خادم یا مخدوم

(Sheikh Talal Amjad, )

 دو خبروں نے مجھے پریشان کردیا ہے ،ایک یہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے عوام پر مہنگائی کامزید بوجھ پڑنے کی خبر سناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اشیائے صرف کے نرخوں میں مزید اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے عوام چیخیں گے، حسب دستور انہوں نے موجودہ مہنگائی کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو ٹھہراتے ہو ئے کہا توانائی کے شعبے میں 450ارب روپے خسارہ کو پورا کرنے کے لئے ہم عوام کو مستقبل قریب میں بھی رلائیں گے لیکن اس کے ساتھ ایک بہت ہی بڑی خبر یہ ہے کہ موجودہ مہنگائی کو دیکھتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی ماہانہ تنخواہوں میں اضافے کا بل 21 گھنٹوں میں منظور کرلیاگیا،تنخواہوں اور مراعات میں یہ اضافہ تقریباً130 فیصد ہے۔ یاد رہے کہ ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات 83 ہزار سے بڑھا کر تقریبا 2 لاکھ روپے تک کردی گئی ہیں اور عوامی نمائندوں کی کار کردگی کا اندازہ لگائیں کہ صوبائی مجلس قانون ساز نے تنخواہوں میں اضافے میں اتنی تیزی دکھائی ہے کہ صرف 21 گھنٹوں میں 145 فیصد کے قریب اضافہ منظور کرلیا گیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے اراکین کی بنیادی تنخواہ 18ہزار سے بڑھا کر 80ہزار روپے ماہانہ کردی گئی جبکہ روزانہ الاؤنس 1ہزار سے بڑھا کر 4 ہزار روپے اورصوبائی اسمبلی کے ممبران کیلئے ہاؤس رینٹ29ہزار سے بڑھاکر 50ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے اس کے علاوہ یوٹیلیٹی الاونس 6ہزار سے بڑھاکر 20ہزار اور مہمانداری کا ماہانہ الاؤنس 10ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کردیا گیا۔ یاد رہے کہ ممبران پنجاب اسمبلی اس وقت 83ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات لے رہے تھے مگر نئے بل کی منظوری کے بعد ہر رکن کو ایک لاکھ 92ہزار روپے تنخواہ اور مراعات ملیں گی۔شنید ہے کہ اس موقع پر نہ تو کورم پورا ہونے کی فکر تھی اور نہ ہی کسی حزب اختلاف کی چیختی چلاتی اور چنگھاڑتی آواز سپیکرصوبائی اسمبلی کے کانوں میں پڑی اور نہ ہی کسی کو اپنے اعلیٰ رہنماؤں کی بیماری اور جیل یاد تھی ، صرف یاد تھا تو یہ کہ من و سلویٰ میں اضافہ ، بل کے منظور ہوتے ہی جناب سپیکر کی تنخواہ 59ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے اور صوبائی سربراہ یعنی وزیر اعلیٰ پنجاب کا ماہانہ مشاہرہ 59ہزار کی بجائے 3لاکھ 50ہزار روپے ماہانہ ہو گیا ہے، عوام کے منتخب نمائندے خادم نہیں مخدوم ہیں ۔عوام کی خدمت کیلئے سیاست میں آنے کادعویٰ کرنیوالے مراعات کیلئے للچاتے ہیں۔ یاد رہے کہ سابقہ حکومت نے بھی 2016ء میں ان ارکان کی تنخواہ میں ہوشربا اضافہ کیا تھا ،اسمبلی کے ارکان کو اس کے علاوہ بھی بہت سی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر اسمبلی میں کی ہوئی بات پر ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی مقدمہ ہو سکتا ہے، ارکان اسمبلی کو اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ اسمبلی کی کارروائی کے دوران ارکان کو گرفتار نہیں کیا جاسکتااور اگر گرفتار کرنا ضروری ہو تو اسپیکر سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ملک کے کرتا دھرتا اور قانون ساز اراکین سے کوئی پوچھے کہ یہ اضافہ کیوں کیا گیا ؟، اس لئے ناں کہ ملک میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان ان اہل زر کو بھی بہا نہ لے جائے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام اراکین میں سے کون سا رکن ایسا ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے یا جو جھونپڑی میں زندگی گزار رہا ہے ، دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ تمام اراکین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے کون سی خدمت سر انجام دے رہے ہیں جس کی بنا پر مدینہ جیسی ماڈل ریاست کا خواب دیکھنے والوں کو سیاسی نمائندوں اور عوامی خدمتگاروں کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا پڑا ، وزیر اعظم ہاؤ س کی گاڑیوں کی نیلامی اور اس کو یونیورسٹی بنانے سے لے کر گورنر ہاؤ س کی دیواریں گرانے تک ہماری بھولی بھالی عوام اتنا خوش تھی کہ آنکھوں میں خواب سجائے ایک ایشین ٹائیگر پاکستان کے خواب دیکھنے لگی۔ شاید ہمارے وزیر اعظم نے اسلامی تاریخ کا زیادہ مطالعہ نہیں کیا لیکن میں یاد دلاتا چلوں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ کی تنخواہ کا سوال آیا، آپ ؓنے فرمایا’’مدینہ میں ایک مزدور کو جو یومیہ اْجرت دی جاتی ہے، اْتنی ہی میرے لیے مقرر کرو‘‘۔ایک صحابی بولے کہ اس میں آپؓ کا گزارہ کیسے ہو گا؟حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا’’میرا گزارہ اْسی طرح ہو گا جس طرح ایک مزدور کا ہوتا ہے۔ ہاں! اگر گزارہ نہ ہوا تو میں مزدور کی اْجرت بڑھا دوں گا‘‘ زیادہ دور نہیں جاتے پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے جب اپنے بچوں کے لئے عید کے کپڑے بنانے تھے تو تنخواہ اتنی کم تھی کہ بچوں کے لئے عید کے کپڑے نہیں لے سکتے تھے تو بیت المال کے خازن سے کہا کہ مجھے اگلے ماہ کی تنخواہ ایڈوانس دے دیں تا کہ میں اپنے بچوں کے کپڑے لے سکوں تو خازن نے تاریخی جواب دیا کہ "آپ مجھے لکھ کر دے دیں کہ اگلے ماہ زندہ رہیں گے تو میں آپ کو تنخواہ ایڈوانس دے دیتا ہوں "یاد رہے کہ تین بر اعظموں کے خلیفہ کے لاکھوں مربع میل کی عمل داری میں کوئی زکواۃ لینے والا نہیں تھا ۔

یاد رہے کہ مذکورہ تنخواہوں میں اضافہ اس ملک کے حکمرانوں کے لئے ہوا ہے جس کی 30سے 35فیصد لوگوں کی آبادی کی یومیہ آمدنی 1.25ڈالر سے کم ہیجن کے لئے عرصہ حیات بہت تنگ ہے ، جو کبھی عام ہسپتالوں کے فرش پر ایڑیاں رگڑ کر مر رہے ہیں یا پھر غربت کے ہاتھوں خود کشی پر مجبور ہیں ، جن کا جینا ایک طرف تو مہنگائی نے حرام کیا ہوا ہے تو دوسری طرف حکمرانوں کے اللوں تللوں نے اور یہ وہی عوام ہیں جن کو عرصہ ستر سال سے روٹی ، کپڑا ور مکان کے نام پر صرف نعرے ہی دئے ہیں ، پہلے خادم اعلیٰ نے لوٹا تو اب کسی اور کی باری ہے ۔ عوام تو اس وقت خوش ہوتی جب سادگی کی دعوے دار موجودہ حکومت اس بل کی کاپیاں پھاڑ کر جناب سپیکر کے آگے پھینک دیتی اور باہر آکر میڈیا پہ یہ احتجاج ریکارڈ کرواتی کہ سابقہ حکومتی اراکین چور اور لٹیرے تھے لیکن ہم قوم کے جان و مال کے محافظ ہیں اس لئے ہماری تنخواہ ایک چوکیدار سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے لیکن یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اب باری چوروں کے یار گرہ کٹ کی ہے جن کوقومی اور عوامی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات عزیز ہیں ۔آج ایک بار پھر بادشاہ کے تخت کے چاروں پایوں کے نیچے غریب کے خواب دم گھٹ کر مرنے پہ مجبور ہیں ۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی حکمرانوں کے اجلاس کے صرف چائے ، بسکٹ ایک سیاسی ڈھونگ نظر آ رہے ہیں ۔

شواہد و عواقب اس بات کے گواہ ہیں کہ اپنی تجوریاں بھرنے والے نہ صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے اکٹھے ہونے میں دیر نہیں لگاتے بلکہ حکومتی انصاف کی گنگا میں غوطہ زن ہو کر پاک و صاف بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ کچھ خبریں حکومتی حلقوں میں موجود کرپٹ عناصر کی موجودگی کی بھی آ رہی ہیں ۔آئے روز اخبارات کی زینت بنی فاقہ کشی کے ہاتھوں خود کشی اور کم عمر بچوں کو غربت کی وجہ سے فروخت کرنے جیسی دل ہلا دینے والی یہ خبریں نہ صرف ہمارے حکمران طبقے کے لئے تازیانہ ہیں بلکہ موجودہ حکمرانوں کے لئے بھی ایک چیلنج سے کم نہیں جو تبدیلی کے نعرے لگانے اور قمیض کے سوراخ دکھانے سے حل نہیں ہوں گے ۔ سابقہ حکمرانوں کو چور کہنا اور ثابت کرنا گو اب ایک عوامی کھیل بن چکا ہے لیکن ہر نا اہلی کا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈالنے کی یہ روش اب تبدیلی مانگتی ہے اس لئے موجودہ حکومت کو چاہئے کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدمات پہ توجہ دے تاکہ غربت ، بیماری اور جہالت کی سخت دھوپ میں بلبلاتی اور تڑپتی عوام کو کھوکھلے نعروں کے اس سراب سے نجات مل سکے۔ کسی شاعر نے پاکستانی حکمرانوں کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے
عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 147 Print Article Print
About the Author: Sheikh Talal Amjad

Read More Articles by Sheikh Talal Amjad: 17 Articles with 5714 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: