا داخلوں پر پابندی سے براہ راست سرکاری سکولوں پر مزید بوجھ بڑھے گا اور مسائل و مشکلات میں اضافہ بھی ہوگاحکومت کے تعلیمی اخراجات کا تیسرا بڑا حصہ جو کہ پیف کے پرائیویٹ سکولز نے بچایاہوا ہے ایک عفریت کی طرح سرکاری تعلیمی بجٹ کو نگل جائے گا جس سے ملک بھرمیں تعلیمی بحران کے پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

عمران خان کی حکومت اور بالخصوص پنجاب حکومت کے تعلیمی وزراء کو اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پہلا قدم یہ اٹھانا چاہئے کہ پرائیویٹ سکولوں کے بجٹ میں اضافہ کریں سرکاری سکولوں کے بجٹ میں کمی کریں کیونکہ جب قلیل وسائل اور نامساعد حالات میں پرائیویٹ سیکٹر شاندار نتائج دے سکتا ہے تو پھر کیوں خوامخواہ کا بوجھ اٹھایا جائے دوسرا یہ کہ سرکاری سکولوں کے کرتا دھرتاؤں پر چیک اینڈ بیلنس اس طور رکھا جائے کہ ہیڈماسٹرز و ہیڈ مسٹریس کو بااختیار بنادیا جائے اورآٹھ دس اتھارٹیز کے انڈر میں دینے کی بجائے کسی ایک بااختیار اتھارٹی کو دیا جائے دیگر بے مقصد چین کو ختم کردیا جائے جس سے تعلیمی اخراجات میں بھی نمایاں کمی ہوگی ۔تیسرے یہ کہ نتائج کی بنیاد پر سزا و جزا کے عمل جاری رکھا جائے اور آخر میں سب سے اہم بات کہ اگر بات فنڈز کی کمی کی ہے تو پھر اسمبلی کے ممبران کیلئے تنخواہوں مراعات اور الاؤنسز میں جو اضافہ کیا گیا ہے اسے واپس کرتے ہوئے پیف کے تحت چلنے والے پرائیویٹ سیکٹرپر صرف کیا جائے تو اس کے انتہائی شاندار اور دوررس نتائج حاصل ہونگے اور پاکستان کی غریب عوام اور اساتذہ آپ کو دعائیں دیں گے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 144 Print Article Print
About the Author: liaquat ali mughal

Read More Articles by liaquat ali mughal: 238 Articles with 101058 views »
me,working as lecturer in govt. degree college kahror pacca in computer science from 2000 to till now... View More

Reviews & Comments

Language: